داستان ایمان فروشوں کی ۔۔۔ ساتویں قسط

ساتویں لڑکی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اُدھر صلیبیوں نے بھی جاسوسی اور تخریب کاری کا انتظام مستحکم کرنا شروع کردیا ۔
صلاح الدین ایوبی کے دور کے واقع نگاروں کی تحریروں میں ایک شخص سیف اللہ کا ذکر ان الفاظ میں آتا ہے کہ اگر کسی انسان نے سلطان ایوبی کی عطاعت کی ہے تو وہ سیف اللہ تھا۔ سلطان ایوبی کے گہرے دوست اور دستِ راست بہائوالدین شداد کی اس ڈائری میں جو آج بھی عربی زبان میں محفوظ ہے، سیف اللہ کا ذکر ذرا تفصیل ہے ملتا ہے ۔ یہ شخص جس کا نام کسی باقاعدہ تاریخ میں نہیں ملتا ، صلاح الدین ایوبی کی وفات کے بعد سترہ سال زندہ رہا ۔واقع نگار لکھتے ہیں کہ ا س نے عمر کے یہ آخری سترہ سال سلطان ایوبی کی قبر کی مجاوری میں گزارے تھے۔ اس نے وصیت کی تھی کہ وہ مر جائے تو اسے سلطان کے ساتھ دفن کیا جائے ، مگر سیف اللہ کی کو ئی حیثیت نہیں تھی ۔ وہ ایک گمنام انسان تھا ، جسے عام قبرستان میں دفن کیا گیا اور وہ وقت جلدی ہی آگیا کہ اس قبرستان پر انسانوں نے بستی آباد کر لی اور قبرستان کا نام و نشان مٹا ڈالا ۔

تاریخی لحاظ سے سیف اللہ کی اہمیت یہ تھی کہ وہ سمندر پار سے صلاح الدین ایوبی کو قتل کرنے آیا تھا ۔ اُس وقت اس کا نام میگناناماریوس تھا ۔ اُس نے اسلام کا صرف نام سنا تھا ۔ اسے کچھ علم نہیں تھا کہ اسلام کیسا مذہب ہے ۔ صلیبیوں پے پروپیگنڈے کے مطابق اسے یقین تھا کہ اسلام ایک قابلِ نفرت مذہب اور مسلمان ایک قابلِ نفرت فرقہ ہے جو عورتوں کا شیدائی اور انسانی گوشت کھانے کا عادی ہے ۔ لہٰذا میگناناماریوس جب کبھی مسلمان کا لفظ سنتا تھا تو وہ نفرت سے تھوک کر دیا کرتا تھا ۔ وہ بے مثال جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جب صلاح الدین ایوبی تک پہنچا تو میگناناماریوس قتل ہو گیا اور اس کے مُردہ وجود سے سیف اللہ نے جنم لیا ۔

تاریخ میں ایسے حکمرانوں کی کمی نہیں، جنہیں قتل کیا گیا یا جن پر قاتلانہ حملے ہوئے ، لیکن سلطان صلاح الدین ایوبی تاریخ کی اُن معدود ے چند شخصیتوں میں سے ہے ، جسے قتل کرنے کی کوششیں دشمنوں نے بھی کیں اور اپنوں نے بھی ، بلکہ اپنوں نے اسے قتل کرنے کی غیروں سے زیادہ سازشیں کیں۔ یہ امر افسوس ناک ہے کہ سلطان ایوبی کی داستانِ ایمان فروز کے ساتھ ساتھ ایمان فروشوں کی کہانی بھی چلتی ہے۔ اسی لیے صلاح الدین ایوبی نے بارہا کہا تھا ۔ ” تاریخ اسلام وہ وقت جلدی دیکھے گی ، جب مسلمان رہیں گے تو مسلمان ہی لیکن اپنا ایمان بیچ ڈالیں گے اور صلیبی ان پر حکومت کریں گے ”۔

آج ہم وہ وقت دیکھ رہے ہیں ۔

سیف اللہ کی کہانی اُس وقت سے شروع ہوتی ہے ، جب سلطان ایوبی نے صلیبیوں کا متحد بیڑہ بحیرئہ روم میں نذرِ آب و آتش کیا تھا۔ ان کے کچھ بحری جہاز بچ کر نکل گئے تھے ۔ سلطان ایوبی بحیرئہ روم کے ساحل پر اپنی فوج کے ساتھ موجود رہا اور سمندرمیں سے زندہ نکلنے والے صلیبیوں کو گرفتار کرتا رہا ۔ ان میں سات لڑکیاں بھی تھیں جن کا تفصیلی ذکر آپ پڑھ چکے ہیں ۔ مصر میں سلطان کی سوڈانی سپاہ نے بغاوت کر دی جسے سلطان نے دبا لیا ۔ اُسے سلطان زنگی کی بھیجی ہوئی کمک بھی مل گئی ۔ وہ اب صلیبیوں کے عزائم کو ختم کرنے کے منصوبے بنانے لگا۔

بحیرئہ روم کے پار روم شہر کے مضافات میں صلیبی سربراہوں کی کانفرنس ہو رہی تھی ۔ ان میں شاہ آگسٹس تھا،شاہ ریمانڈ اور شہنشائی ہفتم کا بھائی رابرٹ بھی ۔ اس کانفرنس میں سب سے زیادہ قہر و غضب میں آیا ہوا ایک شخص تھا جس کا نام ایملرک تھا ۔ وہ صلیبیوں کے اس متحدہ بیڑے کا کمانڈر تھا جو مصر پر فوج کشی کے لیے گیا تھا مگر صلاح الدین ایوبی ان پر ناگہانی آفت کی طرح ٹوٹ پڑا اور اس بیڑے کے ایک بھی سپاہی کو مصر کے ساحل پر قدم نہ رکھنے دیا ۔ مصر کے ساحل پر جو صلیبی پہنچے ، وہ سلطان ایوبی کے ہاتھ میں جنگی قیدی تھے۔صلیبیوں کی کانفرنس میں ایملرک کے ہونٹ کانپ رہے تھے۔ اس کا بیڑہ غرق ہوئے پندرہ دِن گزر گئے تھے۔ وہ پندرہویں دن اٹلی کے ساحل پر پہنچا تھا ۔ سلطان ایوبی کے آتشیں تیر اندازوں نے اس کے جہاز کے بادبان اور مستول جلا ڈالے تھے۔ یہ تو اس کی خوش قسمتی تھی کہ اس کے ملاحوں اور سپاہیوں نے آگ پر قابو پا لیا تھا اور وہ جہاز کو بچا لے گئے تھے مگر بادبانوں کے بغیر جہاز سمندر پر ڈولتا رہا۔ پھر طوفان آگیا۔اس کے بچنے کی کوئی صورت نہیں رہی تھی ۔ بہت سے کچے کھچے جہاز اور کشتیاں اس طوفان میں غرق ہوگئی تھیں ۔ یہ ایک معجزہ تھا کہ ایملرک کا جہاز ڈولتا، بھٹکتا ، ڈوب ڈوب کر اُبھرتا اٹلی کے ساحل سے جا لگا ۔ اس میں اس کے ملاحوں کابھی کمال شامل تھا ۔ انہوں نے چپوئوں کے زور پر جہاز کو قابومیں رکھاتھا ۔

ساحل پر پہنچتے ہی اس نے ان تمام ملاحوں اور سپاہیوں کے بے دریغ انعام دیا ۔ صلیبی سربراہ وہیں اس کے منتظر تھے۔ وہ اس پر غور کرنا چاہتے تھے کہ انہیں دھوکہ کس نے دیا ہے۔ ظاہر ہے کہ شک سوڈانی سالار ناجی پر ہی ہو سکتا تھا ۔اسی کے خط کے مطابق انہوں نے حملے کے لیے بیڑہ روانہ کیا تھا مگر ان کے ساتھ ناجی کا تحریری رابطہ پہلے بھی موجود تھا ۔ انہوں نے ناجی کے اس خط کی تحریرپہلے دو خطوں سے ملائی تو انہیں شک ہوا کہ یہ کوئی گڑبڑ ہے ۔ انہوں نے قاہرہ میں جاسوس بھیج رکھے تھے مگر ان کی طرف سے بھی کوئی اطلاع نہیں ملی تھی ۔ انہیں یہ بتانے والا کوئی نہ تھا کہ سلطان صلاح الدین ایوبی نے ناجی اور اس کے سازشی سالاروں کو خفیہ طریقے سے مروا دیا اور رات کی تاریکی میں گمنام قبروں میں دفن کر دیا تھا اور صلیبی سربراہوں اور بادشاہوں کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں آسکتی تھی کہ جس خط پر انہوں نے بیڑہ روانہ کیا تھا ، وہ خط ناجی کا ہی تھا ، مگر حملے کی تاریخ سلطان ایوبی نے تبدیل کر کے لکھی تھی ۔ جاسوسوں کو ایسی معلومات کہیں سے بھی نہیں مل سکتی تھیں۔

یہ کانفرنس کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکی ۔ ایملرک کے منہ سے بات نہیں نکلتی تھی ۔ وہ شکست خوردہ تھا ۔ غصے میں بھی تھا اور تھکا ہوا بھی تھا ۔ کانفرنس اگلے روز کے لیے ملتوی کر دی گئی تھی ……رات کے وقت یہ تمام سربراہ شکست کا غم شراب میں ڈبو رہے تھے ۔ایک آدمی اس محفل میں آیا ۔ اسے صرف ریمانڈ جانتا تھا ۔ وہ ریمانڈ کا قابلِ اعتماد جاسوس تھا ۔ وہ حملے کی شام مصر کے ساحل پر اُترا تھا ۔ اس سے تھوڑی ہی دیر بعد صلیبیوں کا بیڑہ آیا اور اس کی آنکھوں کے سامنے یہ بیڑہ سلطان ایوبی کی قلیل فوج کے ہاتھوں تباہ ہوا تھا ۔

یہ جاسوس مصر کے ساحل پر رہا اور اس نے بہت سی معلومات مہیا کر لی تھیں ۔ ریمانڈ نے اس کا تعارف کرایا تو سب اس کے گرد جمع ہو گئے ۔ اس جاسوس کو معلوم تھا کہ صلیبی سربراہوں نے سلطان ایوبی کو قتل کرانے کیلئے رابن نام کا ایک ماہر جاسوس سمندر پار بھیجاتھا اور اس کی مدد کے لیے پانچ آدمی اور سات جوان اور خوبصورت لڑکیاں بھیجی گئی تھیں ۔ اس جاسوس نے بتایا کہ رابن زخمی ہونے کا بہانہ کر کے صلاح الدین ایوبی کے کمیپ میں پہنچ گیا تھا ۔

اس کے پانچ آدمی تاجروں کے بھیس میں تھے۔ ان میں کرسٹوفر نام کے ایک آدمی نے ایوبی پر تیر چلایا مگر تیر خطا گیا ۔ پانچوں آدمی پکڑے گئے اور ساتوں لڑکیاں بھی پکڑی گئیں۔ انہوں نے کہانی تو اچھی گھڑلی تھی ۔ سلطان ایوبی نے لڑکیوں کو پناہ میں لے لیا اور پانچوں آدمی کو چھوڑ دیا تھا ، مگر ایوبی کا ماہر سراغ رساں جس کا نام علی بن سفیان ہے ،اچانک آگیا ۔ اس نے سب کو گرفتار کر لیا اور اور پانچ میں سے ایک آدمی کو سب کے سامنے قتل کر اکے دوسروں سے اقبالِ جرم کروالیا۔ جاسوس نے کہا ……” میں نے اپنے متعلق بتایا تھا کہ ڈاکٹر ہوں، اس لیے سلطان نے مجھے زخمیوں کی مرہم پٹی کی ڈیوٹی دے دی ۔ وہیں مجھے یہ اطلاع ملی کہ سوڈانیوں نے بغاوت کی تھی جو دبالی گئی ہے اور سوڈانی افسروں اور لیڈروں کو ایوبی نے گرفتار کر لیا ہے ۔ رابن ، چارآدمی اور چھ لڑکیاں ایوبی کی قید میں ہیں ، لیکن ابھی تک ساحل پر ہیں ۔ ساتویں لڑکی جو سب سے زیادہ ہوشیار ہے ، لاپتہ ہے ۔ اُس کا نام موبینا ارتلاش ہے ، موبی کہلاتی ہے ۔ ایوبی بھی کیمپ میں نہیں ہے اورر اس کا سراغ رساں علی بن سفیان بھی وہاں نہیں ہے ۔میں بڑی مشکل سے نکل کر آیا ہوں ۔ بڑی زیادت اُجرت پر تیز رفتار کشتی مل گئی تھی ۔ میں یہ خبر دینے آیا ہوں کہ رابن ، اس کے آدمی اور لڑکیاں موت کے خطرے میں ہیں ۔ مردوںکا فکر ہمیں نہیں کرنا چاہیے ، لڑکیوں کا بچانا لازمی ہے ۔ آپ جانتے ہیں کہ سب جوان ہیں اور چنی ہوئی خوبصورت ہیں ۔ مسلمان ان جو حال کر رہے ہوں گے ، اس کا آپ تصور کر سکتے ہیں ”۔

”ہمیں یہ قربانی دینی پڑے گی ”……شاہ آگسٹس نے کہا۔

” اگر مجھے یقین دلا دیا جائے کہ لڑکیوں کو جان سے مار دیا جائے گا تو میں یہ قربانی ینے کیلئے تیاری ہوں ”…… ریمانڈ نے کہا…… ” مگر ایسا نہیں ہوگا، مسلمان اس کے ساتھ وحشیوں کا سلوک کر رہے ہوں گے ۔ لڑکیاں ہم پر لعنت بھیج رہی ہوں گی ، میں انہیں بچانے کی کوشش کروں گا ”۔

”یہ بھی ہو سکتا ہے ”……رابرٹ نے کہا …… ” کہ مسلمان ان لڑکیوں کے ساتھ اچھا سلوک کر کے ہمارے خلاف جاسوسی کیلئے استعمال کرنے لگیں ۔ بہر حال ہمارا یہ فرض ہے کہ انہیں قید سے آزاد کروائیں ۔ میں اس کے لیے آپنا آدھا خزانہ خرچ کرنے کے لیے تیار ہوں ”۔

” یہ لڑکیاں صرف اس لیے قیمتی نہیں کہ یہ لڑکیاں ہیں ”…… جاسوس نے کہا…… ” وہ دراصل تربیت یافتہ ہیں ۔ اتنے خطرناک کام کے لیے ایسی لڑکیاں ملتی ہی کہاں ہیں ۔ آپ کسی جوان لڑکی کو ایسے کام کیلئے تیار نہیں کر سکتے کہ وہ دشمن کے پاس جا کر اپنا آ پ دشمن کے حوالے کر دے۔دشمن کی عیاشی کا ذریعہ بنے اور جاسوس اور تخریب کاری کرے ۔ اس کام میں عزت تو سب سے پہلے دینی پڑتی ہے اوریہ خطرہ توہروقت لگا رہتا ہے کہ جوں ہی دشمن کو پتہ چلے گا کہ یہ لڑکی جاسوس ہے تو اسے اذیتیں دی جائیں گی ،پھر اسے جان سے مار دیا جاگے گا ۔……ان لڑکیوں کو ہم نے زرِ کثیر صرف کرکے حاص کیا ۔ پھر ٹریننگ دی تھی اور انہیں بڑی محنت سے مصر اور عرب کی زبان سکھائی تھی ۔ ایک ہی بار تجربہ کار لڑکیوں کو ضائع کرنا عقل مندی نہیں ”۔

” کیا تم کہہ سکتے ہو کہ لڑکیوںکو ایوبی کے کیمپ سے نکالا جا سکتا ہے ؟” ……آگسٹس نے پوچھا ۔

” جی ہاں !”…… جاسوس نے کہا…… ” نکالاجا سکتا ہے ؟”…… اس کے لیے غیر معمولی طور پر دلیر اور پختہ کار آدمیوں کی ضرورت ہے مگر یہ بھی وہ سکتا ہے کہ وہ ایک دو دنوں تک رابن ، اس کے چار آدمیوں اور لڑکیوں کے قاہرہ جا ئیں ۔ وہاڈ سے نکلان۔وہاں سے نکالنا بہت ہی مشکل ہوگا ۔ اگر ہم وقت ضائع نہ کریں تو ہم انہیں کیمپ میں ہی لے جائیں گے ۔ آپ مجھے بیس آدمی دے دیں۔ میں ان کی رہنمائی کروں گا ، لیکن آدمی ایسے ہوں جو جان پر کھیلنا جانتے ہوں ”۔

” ہمیں ہر قیمت پر ان لڑکیوں کو واپس لانا ہے ”…… ایملرک نے گرج کر کہا ۔ اس پر بحیرئہ روم میں جو بیتی تھی ، اس کا وہ انتقام لینے کو پاگل ہوا جا رہا تھا ۔ وہ صلیبیوں کے متحدہ بیڑے اور اس بیڑے میں سوار لشکر کا سپریم کمانڈر بن کراس اُمید پر گیاتھا کہ مصر کی فتح کا سہرا اس کے سر بندھے گا ، مگر صلا ح الدین ایوبی نے اسے مصر کے ساحل کے قریب بھی نہ جانے دیا ۔ وہ جلتے ہوئے جہاز میں زندہ جل جانے سے بچا تو طوفان نے گھیر لیا ۔ اب بات کرتے اس کے ہونٹ کانپتے تھے اور وہ زیادہ تر باتیں میز پر مکے مار کر یا اپنی ران پرزورزور سے ہاتھ مار کر اپنے جذبات کااظہار کر رہا تھا ۔ اس نے کہا ……” میں لڑکیوں کو بھی لائوں گا اور صلاح الدین ایوبی کو قتل بھی کروائوں گا ۔ میں انہی لڑکیوں کو مسلمانوں کی سلطنت کی جڑیں کھوکھلی کرنے کے لیے استعمال کروں گا ”۔

” میں سچے دل سے آپ کی تائید کرتا ہوں شاہ ایملرک !”…… ریمانڈ نے کہا …… ” ہمیں تربیت یافتہ لڑکیوں کو اتنی آسانی سے ضائع نہیںکرنا چاہیے نہ ہم کریں گے۔ آپ سب کواچھی طرح معلوم ہے کہ شام کے حرموں میں ہم کتنی لڑکیاں داخل کر چکے ہیں ۔ کئی مسلمان گورنر اور امیر ان لڑکیوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں ۔ بغداد میں یہ لڑکیاں اُمراء کے ہاتھوں ایسے متعدد افراد کو قتل کراچکی ہیں جو صلیب کے خلاف نعرہ لے کر اُٹھے تھے۔ مسلمانوں کی خلافت کو ہم نے عورت اور شراب سے تین حصوںمیں تقسیم کر دیا تھا ۔ ان میں اتحاد نہیں رہا۔ وہ عیش و عشرت میں غرق ہوتے جارہے ہیں ۔ صرف دو آدمی ہیں جو اگر زندہ رہے تھے ہمارے لیے مستقل خطرہ بنے رہیں گے ۔ ایک نورالدین زنگی اور دوسرا صلاح الدین ایوبی ۔ اگر ان دونوں میں سے ایک بھی زیادہ دیر تک زندہ رہا تو ہمارے لیے اسلام کہ ختم کرنا آسان نہیں ہوگا۔ اگر صلاح الدین ایوبی نے سوڈانیوں کی بغاوت دبالی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ شخص اُس حد سے زیادہ خطرناک ہے ، جس حد تک ہم اسے سمجھتے رہے ہیں ۔ ہمیں میدانِ جنگ سے ہٹ کر تخریب کاری کا محاذ بھی کھولنا پڑے گا ۔ مسلمانوں میں تفرقہ اور بے اطمینانی پھیلانے کے لیے ہمیں ان لڑکیوں کی ضرورت ہے ”۔

” ہمیں اپنے کامیاب تجربوں سے فائدہ اُٹھانا چاہیے ”…… لوئی ہفتم کے بھائی رابرٹ نے کہا……” عرب میں ہم مسلمانوں کی کمزوریوں سے فائدہ اُٹھا چکے ہیں ۔ مسلمان عورت، شراب اور دولت سے اندھا ہو جاتا ہے۔ مسلمان کو مارنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اسے مسلمان کے ہاتھوں مروائو۔ مسلمان کو ذہنی عیاشی کا سامان مہیا کردو تو وہ اپنے دین اور ایمان سے دستبردار ہو جاتا ہے۔ تم مسلمان کا ایمان آسانی سے خرید سکتے ہو ”……اس نے عرب کے کئی امراء اور وزراء کی مثالیں دیں جنہیں صلیبیوں نے عورت، شراب اور دولت سے خرید لیا تھا اور انہیں اپنا درپردہ دوست بنا لیا تھا ۔

کچھ دیر مسلمانوں کی کمزوریوں کے متعلق باتیں ہوئیں پھر لڑکیوں کو آزاد کرانے کے عملی پہلوئوں پر غور ہوا۔ آخریہ طے پا یا کہ بیس نہایت دلیر آدمی اس کام کے لیے روانہ کیے جائیں اور وہ اگلی شام تک روانہ ہوجائیں ۔ اسی وقت چار پانچ کمانڈروں کو بلا لیاگیا ۔ انہیں اصل مقصد او مہم بتا کر کہا گیاکہ بیس آدمی منتخب کریں۔ کمانڈروں نے تھوڑی دیر اس مہم کے خطروں کے متعلق بحث مباحثہ کیا ۔ ایک کمانڈر نے کہا …… ” ہم پہلے ہی ایک ایسی فورس تیار کر رہے ہیں جو مسلمانوں کے کیمپوں پر شب خون مارا کرے گی اور ان کی متحرک فوج پر بھی رات کو حملے کر کے پریشان کرتی رہے گی۔ اس فورس کے لیے ہم نے چند ایک آدمی منتخب کیے ہیں ”۔

” لیکن یہ آدمی سو فیصد قابلِ اعتماد ہونے چاہئیں ”… آگسٹس نے کہا ۔” وہ ہماری تمہاری نظروں سے اوجھل ہو کر ہی کام کریں گے ۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ کچھ نہ کریں اور واپس آ کر کہیں کہ وہ بہت کچھ کر کے آئے ہیں ”۔

” آپ یہ سن کر حیران ہوں گے” …… ایک کمانڈر نے کہا ……” کہ ہماری فوج میں ایسے سپاہی بھی ہیں جنہیں ہم نے جیل خانوں سے حاصل کیا ہے ، یہ ڈاکو ،چور اور رہزن تھے۔ انہیں بڑی بڑی لمبی سزائیں دی گئی تھیں ۔ انہیں جیل خانوں میں ہی مرنا تھا ۔ ہم نے ان سے بات کی تو وہ جو ش و خروش سے فوج میں آگئے ۔ آپ کو شاید یہ معلوم کرکے بھی حیرت ہو کہ ناکام حملے میں ان سزایافتہ مجرموں نے بڑی بہادری سے کئی جہاز بچائے ہیں …… میں لڑکیوں کو مسلمانوں سے آزاد کرنے کی مہم میں ایسے تین آدمی بھیجوں گا ”۔

مورخوں نے لکھا ہے کہ مسلمانوں میں عیش و عشرت کا رحجان بڑھ گیا اور اتحاد ختم ہو رہا تھا ۔ عیسائیوں نے مسلمانوں کو اخلاقی تباہی تک پہنچانے میں ذہنی عیاشی کا ہر سامان مہیا کیا …… اب انہیں یہ توقع تھی کہ مسلمانوں کو ایک ہی حملے میں ختم کر دیں گے، چنانچہ ان کے خلاف عیسائی دُنیا میں نفرت کی طوفانی مہم چلائی گئی اور ہر کسی کو اسلام کے خلاف جنگ میں شریک ہونے کی دعوت دی گئی ۔ اس کے جواب میں معاشرے کے ہر شعبے کے لوگ صلیبی لشکر میں شامل ہونے لگے۔ ان میں پادری بھی شامل ہوئے اور عادی مجرم بھی گناہوں سے توبہ کر کے مسلمانوں کے خلاف مسلح ہو گئے ۔ بعض ملکوں کے جیل خانوں میں جو مجرم لمبی قید کی سزائیں بھگت رہے تھے ، وہ بھی فوج میں بھرتی ہوگئے ۔ ان مجرموں کے متعلق عیسائیوں کا تجربہ غالباً اچھا تھا ، جس کے پیش نظر ایک کمانڈر نے لڑکیوں کو آزاد کرانے اور صلاح الدین ایوبی کو قتل کرنے کے لیے قیدی مجرموں کا انتخا ب کیا تھا ۔

صبح تک بیس انتہائی دلیر اور ذہین آدمی چن لیے گئے ۔ ان میں میگناناماریوس بھی تھا جسے روم کے جیل خانے سے لایا گیا تھا ۔ اس جاسوس کوجو ڈاکٹر کے بہروپ میں سلطان ایوبی کے کیمپ رہا اور فرار ہو کر آیا تھا ، اس کمانڈو پارٹی کا کمانڈر اور گائیڈ مقرر کیا گیا ۔ ا س پارٹی کو یہ مشن دیاگیا کہ لڑکیوں کو مسلمانوں کی قید سے نکالنا ہے ۔ اگر رابن اور اس کے چار ساتھیوں کو بھی آزاد کرایا جا سکے تو کرالینا، ورنہ ان کے لیے کوئی خطرہ مول لینے کی ضرورت نہیں ۔ دوسرا مشن تھا ، صلا ح الدین ایوبی کا قتل۔ اس پارٹی کو کوئی عملی ٹریننگ نہ دی گئی ۔ صرف زبانی ہدایات اور ضروری ہتھیار دے کر اسی روز ایک بادبانی کشتی میں ماہی گیروں کے بھیس میں روانہ کر دیا گیا ۔
جس وقت یہ کشتی اٹلی کے ساحل سے روانہ ہوئی۔صلاح الدین ایوبی سوڈانیوں کی بغاوت مکمل طور پر دبا چکا تھا ۔ سوڈانیوں کے بہت سے کماندار مارے گئے یا زخمی ہو گئے تھے اور بہت سے سلطان ایوبی کے دفترکے سامنے کھڑے تھے ۔ انہوں نے ہتھیار ڈال کر شکست اور سلطان ایوبی کی اطاعت قبول کر لی تھی ۔ وہ سلطان کے حکم کے منتظر تھے۔ سلطان اندر بیٹھا اپنے سالاروں وغیرہ کو احکام دے رہا تھا۔علی بن سفیان بھی موجود تھا۔ اس فتح میں اس کا بہت عمل دخل تھا۔ صلیبیوں کو شکست دینے میں بھی اس کے نظامِ جاسوسی نے بہت کام کیا تھا ، بلکہ یہ دونوں کامیابیاں جاسوسی کے نظام کی ہی کامیابیاں تھیں۔ سلطان ایوبی کو جیسے اچانک کچھ یاد آگیا ہو۔ اس نے علی بن سفیان سے کہا ……”علی ! ہمیں ان جاسوس لڑکیوں اور اُن کے ساتھیوں کے متعلق سوچنے کا وقت ہی نہیں ملا ۔ وہ ابھی تک ساحل پر قیدی کیمپ میں ہیں ۔ ان سب کو فوراً یہاں لانے کا بندوبست کرو اور تہ خانے میں ڈال دو ”۔

” میں ابھی پیغام بھجوا دیتا ہوں ” … علی بن سفیا ن نے کہا ……” ان سب کہ یہاں پہرے میں بلوا لیتا ہوں …سلطان ! آپ شاید ساتویں لڑکی کو بھول گئے ہیں ۔ وہ سوڈانیوں کے ایک کماندار بالیان کے پاس تھی ۔ اسی لڑکی سے جاسوسوں اور بغاوت کا انکشاف ہوا تھا ۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ بالیان ان کمانداروں میں نہیں ہے جو باہر موجود ہیں اور وہ زخمیوں میں بھی نہیں ہے اور وہ مرے ہوئوںمیں بھی نہیں ہے ۔ مجھے شک ہے کہ ساتویں لڑکی جس کانام فخرالمصری نے موبی بتایا تھا ، بالیان کے ساتھ کہیں روپوش ہوگئی ہے ”۔

” اپنا شک رفع کروعلی ”… سلطان ایوبی نے کہا …” یہاں مجھے اب تمہاری ضرورت نہیں ہے۔ بالیان لاپتہ ہے تو وہ بحیرئہ روم کی طرف نکل گیا ہوگا ۔ صلیبیوں کے سوا اسے اور کون پناہ دے سکتا ہے ۔ بہر حال ان جاسوسوں کو تہہ خانوں میں ڈالو اور اپنے جاسوس فوراً تیار کرکے سمندر پار بھیج دو ”۔

” زیادہ ضرورت تہ یہ ہے کہ اپنے جاسوس اپنے ہی ملک میں پھیلا دئیے جائیں ”۔ یہ مشورہ دینے والا سلطان نورالدین زنگی کی بھیجی ہوئی فوج کا سپہ سالار تھا ۔ اس نے کہا … ” ہمیں صلیبیوں کی طرف سے اتنا خطرہ نہیں، جتنا اپنے مسلمان امراء سے ہے ۔ اپنے جاسوس ان کے حرموں میں داخل کر دئیے جائیں تو بہت سی سازشیں بے نقاب ہوں گی ”۔ اُس نے تفصیل سے بتایا کہ یہ خود ساختہ حکمران کس طرح صلیبیوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں ۔ سلطان زنگی اکثر پریشان رہتے ہیں کہ باہر کے حملوں کو روکیں یا اپنے گھر کو اپنے ہی چراغ سے جلنے سے بچائیں ۔

صلاح الدین ایوبی نے یہ روائیداد غور سے سنی اور کہا …” اگر تم لوگ جن کے پاس ہتھیار ہیں ، دیانت دار اور اپنے مذہب سے مخلص رہے تو باہر کے حملے اور اندر کی سازشیں قوم کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں ۔ تم اپنی نظریں سرحدوں سے دور آگے لے جائو ۔ سلطنت اسلامیہ کی کوئی سر حد نہیں ۔ تم نے جس روز اپنے آپ کو اور خدا کے اس عظیم مذہبِ اسلام کو سرحدوں میں پابند کرلیا اور اس روز سے یوں سمجھو کہ تم اپنے ہی قید خانے میں قید ہوجائو گے ۔ پھر تمہاری سرحدیں سکڑنے لگیں گی۔ اپنی نظریں بحیرئہ روم سے آگے لے جائو۔ سمندر تمہارا راستہ نہیں روک سکتے ۔ گھر کے چراغوں سے نہ ڈرو، یہ تو ایک پھونک سے گل ہو جائیں گے ۔ ان کی جگہ ہم ایمان کے چراغ روشن کریں گے”۔

” ہمیں اُمید ہے کہ ہم ایمان فروشی روک لیں گے، سلطانِ محترم !”… سالار نے کہا … ” ہم مایوس نہیں ”۔

” صرف دو لعنتوں سے بچو میرے عزیز رفیقو!” سلطان ایوبی نے کہا …” مایوسی اور ذہنی عیاشی ۔ انسان پہلے مایوس ہوتا ہے ، پھر ذہنی عیاشی کے ذریعے راہِ فرار اختیار کرتا ہے ”۔

اس دوران علی بن سفیان جا چکا تھا ۔ اس نے فوراً ایک قاصد بحیرئہ روم کے کیمپ کی طرف اس پیغام کے ساتھ روانہ کر دیا کہ رابن، اس کے چار ساتھیوں اور لڑکیوں کو گھوڑوں یا اونٹوں پر سوار کر کے بیس محافظوں کے پہرے میں دارالحکومت کو بھیج دو …قاصد کو روانہ کر کے اس نے اپنے ساتھ چھ سات سپاہی لیے اور کماندار بالیان کی تلاش میں نکل گیا ۔ ان نے ان سوڈانی کمانداروں سے جو باہر بیٹھے تھے، بالیان کے متعلق پوچھ لیا تھا ۔ سب نے کہا تھا کہ اسے لڑائی میں کہیں بھی نہیں دیکھا گیاتھا اور نہ ہی وہ اس فوج کے ساتھ گیا تھا جو بحیرئہ روم کی طرف سلطان کی فوج پر حملہ کرنے کے لیے بھیجی گئی تھی ۔ علی بن سفیان بالیان کے گھر گیا تو وہاں اس کی بوڑھی خادمائوں کے سوا اور کوئی نہ تھا ۔ انہوں نے بتایا کہ بالیان کے گھر میں پانچ لڑکیاں تھیں ۔ ان میں جس کی عمر ذرا زیادہ ہوجاتی تھی ، اسے وہ غائب کر دیتا اور اس کی جگہ جوان لڑکی لے آتا تھا ۔ ان خامائوں نے بتایا کہ بغاوت سے پہلے اس کے پاس ایک فرنگی لڑکی آئی تھی جو غیر معمولی طور پر خوبصورت اور ہوشیارتھی ۔ بالیان اس کا غلام ہو گیا تھا ۔ بغاوت کے ایک روز بعد جب سوڈانیوں نے ہتھیار ڈال دئیے تو بالیان رات کے وقت گھوڑے پر سوار ہوا، دوسرے گھوڑے پر اس فرنگی لڑکی کو سوار کیا اور معلوم نہیں دونوں کہاں روانہ ہوگئے ۔ ان کے ساتھ سات گھوڑ سوار تھے۔ حرم کی لڑکیوں کے متعلق بوڑھیوں نے بتایا کہ وہ گھر میں جو ہاتھ لگا اُٹھا کر چلی گئی ہیں ۔

علی بن سفیان وہاں سے واپس ہوا توایک گھوڑا سرپٹ دوڑتا ہوا آیا اور علی بن سفیان کے سامنے رُکا۔ اس پر فخرالمصری سوار تھا۔ کود کر گھوڑے سے اُترا اور ہانپتی کانپتی آواز میں بولا … ” میں آپ کے پیچھے آیا ہوں ۔ میں بھی اسی بدبخت بالیان اور اس کافر لڑکی کو ڈھونڈ رہا تھا ۔ میں ان سے انتقام لوں گا ۔ جب تک ان دونوں کو اپنے ہاتھوں قتل نہیں کرلوں گا ، مجھے چین نہیں آئے گا ۔ میں جانتا ہوں کہ وہ کدھر گئے ہیں ۔ میں نے ان کا پیچھا کیا ہے لیکن ان کے ساتھ سات مسلح محافظ تھے ، میں اکیلا تھا ۔ وہ بحیرئہ روم کی طرف جا رہے ہیں ، مگر عام راستے سے ہٹ کر جارہے ہیں ”… اس نے علی بن سفیان کے گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر کہا۔ ” خدا کے لیے مجھے صرف چار سپاہی دے دیں ، میں ان کے تعاقت میں جائوں گا اور انہیں ختم کرکے آئوں گا ”۔

علی بن سفیان نے اسے اس وعدے سے ٹھنڈا کیا کہ وہ اسے چار کی بجائے بیس سوار دے گا ۔ وہ ساحل سے آگے اتنی جلدی نہیں جا سکتے ۔ میرے ساتھ رہو۔ علی بن سفیان مطمئن ہوگیا کہ یہ تو پتہ چل گیاہے کہ وہ کسطرف گئے ہیں ۔

٭ ٭ ٭

اُس وقت بالیان اسی صلیبی لڑکی کے ساتھ جس کا نام موبی تھا، ساحل کی طرف جانے والے عام راستے سے ہٹ کر دور جا چکا تھا ۔ان علاقوں سے وہ اچھی طرح واقف تھا۔ اسے معلوم نہیں تھا کہ سوڈانی فوج اور اس کے کمانداروں کو صلاح الدین ایوبی نے معافی دے دی ہے ۔ ایک تو وہ سلطان کے عتاب سے بھاگ رہا تھا اور دوسرے یہ کہ وہ موبی جیسی حسین لڑکی کو چھوڑنا نہیں چاہتا تھا۔ وہ سمجھتا تھا کہ دنیا کی حسین لڑکیاں صرف مصر اور سوڈان میں ہی ہیں مگر اٹلی کی اس لڑکی کے حسن اور دِل کشی نے انے اندھا کر دیا تھا ۔ اس کی خاطر وہ اپنا رُتبہ ، اپنا مذہب اور اپنا ملک ہی چھوڑ رہا تھا لیکن اُسے یہ معلوم نہیں تھا کہ موبی اس سے جان چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی ۔ وہ جس مقصد کے لیے آئی تھی ، وہ ختم ہو چکا تھا ۔ گو مقصد تباہ ہوگیا تھا ، تاہم موبی اپنا کام کر چکی تھی ۔ اس کے لیے اس نے اپنے جسم اور اپنی عزت کی قربانی دی تھی ۔ وہ ابھی تک اپنی عمر سے دُگنی عمر کے آدمی کی عیاشی کاذریعہ بنی ہوئی تھی ۔

بالیان اس خوش فہمی میں مبتلا تھا کہ موبی اسے بُری طرح چاہتی ہے مگر موبی اس سے نفرت کرتی تھی ۔ وہ چونکہ مجبور تھی ، اسی لیے اکیلی بھاگ نہیں سکتی تھی ۔ وہ اس مقصد کے لیے بالیان کو ساتھ لے ہوئے تھی کہ اسے اپنی حفاظت کی ضرورت تھی ۔ اسے بحیرئہ روم پار کرنا تھا یا رابن تک پہنچنا تھا ۔ اسے معلوم نہیں تھا کہ رابن اور اس کے ساتھ جو تاجروں کے بھیس میں تھے ، پکڑے جا چکے ہیں ۔ اس مجبوری کے تحت وہ بالیان کے ہاتھ میں کھلونا بنی ہوئی تھی ۔ وہ کئی بار اسے کہہ چکی تھی کہ تیز چلو اور پڑائو کم کرورنہ پکڑے جائیں گے لیکن بالیان جہاں اچھی جگہ دیکھتا رُک جاتا ۔ اس نے شراب کا ذخیرہ اپنے ساتھ رکھ لیا تھا۔

ایک رات موبی نے ایک ترکیب سوچی ۔ اس نے بالیان کو اتنی زیادہ پلادی کہ وہ بے سدھ ہوگیا ۔ ان کے ساتھ جو سات محافظ تھے ، وہ کچھ پر ہوے سو گئے تھے ۔ موبی نے دیکھا تھا کہ ان میں سے ایک ایسا ہے جو ان ہے اور سب پر چھایا رہتا ہے۔ بالیان زیادہ تر اسی کے ساتھ ہر بات کرتا تھا ۔ موبی نے اسے جگایا اور تھوڑی دور لے گئی ۔ اسے کہا …” تم اچھی طرح جانتے ہو کہ میں کون ہوں ، کہاں سے آئی ہوں اور یہاں کیوں آئی تھی ۔ میں تم لوگوں کے لیے مدد لائی تھی تا کہ تم صلاح الدین ایوبی جیسے غیر ملکیوں سے آزاد ہو سکو مگر تمہارا یہ کماندار بالیان اس قدر عیاش آدمی ہے کہ اس نے شراب پی کر بد مست ہو کر میرے جسم کے ساتھ کھیلنا شروع کر دیا ۔ بجائے اس کے کہ وہ عقل مندی سے بغاوت کا منصوبہ بناتا اور فتح حاصل کرتا ، اس نے مجھے اپنے حرم کی لونڈی بنا لیا اور اندھا دھند فوج کو دو حصوں میں تقسیم کر کے ایسی لاپرواہی سے حملہ کروایا کہ ایک ہی رات میں تمہاری اتنی بڑی فوج ختم ہوگئی۔

” تمہاری شکست کا ذمہ دار یہ شخص ہے ۔ اب یہ میرے ساتھ صرف عیاشی کے لیے جا رہا ہے اور مجھے کہتا ہے کہ میں اسے سمندر پار لے جائوں ، اسے اپنی فوج میں رُتبہ دلائوں اور اس کے ساتھ شادی کر لوں ، مگر مجھے اس شخص سے نفرت ہے ۔ میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اگر مجھے شادی کرنی ہے اور اپنے ملک میں لے جا کر اسے فوج میں رُتبہ دلانا ہے تو مجھے ایسے آدمی کا انتخاب کرنا چاہیے جو میرے دل کو اچھ لگے ۔ وہ آدمی تم ہو ، تم جوان ہو، دلیر ہو، عقل مند ہو، میں نے جب سے تمہیں دیکھا ہے ، تمہیں چاہ رہی ہوں۔ مجھے اس بوڑھے سے بچائو۔ میں تمہاری ہوں۔ سمندر پار لے چلو ۔ فوج کا رُتبہ اورمال و دولت تمہارے قدموں میں ہوگا مگر اس آدمی کو یہیں ختم کر دو۔ وہ سویا ہوا ہے ، اسے قتل کردو اور آئو نکل چلیں ”۔

اس نے محافظ کے گلے میں باہیں ڈال دیں ۔ محافظ اس کے حسن میں گرفتار ہوگیا ۔ اس نے دیوانہ وار لڑکی کو اپنے بازئوں میں جکڑ لیا۔ موبی اس جادوگری میں ماہر تھی ۔ وہ ذرا پرے ہٹ گئی۔ محافظ اس کی طرف بڑھا تو عقب سے ایک برچھی اس کی پیٹھ میں اُتر گئی۔ اس کے منہ سے ہائے نکلی اور وہ پہلو کے بل لڑھک گیا ۔ برچھی اس کی پیٹھ سے نکلی اور اسے آواز سنائی دی …”نمک حرام کو زندہ رہنے کا حق نہیں ”۔ لڑکی کی چیخ نکل گئی ۔ وہ اُٹھی اور اتنا ہی کہنے پائی تھی کہ تم نے اسے قتل کر دیا ہے کہ پیچھے سے ایک ہاتھ نے اس کے بازو کو جکڑ لیا اور جھٹکا دے کر اپنے ساتھ لے گیا ۔ اسے بالیان کے پاس پھینک کر کہا …” ہم اس شخص کے پالے ہوئے دوست ہیں ۔ ہماری زندگی اسی کے ساتھ ہے ۔ تم ہم میں سے کسی کو اس کے خلاف گمراہ نہیں کر سکتی ۔ جو گمراہ ہوا اس نے سزا پا لی ہے ”۔

بالیان شراب کے نشے میں بے ہوش پڑا تھا ۔

” تم لوگوں نے یہ بھی سوچا ہے کہ تم کہاں جا رہے ہو؟”…موبی نے پوچھا۔

” سمندر میں ڈوبنے ”… ایک نے جواب دیا …” تمہارے ساتھ ہمارا کوئی تعلق نہیںہے ، جہاں تک بالیان جائے گا ، ہم وہیں تک جائیں گے ”… اور وہ دونوں جا کر لیٹ گئے ۔

دوسرے دن بالیان جاگا تو اسے رات کا واقعہ بتایا گیا ۔موبی نے کہا کہ وہ مجھے جان کی دھمکی دے کر اپنے ساتھ لے گیا تھا ۔ بالیان نے اپنے محافظوں کو شاباش دی ، مگر ان کی یہ بات سنی اَن سنی کر دی کہ یہ لڑکی اسے گمراہ کر کے لے گئی تھی اور انہوں نے اس کی باتیں سنی تھیں ۔ وہ موبی کے حسن اور شراب میں مدہوش ہو کر سب بھول گیا۔ موبی نے اسے ایک بار پھر کہا کہ تیز چلنا چاہیے مگر بالیان نے پروا نہ کی ۔ وہ اپنے آپ میں نہیں تھا۔ موبی اب آزاد نہیں ہو سکتی تھی ۔ اس نے دیکھ لیا تھا کہ یہ لوگ اپنے دوستوں کو قتل کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔

علی بن سفیان نے نہ جانے کیا سوچ کر ان کا تعاقب نہ کیا ۔ بغاوت کے بعد کے حالات کو معمول پر لانے کے لیے وہ سلطان ایوبی کے ساتھ بہت مصروف ہو گیا تھا ۔

٭ ٭ ٭

ساحل کے کیمپ سے رابن ، اس کے چاروں ساتھیوں اور چھ لڑکیوں کو پندرہ محافظوں کی گارڈ میں قاہر ہ کے لیے روانہ کر دیا گیا۔ قاصد ان سے پہلے روانہ ہو چکا تھا ۔ قیدی اونٹوں پر تھے اور گارڈ گھوڑوں پر۔ وہ معمول کی رفتار پر جارہے تھے اور معمول کے مطابق پڑائو کر رہے تھے ۔وہ بے خوف و خطر جا رہے تھے وہاں کسی دشمن کے حملے کا ڈر نہیں تھا۔ قیدی نہتے تھے اور ان میں چھ لڑکیاں تھیں ۔ کسی کے بھاگنے کا ڈر بھی نہیں تھا ، مگر وہ یہ بھول رہے تھے کہ یہ قیدی تربیت یافتہ جاسوس ہیں بلکہ لڑاکے جاسوس تھے۔ ان میں جو تاجروں کے بھی میں پکڑے گئے تھے وہ چنے ہوئے تیر انداز اور تیغ زن تھے اور لڑکیاں محض لڑکیاں نہیں تھیں جنہیں وہ کمزور عورت ذات سمجھ رہے تھے ۔ ان لڑکیوں کی جسمانی دِلکشی ، یورپی رنگت کی جاذبیت ، جوانی اور ان کی بے حیائی ایسے ہتھیار تھے جو اچھے اچھے جابر حکمرانوں سے ہتھیار ڈلوا لیتے تھے ۔

محافظوں کا کمانڈر مصری تھا۔ اس نے دیکھا کہ ان میں چھ میں سے ایک لڑکی اس کی طرف دکھتی رہتی ہے اور وہ جب اسے دیکھتا ہے لڑکی کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ جاتی ہے ۔یہ مسکراہٹ اس مصری کو موم کر رہی تھی ۔ شام کے وقت انہوں پہلا پڑائو کیا تو سب کو کھانا دیا گیا ۔ اس لڑکی نے کھانا نہ کھایا ۔ کمانڈر کو بتایاگیا تو اس نے لڑکی کے ساتھ بات کی ۔ لڑکی اس کی زبان بولتی اور سمجھتی تھی ۔ لڑکی کے آنسو نکل آئے۔ اس نے کہا کہ وہ اس کے ساتھ علیحدگی میں بات کرنا چاہتی ہے ۔

رات کو جب سو گئے تو کمانڈر اُٹھا۔ اس نے لڑکی کو جگایا اور الگ لے گیا ۔ لڑکی نے اسے بتایا کہ وہ ایک مظلوم لڑکی ہے ، اسے فوجیوں نے ایک گھر سے اغوا کیا اور اپنے ساتھ رکھا ۔پھر اسے جہاز میں اپنے ساتھ لائے جہاں وہ ایک افسر کی داشتہ بنی رہی ۔ دوسری لڑکیوں کے متعلق اس نے بتایا کہ ان کے ساتھ اس کی ملاقات جہاز میں ہوئی تھی ۔ انہیں بھی اغوا کرکے لایا گیا تھا ۔ اچانک جہازوں پر آگ برسنے لگی اور جہاز جلنے لگے۔ ان لڑکیوں کو ایک کشتی میں بٹھا کر سمندر میں ڈال دیا گیا ۔ کشتی انہیں ساحل پر لے آئی ، جہاں انہیں جاسوس سمجھ کر قید میں ڈال دیا گیا ۔

یہ وہی کہانی تھی جو تاجروں کے بھیس میں جاسوسوں نے ان لڑکیوں کے متعلق صلاح الدین ایوبی کو سنائی تھی ۔ مصری گارڈ کمانڈر کو معلوم نہیں تھا ۔ وہ یہ کہانی پہلی بار سن رہا تھا ۔اسے تو حکم ملا تھا کہ یہ خطرناک جاسوس ہیں۔ انہیں قاہرہ لے جاکر سلطان کے ایک خفیہ محکمے کے حوالے کرنا ہے ۔ اس حکم کے پیش نظر وہ ان لڑکیوںکی یا اس لڑکی کی کوئی مدد نہیں کر سکتا تھا ۔اس نے لڑکی کو اپنی مجبوری بتادی ۔ اسے معلوم نہیں تھا کہ لڑکی کی ترکش میں ابھی بہت تیر باقی ہیں ۔ لڑکی نے کہا ۔ ” میں تم سے کوئی مدد نہیں مانگتی ، تم اگر میری مدد کر و گے تومیں تمہیں روک دوں گی ، کیونکہ تم مجھے اتنے اچھے لگتے ہو کہ میں اپنی خاطر تمہیں کسی مصیبت میں نہیں ڈالنا چاہتی ۔ میرا کو غم خوار نہیں ۔ میں ان لڑکیوں کو بالکل نہیں جانتی اور ان آدمیوں کو بھی نہیں جانتی۔ تم مجھے رحم دِل بھی لگتے ہو اور میرے دِل کو بھی اچھے لگتے ہو، اس لیے تمہیں یہ باتیں بتا رہی ہوں ”۔

اتنی خوبصورت لڑکی کے منہ سے اس قسم کی باتیں سن کر کون سا مرد اپنے آپ میں رہ سکتا ہے ۔ یہ لڑکی مجبور بھی تھی۔ رات کی تنہائی بھی تھی ۔ مصری کی مردانگی پگھلنے لگی۔ اس نے لڑکی کے ساتھ دوستانہ باتیں شروں کر دیں۔لڑکی نے ایک اور تیر چلایا اور صلاح الدین ایوبی کے کردار پر زہر اُگلنے لگی۔ اس نے کہا …” میں نے تمہارے گورنر صلاح الدین ایوبی کو مظلومیت کی یہ کہانی سنائی تھی۔ مجھے اُمید تھی کہ وہ میرے حال پر رحم کرے گا ، مگر اس نے مجھے اپنے خیمے میں رکھ لیا اور شراب پی کر میرے ساتھ بدکاری کرتا رہا۔ اس وحشی نے میرا جسم توڑ دیا ہے ۔ شراب پی کر وہ اتنا وحشی بن جاتا ہے کہ اس میں انسانیت رہتی ہی نہیں ”۔

مصر کی کا خون خولنے لگا ۔ اس نے بدک کر کہا …” ہمیں کہا گیا تھا کہ صلاح الدین ایوبی مومن ہے ، فرشتہ ہے ، شراب اور عورت سے نفرت کرتا ہے ”۔

” مجھے اب اسی کے پاس لے جایا جا رہا ہے ”… لڑکی نے کہا … ” اگر تمہیں یقین نہ آئے تو رات کو دیکھ لینا کہ میں کہاں رہوں گی ۔ وہ مجھے قید خانے میں نہیں ڈالے گا ، اپنے حرم میں رکھ لے گا ۔ مجھے اس آدمی سے ڈر آتا ہے ‘ …اس قسم کی بہت سے باتوں سے لڑکی نے اس مصری کے دل میں صلاح الدین ایوبی کے خلاف نفرت پیدا کر دی اور وہ پوری طرح مصری پر چھا گئی۔ اس کے دل اور دماغ پر قبضہ کر لیا ۔ مصری کو معلوم نہیں تھا کہ یہی ان لڑکیوں کا ہتھیار ہے ۔ لڑکی نے آخر میں کہا … ” اگر تم مجھے اس ذلیل زندگی سے نجات دلا دو تو میں ہمیشہ کیلئے تمہاری ہو جائو ں گی اور میرا باپ تمہیں سونے کی اشرفیوں سے مالا مال کر دے گا ”۔ اُس نے اس کا طریقہ یہ بتایا …” میرے ساتھ سمندر پار بھاگ چلو۔ کشتیوں کی کمی نہیں ۔ میرا باپ بہت امیر آدمی ہے ۔ میں تمہارے ساتھ شادی کر لوں گی اور میرا باپ تمہیں نہایت اچھا مکان اور بہت سی دولت دے گا ۔ تم تجارت کر سکتے ہو ”۔

مصری کہ یہ یادر رہ گیا کہ وہ مسلمان ہے۔ اس نے کہا کہ وہ اپنا مذہب ترک نہیں کر سکتا ۔ لڑکی نے ذرا سوچ کر کہا …” میں تمہارے لیے اپنا مذہب چھوڑ دوں گی ”… اس کے بعد وہ فرار اور شادی کا پروگرام بنانے لگے ۔

(جاری ھے)

(صلاحُ الدین ایوبیؒ کے دور کےحقیقی واقعات کا سلسلہ داستان ایمان فروشوں کی سلطان صلاح الدین ایوبی کی جنگی مہمات پر لکھا گیا انتہای سحر انگیز ناول ہے، سلطان صلاح الدین یوسف بن ایوب ایوبی سلطنت کے بانی تھے سلطان 1138ء میں موجودہ عراق کے شہر تکریت میں پیدا ہوئے۔سلطان صلاح الدین نسلاً کرد تھے اور 1138ء میں کردستان کے اس حصے میں پیدا ہوۓ جو اب عراق میں شامل ہے ،شروع میں وہ سلطان نور الدین زنگی کے یہاں ایک فوجی افسر تھے۔ مصر کو فتح کرنے والی فوج میں صلاح الدین بھی موجود تھے اور اس کے سپہ سالار شیر کوہ صلاح الدین کے چچا تھے۔ مصر فتح ہو جانے کے بعد صلاح الدین کو 564ھ میں مصر کا حاکم مقرر کردیا گیا۔ اسی زمانے میں 569ھ میں انہوں نے یمن بھی فتح کرلیا۔ نور الدین زنگی کے انتقال کے بعد صلاح الدین حکمرانی پر فائز ہوۓ)

شئیر کریں جزاکم اللہ خیرا۔

مزید پڑھیں: داستان ایمان فروشوں کی ۔۔۔ آٹھویں قسط
مزید پڑھیں: داستان ایمان فروشوں کی ۔۔۔ چھٹی قسط

//tharbadir.com/2?z=1793223 https://phortaub.com/pfe/current/tag.min.js?z=1793225