کون رکھتا ہے یہاں کیسی طلب واقف ہیں

کون رکھتا ہے یہاں کیسی طلب واقف ہیں
ہم عطایانِ محبت ہیں یہ سب واقف ہیں

قتل کردیں نہ کہیں لوگ یہ آتے جاتے
راہ میں بیٹھے ہیں اوقات سے سب واقف ہیں

دبدبے میں نہ کسی شخص کے ہم آئیں گے
کون رکھتا ہے یہاں کیسا نسب واقف ہیں

باوضو ہو کے ترے وصل کو ہم آئیں گے
ہے محبت میں کہاں حدِ ادب واقف ہیں

ساتھ دشمن ہیں تو دیواریں سلامت ہیں سبھی
کوئی اپنا ہی لگاتا ہے نقب واقف ہیں

تیرے چہرے پہ سیاہی نہیں اتری یونہی
دل میں رکھا ہے کہیں بغضِ رجب واقف ہیں

کس نے امید کے لاشے کو اٹھایا فیضی
اور کس گھر میں رہی بزمِ طرب واقف ہیں

فیضان فیضی

موضوعات

تبصرے کیجئے

Click here to post a comment

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.