دلاور علی آزر

قطعہ

عجیب سانحہ گزرا لبوں پہ پیاس لیے

عجیب سانحہ گزرا لبوں پہ پیاس لیے
ندی کے سامنے سادات قتل ہوتے رہے

کُشادہ کرتے رہے ہم پرائے شہروں کو
اور اِس میں اپنے مضافات قتل ہوتے رہے

دلاور علی آزر

قطعہ

بڑھا لے اپنی سواری نہ اب دکان لگا

بڑھا لے اپنی سواری نہ اب دکان لگا
وہ صور پھونک رہا ہے زمیں سے کان لگا
سلگتی ریت پہ کٹ کر گرا وجود اس کا
وہ تیغ کھینچ رہا تھا کہ تیر آن لگا
دلاور علی آزر

قطعہ

ہیں جمع سننے والے الاؤ کے اردگرد

ہیں جمع سننے والے الاؤ کے اردگرد
کردار جل رہے ہیں کہانی میں آگ ہے
شکلیں بدل رہی ہے بہ تدریج یہ ہوس
بچپن میں شعلہ رو تھی، جوانی میں آگ ہے
دلاور علی آزر

Advertisement

ہمارا فیس بک پیج

Blog Stats

  • 32,332 hits

Advertisement

Advertisement

Advertisement