روضہ مقدس سے آواز آئی

حضرت خواجہ معین الدّین چِشتی اجمیری رحمتہ اللّہ علیہ کی عمر ۵۲ سال ہو گئی۔آپ رحمتہ اللہ پہلے کعبہ شریف گئے پِھر وہاں سے آپ رحمتہ اللہ علیہ نے مدینہ منوّرہ میں حاضری دی۔آستانہ نبوی میں مقیم ہو گئے۔ایک دن روضہ مقدس سے آواز آئی کہ:” معین الدّین کو بُلاؤ۔ ” خدام نے معین الدّین نام لے کر پُکارنا شروع کِیاتو کئی طرف سے لبّیک کی آواز سُنی۔خدام نے عرض کی:” کس معین الدّین کی طلبی ہے؟
یہاں اس نام کے بہت لوگ حاضر ہیں۔ ”پِھر آواز آئی: ” معین الدّین چِشتی ( رحمتہ اللہ علیہ ) کو بُلاؤ۔ ” خدام آپ رحمتہ اللہ علیہ کے پاس پہنچے تو ان کی عجیب حالت تھی۔جب خواجہ گریاں و نالاں درود و سلام پڑھتے ہوئے روضہ مُقدّسہ پہ حاضر ہوئے،آواز آئی: ” اے قُطب المشائخ اندر چلے آؤ۔ ” حضرت بے خود و مدہوش اندر گئے۔وہاں نبی کریم صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کے دِیدارِ پُرانور سے مشرف ہوئے۔نبی کریم صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ رحمتہ اللہ علیہ کو مُخاطب کر کے اِرشاد فرمایا: ” اے معین الدّین ( رحمتہ اللّہ علیہ )! تم میرے دِین کے مطابق ( ہو ) لیکن تم کو فوراً ہندوستان جانا ہے۔وہاں اجمیر نام کا ایک شہر ہے۔جہاں میرے فرزندوں میں سے سیّد حُسین نام کے ایک شخص نے جہاد کِیا تھا اور اب وہ شہید ہو گئے ہیں اور وہ مقام پِھر کفار کے قبضہ میں آ گیا ہے۔تمہارے دم قدم سے وہاں اِسلام کا بول بالا ہو گا اور کافروں کو ذِلّت و شکست سے دوچار ہونا پڑے گا۔
” پِھر نبی کریم صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک انار خواجہ کے ہاتھ میں دیا اور فرمایا کہ اس میں دیکھو تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ تمہیں کس جگہ جانا ہے۔ ” آپ رحمتہ اللہ علیہ نے انار سے دیکھا تو مشرق سے مغرب تک جو کچھ تھا سب ان کی نظروں کے سامنے آ گیا۔پِھر اسی میں سے اجمیر شہر اور اس کی پہاڑیاں نظر آنے لگیں۔آپ رحمتہ اللہ علیہ وہاں سے چالیس مریدوں کے ہمراہ اجمیر کے لیے روانہ ہوئے۔ اُدھر اجمیر کے راجہ کو نجومیوں کے ذریعے آپ رحمتہ اللہ علیہ کی تشریف آوری کی خبر مِل گئی۔جگہ جگہ احکام جاری کر دیے گئے کہ:” اس قِسم کا درویش نظر آئے تو اسے فوراً قتل کر دیا جائے۔ ” بحرحال دورانِ سفر آپ رحمتہ اللہ علیہ پر کوئی قابو نہ پا سکا۔جسے اللہ ر کھے اسے کون چکّھے کے مصداق اللہ تعالیٰ کی حفظ و امان میں چالیس ساتھیوں کے ہمراہ اجمیر شریف پہنچ گئے۔

تبصرے کیجئے

Click here to post a comment

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.