کسی سے پھر عقیدت ہو رہی ہے

کسی سے پھر عقیدت ہو رہی ہے
محبت میں خیانت ہو رہی ہے۔

وہ مجھ سے اتنا تو بدظن نہیں تھا
کہیں سے تو شرارت ہو رہی ہے۔

اکیلا میں نہیں قائل ہوس کا
یہ دو طرفہ حماقت ہو رہی ہے۔

بدن تسکین حاصل کر چکے ہیں
ابھی تھوڑی ندامت ہو رہی ہے۔

میں ذروں میں بکھرتا جا رہا ہوں۔
مجھے پھر سے محبت ہو رہی ہے۔

باسط قمر

موضوعات