شُکر کِیا ہے ان آنکھوں نے’ صبر کی عادت ڈالی ہے

شُکر کِیا ہے ان آنکھوں نے’ صبر کی عادت ڈالی ہے
اس منظر کو غور سے دیکھو، بارش ہونے والی ہے

سوچا یہ تھا وقت ملا تو ٹوٹی چیزیں جوڑیں گے
اب کونے میں ڈھیر لگا ہے، باقی کمرا خالی ہے

بیٹھے بیٹھے پھینک دیا ہے آتش دان میں کیا کیا کچھ
موسم اتنا سرد نہیں ہے جتنی آگ جلا لی ہے

اپنی مرضی سے سب چیزیں گھومتی پھرتی رہتی ہیں
بے ترتیبی نے اس گھر میں اتنی جگہ بنا لی ہے

دیر سے قُفل پڑا دروازہ’ اک دیوار ہی لگتا تھا
اس پر ایک کُھلے دروازے کی تصویر لگا لی ہے

اک کمرا سایوں سے بھرا ہے، اک کمرا آوازوں سے
آنگن میں کچھ خواب پڑے ہیں،ویسے یہ گھر خالی ہے

ذوالفقار عادل

تبصرے کیجئے

Click here to post a comment

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.