کالی سیہ گھٹا ہے پکوڑے بنائیے

کالی سیہ گھٹا ہے پکوڑے بنائیے
بارش کا سلسلہ ہے پکوڑے بنائیے

امّاں نے بھی کہا ہے پکوڑے بنائیے
ابا کی بھی رضا ہے پکوڑے بنائیے

بوندوں کی جلترنگ سے کیسا سماں ہے آج
موسم بھی کہرہا ہے پکوڑے بنائیے

بیسن بھی گھر میں رکھا ہے کچھ سبزیاں بھی ہیں
اور تیل بھی دھرا ہے پکوڑے بنائیے

کیا جانیے یہ سلسلہ تھم جائے کس گھڑی
موسم کا کیا پتہ ہے پکوڑے بنائیے

رکنے کا جب نہ نام لے برسات کی جھڑی
اس کی یہی دوا ہے پکوڑے بنائیے

دو چار دوست میں نے بلائے ہیں چائے پر
اُن کا بھی مُدّعا ہے پکوڑے بنائیے

آیا تھا ایک مردِ قلندر گلی میں آج
وہ بھی یہ کہگیا ہے پکوڑے بنائیے

برگر پِزا بھی گرچہ ہیں خوش ذائقہ مگر
اِن کا الگ مزہ ہے، پکوڑے بنائیے

عالم کا آج، ذہنی توازن تو ٹھیک ہے ؟
ہِر پِھر کے کہرہا ہے ‘پکوڑے بنائیے’

م ش عالم

موضوعات