محبتوں پہ بہت اعتماد کیا کرنا

محبتوں پہ بہت اعتماد کیا کرنا
بھلا چکے ہیں اسے پھر سے یاد کیا کرنا

وہ بے وفا ہی سہی اُس پہ تہمتیں کیسی؟
ذرا سی بات پہ اتنا فساد کیا کرنا

مخالفوں سے تو ممکن ہے دوستی اپنی
منافقوں سے مگر اتحاد کیا کرنا

مسافتیں ہی پہن لیں تو منزلوں کے لیے
اب اعتبار َ رخ ِ گرد باد کیا کرنا

نگاہ میں جو اترتا ہے دل سے کیوں اترے
دل و نگاہ میں پیدا تضاد کیا کرنا

میں اس لیے اُسے اب تک نہ چھو سکا محسن
وہ آئینہ ہے اسے سنگ زاد کیا کرنا ۔ ۔ ۔ ۔

( محسن نقوی )