لفظ کچھ دائیں بائیں کرتا ہے

سوچا عید کے چوتھے روز قارئین کے ذوق اور ذائقے کو سیاسی موضوعات سے بوجھل کرنے سے بہتر ہے کہ علمی و ادبی لطائف سے محظوظ کیا جائے سو پڑھیے اور لطف اٹھائیے۔
٭۔سرسید احمد خان ٹرین میں سفر کر رہے تھے کہ ان کے ڈبے میں ایک انگریز آ کر بیٹھ گیا۔ کچھ دیر بعد انہیں بھوک محسوس ہوئی تو انہوں نے اپنا ناشتہ دان کھول کر رکھا اور ہاتھ دھونے کے لئے غسلخانہ میں چلے گئے‘ لوٹ کر آپ نے ناشتہ دان غائب پایا۔
دراصل انگریز نے ان کی غیر حاضری میں ناشتہ دان چلتی گاڑی سے باہر پھینک دیا تھا۔ سرسید کو غصہ تو بہت آیا لیکن وہ پی گئے اور خاموش بیٹھے رہے۔ کچھ دیر بعد انگریز اپنی سیٹ سے اٹھا اور ٹائلٹ میں چلا گیا۔ انگریز کا ہیٹ سیٹ پر رکھا رہا۔ سرسید فوراً اٹھے۔ ہیٹ پکڑا اور چلتی گاڑی کی کھڑکی سے باہر پھینک دیا۔ انگریز لوٹا اور ہیٹ کو اپنی جگہ نہ پایا تو بولا:’’ویل جنٹلمین ادھر ہمارا ہیٹ تھا کدھر گیا۔‘‘سرسید نے فوراً کہا ’’تمہارا ہیٹ میرے ناشتہ دان کے تعاقب میں گیا ہے۔‘‘
٭۔ ایک دن حضرت داغ دہلوی نماز پڑھ رہے تھے کہ ان کا ایک شاگرد آیا۔استاد کو نماز پڑھتے دیکھا تو واپس چلا گیا۔ اسی وقت داغ دہلوی نماز سے فارغ ہوئے تو نوکر نے کہا فلاں صاحب آئے تھے۔ داغ نے نوکر سے کہا‘دوڑ کر بلا لائو۔ جب وہ صاحب آئے تو داغ نے کہا‘ آپ آ کر چلے گئے؟ شاگرد نے کہا’ آپ نماز پڑھ رہے تھے۔ داغ کہنے لگے ‘ جناب ہم نماز پڑھ رہے تھے‘ٔ لاحول تو نہیں پڑھ رہے تھے جو آپ بھاگ گئے۔
٭۔ ایک مرتبہ سرسید ‘ مولانا شبلی نعمانی اور سید ممتاز علی ایک ہی کمرے میں بیٹھے تھے۔ سرسید احمد خان کا ایک بہت ضروری کاغذ گم ہو گیا وہ اسے مسلسل تلاش کر رہے تھے۔ مگر ملتا نہ تھا۔ اتفاقاً وہ کاغذ شبلی نعمانی کو مل گیا۔ انہوں نے مذاق مذاق میں اس پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔ سرسید احمد خان نے ان کو ایسے کرتا دیکھ لیا۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے فرمایا:؟؟بڑے بوڑھوں سے سنتے آئے تھے کہ جو چیز گم ہو جائے۔ شیطان اسے اپنے ہاتھ کے نیچے دبا لیتا ہے۔ حضرت مولانا ذرا دیکھئے کہیں میرا مطلوبہ کاغذ آپ کے ہاتھ کے نیچے تو نہیں۔‘‘
٭۔ بابائے اردو مولوی عبدالحق ریل گاڑی میں سفر کر رہے تھے کہ ڈبے میں بیٹھے ہوئے کسی مغرب زدہ شخص نے ان سے کہا:’’کیا میں آپ کا نام پوچھ سکتا ہوں؟‘‘
مولوی عبدالحق نے جواب دیا:
’’جی ہاں ‘ پوچھ سکتے ہیں۔‘‘
اس کے بعد دونوں خاموش ہو گئے اور بات آئی گئی ہو گئی۔بعد میں مولوی صاحب کے کسی عقیدت مند نے ان سے دریافت کیا۔‘‘مولوی صاحب‘ آخر آپ نے اپنا نام انہیں کیوں نہیں بتایا تھا؟‘‘
مولوی صاحب فرمانے لگے:
’’صاحب‘ گفتگو کا یہ کیا انداز ہوا؟ ہماری زبان میں اس طرح نہیں کہتے‘ بلکہ یوں کہتے ہیں کہ ‘‘آپ کا اسم شریف یا جناب کا نام؟‘‘
ان صاحب نے اپنی روایات کو سمجھے بغیر انگریزی کے اس جملے کا محض لفظی ترجمہ کر دیا کہ:
May I Know your name
اور جتنی بات انہوں نے پوچھی میں نے اس کا جواب دے دیا۔‘‘
٭۔ ایک محفل میں مولانا آزاد اور مولانا ظفر علی خان حاضر تھے۔ مولانا آزاد کو پیاس محسوس ہوئی تو ایک بزرگ جلدی سے پانی کا پیالہ لے آئے۔ مولانا آزاد نے ہنس کر ارشاد کیا:
لے کے اک پیر مغاں ہاتھ میں مینا‘ آیا
مولانا ظفر علی خان نے برجستہ دوسرا مصرع کہا:
مے کشو!شرم‘کہ اس پر بھی نہ پینا آیا
٭۔ ایک دفعہ مولانا گرامی علامہ اقبال کے مہمان تھے۔ایک روز علی بخش سے کہا:‘‘علی بخش!آج کل گوبھی نہیں ملتی؟‘‘
عرض کیا:’’حضرت بہت ملتی ہے۔‘‘
حکم دیا:’’شام کو گوبھی ضرور پکانا۔‘‘
شام کو جب گوبھی پک کر سامنے آئی تو پوچھنے لگے:’’یہ کیا ہے؟‘‘
کہا گیا:’’گوبھی۔‘‘
بگڑ کر کہنے لگے:صبح بھی گوبھی۔شام گوبھی۔دن بھی گوبھی۔ رات بھی گوبھی۔بڈھے آدمی کو بادی سے مار ڈالو گے کیا:‘‘
علی بخش نے کہا:’’آپ نے ہی تو حکم دیا تھا۔‘‘
علامہ صاحب نے علی بخش سے کہا:’’تم چپ رہو۔ صبح گوبھی کی فرمائش کرنے کے بعد مولانا گرامی اب تک اپنے تصور میں خدا جانے کتنی دفعہ گوبھی کھا چکے ہیں۔ تم بھی سچے ہو یہ بھی سچے ہیں۔‘‘
٭۔ علامہ اقبال سے ان کے ایک دوست نے کہا:’’آپ کی نظم پر ایک صاحب سخت تنقید کر رہے تھے۔ اقبال نے پوچھا’’کیا وہ شاعر ہیں‘‘ دوست نے جواب دیا’’نہیں‘‘ اقبال نے سنجیدگی سے کہا ’’جو لوگ کچھ کرتے ہیں‘ وہ اکثر خاموش رہتے ہیں۔لیکن جو کچھ نہیں کرتے وہ صرف تنقید کرتے ہیں۔‘‘
٭۔جوش نے ملیح آبادی نے پاکستان میں ایک بہت بڑے وزیر کو اردو میں خط لکھا۔ لیکن اس کا جواب انہوں نے انگریزی میں دیا۔ جواب میں جوش نے انہیں لکھا:’’جناب والا’ میں نے تو آپ کو اپنی مادری زبان میں خط لکھا تھا۔ لیکن آپ نے اس کا جواب اپنی پدری زبان میں تحریر فرمایا ہے۔‘‘
٭۔ کسی مشاعرے میں ایک نو مشق شاعر اپنا غیر موزوں کلام پڑھ رہے تھے۔ اکثر شعراء آداب محفل کو ملحوظ رکھتے ہوئے خاموش تھے لیکن جوش صاحب پورے جوش و خروش سے ایک ایک مصرعے پر دادو تحسین کی بارش کئے جا رہے تھے۔ گوپی ناتھ امن نے ٹوکتے ہوئے پوچھا:’’قبلہ ‘ یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟‘‘
جوش صاحب نے بہت سنجیدگی سے جواب دیا:’’منافقت!‘‘اور پھر داد دینے میں مصروف ہو گئے
٭۔ ایک مرتبہ جوش ملیح آبادی اپنے چند بے تکلف دوستوں میں بیٹھے جوانی کی محبوبائوں کا تذکرہ کر رہے تھے کر فرط جذبات سے ان کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ اسی اثنا میں ان کی بیگم کمرے میں داخل ہوئیں اور رونے کا سبب پوچھا‘ انہوں نے جواب دیا:’’بس اماں مرحومہ یاد آ گئیں تھیں۔‘‘
٭۔ کسی نے چراغ حسن حسرت سے کہا:’’منٹو نے آپ کے بارے میں لکھا ہے‘آپ تو محض ایک لغت ہیں جس میں مشکل الفاظ کے معنی دیکھے جا سکتے ہیں۔‘‘حسرت نے تلملا کر جواب دیا:’’اور منٹو ایک فحش ناول ہے جس کے مطالعہ سے جنسی یتیم اپنی پیاس بجھاتے ہیں۔‘‘
٭۔ اختر شیرانی لاہور کی ایک دکان کالج بوٹ شاپ انارکلی میں جوتے خریدنے پہنچے‘دکاندار نے ان کے سامنے جوتوں کا ڈھیر لگا دیا۔ اختر شیرانی نے ایک ایک جوڑا دیکھا مگر کوئی جوڑا پسند نہیں آیا۔ قیمتوں پر بھی انہیں اعتراض تھا۔ دوکاندار طنزیہ لہجے میں بولا:
اتنے جوتے پڑے ہیں‘ آپ اب بھی مطمئن نہیں ہوئے؟‘‘
اختر شیرانی ایک جوڑا پہنتے ہوئے بولے:
’’بارہ روپے لیتے ہو یا اتاروں جوتا؟‘‘
شاید مجھے نکال کے پچھتا رہے ہوں آپ
محفل میں اس خیال سے پھر آ گیا ہوں میں
یہ شعر عبدالحمید عدم کا ہے اور اس کی پیروڈی ناصر کاظمی نے کی تھی:
شاید مجھے نکال کے کچھ ’’کھا ‘‘رہے ہوں آپ
محفل میں اس خیال سے پھر آ گیا ہوں میں
اس کے جواب میں عدم نے ناصر کی زمین میں یہ رباعی کہی تھی:
کوا کیوں کائیں کائیں کرتا ہے
طوطا کیوں ٹائیں ٹائیں کرتا ہے
شعر ہوتے ہیں میرؔ کے ناصر
لفظ کچھ دائیں بائیں کرتا  ہے

ارشاد احمد عارف

تبصرے کیجئے

Click here to post a comment

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.