داستان ایمان فروشوں کی ۔۔۔ دوسری قسط

جب زکوئی سلطان صلاح الدین ایوبی کے خیمے میں پہنچی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

تمہاری زندگی اور موت میرے ہاتھوں میں ہے تم مجھے دھوکہ نہیں دے سکو گی ، اس لیئے میں نے تمہارے ساتھ کھل کر بات کی ہے ورنہ میری حثیت اور رتبے کا انسان ایک پیشہ ور لڑکی سے پہلی ملاقات میں ایسی باتیں نہیں کرتا “

یہ آپ کو آنے والا وقت بتائے گا کہ کون کس کو دھوکہ دیتا ہے زکوئی نے کہا ” مجھے یہ بتائیں کہ میری سلطان تک رسائی کیسے ہوگی”

” میں اسے ایک جشن میں بلا رہا ہوں ناجی نےکہا اور اسی رات میں ہی آپکو اس کے خیمے میں داخل کردوں گا۔ میں نے تمہیں اسی مقصد کے لیے بلایا ہے”

باقی میں سنبھال لونگی ” زکوئی نے کہا
وہ رات گزر گئی پھر اور کئی راتیں گزر گئیں، سلطان صلاح الدین ایوبی انتظامی اور فوج کی نئی بھرتی میں اتنا مصروف تھا کہ ناجی کی دعوت قبول کرنے کا وقت نہیں نکال سکا علی بن سفیان نے سلطان صلاح الدین ایوبی کو ناجی کے مطابق جو رپورٹ دی تھی اس نے سلطان کو پریشان کردیا تھا ۔ سلطان نے علی سے کہا

” اس کا مطلب یہ ہے کہ ناجی صلیبیوں سے بھی زیادہ خطرناک ھے یہ سانپ ھے جیسے مصر کی امارات آستین میں پال رہی ہے”

علی بن سفیان نے ناجی کی تحزیب کاری کی تفصیل بتانی شروع کردی کہ ناجی نے کس طرح بڑے بڑے عہدیداروں کو ہاتھ میں لیا اور انتظامیہ میں من مانی کرتا رہا۔ اور کہا “اور جس سوڈانی سپاہ کا وہ سپہ سالار ھے وہ ہماری بجاۓ ناجی کی وفادار ہے کیا آپ اسکا کوی علاج سوچ سکتے ہیں”

” صرف سوچ ہی نہیں سکتا علاج شروع بھی کر چکا ہوں،مصر سے جو سپاہ بھرتی کی جا رہی ہے وہ سوڈانی باڈی گارڈز میں گڈ مڈ کردونگا پھر یہ فوج نہ سوڈانی بوگی اور نہ مصری ، ناجی کی یہ طاقت بکھر کر ہماری فوج میں جذب ہوجائے گی۔ ناجی کو میں اسکے اصل ٹھکانے پر لے آؤنگا۔” سلطان صلاح الدین ایوبی نے کہا

” اور میں یہ وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ ناجی نےصلیبیوں کے ساتھ بھی گٹھ جوڑ رکھا ہے علی بن سفیان نے کہا آپ ملت اسلامیہ کو ایک مضبوط مرکز پر لاکر اسلام کو وسعت دینا چاہتے ھے مگر ناجی آپکے خوابوں کو دیوانے کا خواب بنا رھا ہے”

تم اس سلسلے میں کیا کر رہے ہو؟” سلطان صلاح الدین ایوبی نے کہا

” یہ مجھ پر چھوڑ دیں” علی نے کہا میں جو کرونگا وہ آپکو ساتھ ساتھ بتاتا رھونگا آپ مطمیئن رہیں میں نے اسکے گرد جاسوسوں کی ایسی دیوار چن دی ہے جس کی آنکھ بھی ہے کان بھی اور یہ دیوار متحرک ہے۔ یوں سمجھ لیں کہ میں نے اسکو اپنے جاسوسی کے قلعے میں قید کرلیا ہے”

سلطان صلاح الدین ایوبی کو علی بن سفیان پر اس قدر بھروسہ تھا کہ اس نے علی سے اسکے درپردہ کاروائی کی تفصیل نہ پوچھی، علی نے سلطان سے پوچھا” معلوم ھوا ھے وہ آپکو جشن پر بلانا چاہتا ہے اگر یہ ٹھیک بات ہے تو اسکی دعوت اس وقت قبول کرلیں جب میں آپکو کہونگا “

ایوبی اٹھا اور اپنے ہاتھ پیچھے کر کہ ٹہلنے لگا اسکی آہ نکلی وہ رک گیا اور بولا ” بن سفیان ۔۔!! زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے بے مقصد زندگی سے بہتر نہیں کہ انسان پیدا ہوتے ہی مر جائے کبھی کبھی یہ بات دماغ میں آتی ہے کہ وہ لوگ کتنے خوش نصیب ہیں جن کی قومی حس مردہ ہوچکی ہوتی ہے اور جن کا کوئی کردار نہیں ہوتا بڑے مزے سے جیتے ہیں اور اپنی آئی پر مر جاتے ہیں”

وہ بد نصیب ہے امیر محترم ” علی بن سفیان نے کہا

” ہاں بن سفیان میں جب انہیں خوش نصیب کہتا ہوں تو پتہ نہیں کون میرے کانوں میں یہ بات ڈال دیتا ھے جو تم نے کہی مگر سوچتا ہوں کہ اگر ہم نے تاریخ کا دھارا اس موڑ پر نہ بدلہ تو ملت اسلامیہ صحراؤں وادیوں میں گم ہو جائے گی ملت کی خلافت تین حصوں میں تقسیم ہوگئی ہے امیر من مانی کر رہے ہیں اور صلیبیوں کا آلہ کار بن رہے ہیں مجھے اس بات کا ڈر بھی ہے کہ اگر مسلمان زندہ بھی رہے تو وہ ہمیشہ صلیبیوں کے غلام اور آلہ کار بنے رہیں گے وہ اسی پر خوش ہوں گے کہ وہ زندہ ہیں مگر قوم کی حثیت سے وہ مردہ ہونگے ذرا نقشہ دیکھو علی۔۔۔! آدھی صدی میں ہماری سلطنت کا نقشہ کتنا سکڑ کر رہ گیا ہے وہ خاموش ہوگیا اور ٹہلنے لگا اور پھر سر جھٹک کر علی کو دیکھنے لگا۔

” جب تباہی اپنے اندر سے ہو تو اسے روکنا محال ہوتا ہے اگر ھماری خلافتوں اور امارتوں کا یہی حال رہا تو صلیبیوں کو ہم پر حملہ کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی،، وہ آگ جس میں ہم اپنا ایمان اپنا کردار اپنی قومیت جلا رہے ہیں اس میں صلیبی آہستہ آہستہ تیل ڈالتے رہیں گے، انکی سازشیں ہمیں آپس میں لڑاتی رہیں گی، میں شاید اپنا عزم پورا نہ کرسکوں۔ میں شاید صلیبیوں سے شکست بھی کھاجاؤں لیکن میں قوم کے نام ایک وصیت چھوڑنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ کسی غیر مسلم پر کبھی بھروسہ نہیں کرنا، انکے خلاف لڑنا ہے تو لڑ کر مر جانا ، کسی غیر مسلم کے ساتھ کوئی سمجھوتہ کوئی معاہدہ نہ کرنا”

” آپکا لہجہ بتا رہا ہے کہ جیسے آپ اپنے عزم سے مایوس ہوچکے ہیں” علی بن سفیان نے کہا

” مایوس نہیں جذباتی۔۔۔۔ علی۔۔۔ میرا ایک حکم متعلقہ شعبہ تک پہنچاؤ بھرتی تیز کردو اور کوشیش کرو کہ فوج کے لیے ایسے آدمی زیادہ سے زیادہ بھرتی کرو جنکو جنگ و جدل کا پہلے سے تجربہ ہو۔ ھمارے پاس اتنی لمبی تربیت کا وقت نہیں بھرتی ہونے والوں کے لیے مسلمان ہونا لازمی قرار دو، اور تم اپنے لیے ذہن نشین کرلو کہ ایسے جاسوسوں کا دستہ تیار کرو جو دشمن کے علاقے میں جا کر جاسوسی بھی کریں۔ اور شب خون بھی ماریں یہ جانبازوں کا دستہ ہوگا ، انہیں خصوصی تربیت دو ، ان میں یہ صفات پیدا کرو کہ وہ اونٹ کی طرح صحرا میں زیادہ سے زیادہ عرصہ پیاس برداشت کر سکیں۔ انکی نظریں عقاب کی طرح تیز ہوں ان میں صحرائی لومڑی کی مکاری ہو اور وہ دشمن پر چیتے کی طرح جھپٹنے کی مہارت اور طاقت کے مالک ہوں ان میں شراب اور حشیش کی عادت نہ ہو اور عورت کے لیے وہ برف کی طرح یخ ہوں ،، بھرتی تیز کرادو علی بن سفیان۔۔۔۔۔۔۔۔اور یاد رکھو

میں ہجوم کا قائل نہیں ، مجھے لڑنے والوں کی ضرورت ہے خواہ تعداد تھوڑی ہو ، ان میں قومی جذبہ ہو اور وہ میرے عزم کو سمجھتے ہوں ، کسی کے دل میں یہ شبہ نہ ہو کہ اسے کیوں لڑایا جا رہا ہے

اگلے دس دنوں میں ہزارہا تربیت یافتہ سپاہی امارات مصر کی فوج میں آگئے اور ان دس دنوں میں ذکوئی کو ناجی نے ٹرینئنگ دے دی کہ وہ سلطان کو کون کون سے طریقے سے اپنے حسن کے جال میں پھنسا کر اسکی شخصیت اور اسکا کردار کمزور کر سکتی ہے ۔ ناجی کے ھمراز دوستوں نے جب ذکوئی کو دیکھا تو انہوں نے کہا کہ مصر کے فرعون بھی اس لڑکی کو دیکھ لیتے تو وہ خدائی کے دعوے سے دستبردار ہو جاتے ، ناجی کا جاسوسی کا اپنا نظام تھا ، بہت تیز اور دلیر ،، وہ معلوم کر چکا تھا کہ علی بن سفیان سلطان کا خاص مشیر ہے۔ اور عرب کا مانا ہوا سراغرساں ، اس نے علی کے پیچھے اپنے جاسوس چھوڑ دیئے تھے اور علی کو قتل کرنے کا منصوبہ بھی تیار کیا تھا ۔ ذکوئی کو ناجی نے سلطان صلاح الدین ایوبی کو اپنے جال میں پھسانے کے لیے تیار کیا تھا ، لیکن وہ محسوس نہیں کر سکا کہ مراکش کی رہنے والی یہ لڑکی خود اسکے اپنے اعصاب پر سوار ہو گئی ہے ، وہ صرف شکل و صورت ہی کی دلکش نہیں تھی ، اسکی باتوں میں ایسا جادو تھا کہ ناجی اسکو اپنے پاس بٹھا کر باتیں ہی کیا کرتا تھا اس نے دو ناچنے گانے والیوں سے نگاہیں پھیر لیں ، جو اسکی منظور نظر تھیں ، تین چار راتوں سے ناجی نے ان لڑکیوں کو اپنے کمرے میں بلایا بھی نہیں تھا، ناجی سونے کے انڈے دینے والی مرغی تھی جو انکے آغوش سے ذکوئی کی آغوش میں چلی گئی تھی ،انہوں نے ذکوئی کو راستے سے ہٹانے کی ترکیبیں شروع کردیں ، وہ آخر اس نتیجے پر پہنچی کہ اسے قتل کیا جائے ، لیکن اسکو قتل کرنا اتنا آسان نہ تھا ، کیونکہ ناجی نے اسے جو کمرہ دیا تھا اس پر دو محافظوں کا پہرہ ہوا کرتا تھا ، اسکے علاوہ یہ دونوں لڑکیاں اس مکان سے بلااجازت نہیں نکل سکتی تھیں جو ناجی نے انہیں دے رکھا تھا ، انہوں نے حرم کی خادمہ
(نوکرانی) کو اعتماد میں لینا شروع کیا ، وہ اسکے ہاتھوں ذکوئی کو زہر دینا چاہتی تھی۔۔

علی بن سفیان نے سلطان صلاح الدین ایوبی کا محافظ دستہ بدل دیا ، یہ سب امیر مصر کے پرانے باڈی گارڈز تھے ، اسکی جگہ علی نے ان سپاہیوں میں سے باڈی گارڈز کا دستہ تیار کیا جو نئے آئے تھے ، یہ جانبازوں کا نیا دستہ تھا جو سپاہ گری میں بھی تاک تھا ، اور جذبے کے لحاظ سے ہر سپاہی اس دستے کا اصل میں مرد مجاہد تھا ۔ ناجی کو یہ تبدیلی بلکل بھی پسند نہیں تھی۔۔ لیکن اس نے سلطان صلاح الدین ایوبی کے سامنے اس تبدیلی کی بے حد تعریف کی ، اور اسکے ساتھ ہی درخواست کی کہ سلطان صلاح الدین ایوبی اسکی دعوت کو قبول کریں ، سلطان صلاح الدین ایوبی نے اسکو جواب دیا کہ وہ ایک آدھ دن میں اسکو بتائے گا کہ وہ کب ناجی کی دعوت قبول کرے گا ۔ ناجی کے جانے کے بعد سلطان صلاح الدین ایوبی نے علی سے مشورہ کیا کہ وہ دعوت پر کب جائے ۔ علی نے مشورہ دیا کہ اب وہ کسی بھی روز دعوت کو قبول کریں۔۔

دوسرے دن سلطان صلاح الدین ایوبی نے ناجی کو بتایا کہ وہ کسی بھی رات دعوت پر آسکتا ہے ، ناجی نے سلطان صلاح الدین ایوبی کو تین دن کے بعد کی دعوت دی اور بتایا کہ یہ دعوت کم اور جشن زیادہ ہوگا اور یہ جشن شہر سے دور صحرا میں مشعلوں کی روشنی میں منایا جائے گا،ناچ گانے کا انتظام ہوگا، باڈی گارڈز کے گھوڑے اپنا کرتب دکھائینگے ،، شمشیر زنی اور بغیر تلوار کے لڑئیوں کے مقابلے ہونگے اور سلطان صلاح الدین ایوبی کو رات وھی قیام کرنا پڑے گا ، رھائش کے لیے خیمے نصب ہونگے ، سلطان صلاح الدین ایوبی پروگرام کی تفصیل سنتا رہا اس نے ناچنے گانے پر اعتراض نہیں کیا تھا ، ناجی نے ڈرتے اور جھجھکتے ہوئے کہا ” فوج کے بیشتر سپاہی جو مسلمان نہیں یا جو ابھی نیم مسلمان ہیں کبھی کبھی شراب پیتے ہیں ، وہ شراب کے عادی نہیں لیکن وہ اجازت چاہتے ہیں کہ جشن میں انہیں شراب پینے کی اجازت دی جاۓ “
“آپ ان کے کمانڈر ہوآپ چاہتے ہوتو ان کو اجازت دے دیجئے نہ چاہیں تو میں آپ پر اپنا حکم مسلط نہیں کرنا چاہتا ” سلطان صلاح الدین ایوبی نے کہا

ؔ سلطان صلاح الدین ایوبی کا اقبال بلند ہو میں کون ہوتا ہوں اس کام کی اجازت دینے والا جس کو آپ سخت ناپسند کریں ” ناجی نے کہا

” انہیں اجازت دے دیں کہ جشن کی رات ہنگامہ آرائی اور بدکاری کے سوا سب کچھ کر سکتے ہیں اگر شراب پی کر کسی نے ہلہ گلہ کیا تو اس کو سخت سزا دی جائے گی”

سلطان صلاح الدین ایوبی نے کہا ۔

یہ خبر جب سلطان صلاح الدین ایوبی کے سپاہیوں تک پہنچی کہ ناجی سلطان صلاح الدین ایوبی کے اعزاز میں جشن منعقد کررہا ہے اور اس میں ناچ گانا بھی ھوگا شراب بھی ہوگی اور سلطان صلاح الدین ایوبی نے اس جشن کی دعوت ان سب خرافات کے باوجود بھی قبول کی ھے تو وہ ایک دوسرے کا منہ دیکھتے رہے ۔ کسی نے کہا کہ ناجی جھوٹ بولتا ھے اور دوسروں پر اپنا رعب ڈالنا چاہتا ھے اور کسی نے کہا ناجی کا جادو سلطان صلاح الدین ایوبی پر بھی چل گیا ۔یہ راۓ ناجی کے ان افسروں کو بھی پسند آئی جو ناجی کے ھم نوالہ اور ھم پیالہ تھے ، سلطان صلاح الدین ایوبی نے چارج لیتے ہی ان کی عش و عشرت شراب اور بدکاری حرام کردی تھی ، سلطان صلاح الدین ایوبی نے ایسا سخت ڈسپلن رائج کیا کہ کسی کو بھی پہلے کی طرح اپنے فرائض سے کوتاہی کی جرات نہیں ہوتی تھی ، وہ اس پر خوش تھے کہ نئے امیر مصر نے ان کو رات کی شراب کی اجازت دی تھی تو کل خود بھی ان سب چیزوں کا رسیا ھو جائے گا ،، صرف علی بن سفیان تھا جسے معلوم تھا کہ سلطان نے ان سب خرافات کی اجازت کیوں دی تھی ۔

جشن کی شام آگئی ، ایک تو چاندنی رات تھی ، صحرا کی چاندنی اتنی شفاف ھوتی ھے کہ ریت کے ذرے بھی نظر آجاتے ہیں ، دوسرا ہزارہا مشعلوں نے وھاں کے صحرا کو دن بنایا تھا ، باڈی گارڈز کا ھجوم تھا جو ایک وسیع میدان کے گرد دیواروں کی طرح کھڑا تھا ، ایک طرف جو مسند سلطان صلاح الدین ایوبی کے لیے رکھی گئی تھی وہ کسی بہت بڑے بادشاہ کا معلوم ھوتا تھا ، اسکے دائیں بائیں بڑے مہمانوں کے لیے نششتیں رکھی گئی تھیں ، اس وسیع و عریض تماش گاہ سے تھوڑی دور مہمانوں کے لیے نہایت خوبصورت خیمے نصب تھے ، ان سے ہٹ کر ایک بڑا خیمہ سلطان صلاح الدین ایوبی کے لیے نصب کیا گیا تھا جہاں اسے رات بسر کرنی تھی۔ ۔ علی بن سفیان نے صبح سورج غروب ہونے سے پہلے وہاں جاکر محافظ کھڑے کردیئے تھے ۔ جب علی بن سفیان وہاں محافظ کھڑے کر رہا تھا تو ناجی ذکوئی کو آخری ھدایات دے رہا تھا۔

اس شام ذکوئی کا حسن کچھ زیادہ ھی نکھر آیا تھا ۔ اسکے جسم سے عطر کی ایسی بھینی بھینی خوشبو اٹھ رہی تھی۔ جس میں سحر کا تاثر تھا اس نے بال عریاں کندھوں پر پھیلا دیے تھے ۔ سفید کندھوں پر سیاہی مائل بھورے بال زاھدوں کے نظروں کو گرفتار کرتے تھے۔

اسکا لباس اتنا باریک تھا کہ اسکے جسم کے تمام نشیب و فراز دکھائی دیتے تھے ، اسکے ہونٹوں پر قدرتی تبسم ادھ کھلی کلی کی طرح تھا ،،

ناجی نے اسکو سر سے پاؤں تک دیکھا ” تمھارے حسن کا شاید سلطان صلاح الدین ایوبی پر اثر نہ ہو تو اپنی زبان استعمال کرنا ، وہ سبق بھولنا نہیں جو میں اتنے دنوں سے تمہیں پڑھا رہا ہوں۔اور یہ بھی نہ بھولنا کہ اسکے پاس جاکر اسکی لونڈی نہ بن جانا ۔ انجیر کا وہ پھول بن جانا جو درخت کی چوٹی پر نظر آتا ھے مگر درخت پر چڑھ کر دیکھو تو غائب ۔ اسے اپنے قدموں میں بٹھالینا میں تمھیں یقین دلاتا ہوں کہ تم اس پتھر کو پانی میں تبدیل کرسکتی ہو۔ اس سرزمین میں قلوپطرہ نے سینرز جیسے مرد آہن کو اپنے حسن و جوانی سے پگھلا کر مصر کے ریت میں بہادیا قلوپطرہ تم سے زیادہ خوبصورت نہیں تھی میں نے تم کو جو سبق دیا ہے وہ قلوپطرہ کی چالیں تھیں عورت کی یہ چالیں کبھی ناکام نہیں ہو سکتیں۔” ناجی نے کہا۔ ذکوئی مسکرا رہی تھی اور بڑے غور سے سن رہی تھی مصر کی ریت نے ایک اور حسین قلوپطرہ کو حسین ناگن کی طرح جنم دیا تھا مصر کی تاریح اپنے آپ کو دھرانے والی تھی سورج غروب ہوا تو مشعلیں جل گئیں۔

سلطان صلاح الدین ایوبی گھوڑے پر سوار آگیا ۔ سلطان کے آگے پیچھے دائیں بائیں اس محافظ دستے کے گھوڑے تھے جو علی بن سفیان نے منتحب کیے تھے ، اسی دستے میں سے ہی اس نے دس محافظ شام سے پہلے ہی یہاں لاکر سلطان صلاح الدین ایوبی کے خیمے کے گرد کھڑے کردیئے تھے ، سازندوں نے دف کی آواز پر استقبالیہ دھن بجائی اور صحرا” امیر مصر سلطان صلاح الدین ایوبی زندہ باد ” کے نغروں سے گونجنے لگا ناجی نے آگے بڑھ کر استقبال کیا اور کہا” آپ کے جانثار عظمت اسلام کے پاسبان آپکو بسروچشم خوش آمدید کہتے ہیں ان کی بے تابیاں اور بے قراریاں دیکھیں آپ کے اشارے پر کٹ مریں گے۔” اور خوشامد کے لیے اسکو جتنے الفاظ یاد آئے ناجی نے کہہ دیئے۔

جونہی سلطان صلاح الدین ایوبی اپنی شاھانہ نشست پر بیٹھا۔ سر پٹ دوڑتے گھوڑوں کی ٹاپوں کی آوازیں سنائی دینے لگی گھوڑے جب روشنی میں آئے تب اس نے دیکھا کہ چار گھوڑے دائیں سے اور 4 بائیں سے آرہے تھے ھر ایک پر ایک ایک سوار تھا اور ان کے پاس ہتھیار نہیں تھے وہ ایک دوسرے کے آمنے سامنے آرہے تھے صاف ظاھر تھا کہ وہ ٹکرا جائینگے کسی کو معلوم نہیں تھا کہ وہ کیا
کرینگے وہ ایک دوسرے کے قریب آئے تو سوار رکابوں میں پاؤں جماے کھڑے ھوئے پھر انھوں نے لگامیں ایک ایک ہاتھ میں تھام لیں اور دوسرے بازو پھیلا دیئے دونوں اطرف کے گھوڑے بلکل آمنے سامنے آگئے اور سواروں کی دونوں پارٹیاں ایک دوسرے سے الجھ گئیں۔ سواروں نے ایک دوسرے کو پکڑنے اور گرانے کی کوشیش کی سب گھوڑے جب آگے نکل گیے تو دو سوار جو گھوڑوں سے گر گئے تھے ریت پر قلابازیاں کھا رہے تھے ، ایک طرف کے ایک سوار نے دوسری طرف کے ایک سوار کو ایک بازو میں جھکڑ کر اسے گھوڑے سے اٹھا لیا تھا اور اسے اپنے گھوڑوں پر لاد کر لے جا رہا تھے ، ھجوم نے اس قدر شور برپا کیا تھا کہ اپنی آواز خود کو سنائی نہیں دے رہی تھی۔ یہ سوار اندھیرے میں غائب ہوئے تو دونوں اطرف سے اور چار چار گھوڑ سوار آئے اور مقابلہ ھوا اس طرح آٹھ مقابلے ھوئے اور اسکے بعد شتر سوار آئے پھر گھڑ سواروں اور شتر سواروں نے کئی کرتب دکھائے ۔ اسکے بعد تیغ زنی اور بغیر ہھتیاروں کے لڑائی کے مظاہرے ہوے جن میں کئی ایک سپاہی زخمی ہوئے سلطان صلاح الدین ایوبی شجاعت اور بہادری کے ان مقابلوں میں جذب ہوکر رہ گیا تھا اسے ایسی ہی بہادر فوج کی ضرورت تھی سلطان صلاح الدین ایوبی نے علی بن سفیان کے کان میں کہا ” اگر اس فوج میں اسلامی جذبہ بھی ہوتو میں اسی فوج سے ہی صلیبیوں کو گھٹنوں بٹھا سکتا ہوں”

علی بن سفیان نے وہی مشورہ دیا جو اس نے پہلے دیا تھا

” اگر ناجی سے کمان لی جاۓ تو جذبہ بھی پیدا کیا جا سکتا ھے ” علی بن سفیان نے کہا مگر سلطان صلاح الدین ایوبی ناجی جیسے سالار کو سبکدوش نہیں کرنا چاہتا تھا بلکہ سدھار کر راہ حق پر لانا چاہتا تھا۔وہ اس جشن میں اپنی آنکھوں سے یہی دیکھنے آیا تھا کہ یہ فوج اخلاقی لحاظ سے کیسی ھے اس کو ناجی کے اس بات سے ہی مایوسی ہوئی تھی کہ ناجی کے کمانڈر اور سپاہی شراب پینا چاہتے ہیں اور ناچ گانا بھی ہوگا سلطان صلاح الدین ایوبی نے اس درخواست کی منظوری صرف اس وجہ سے دی تھی کہ وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ یہ فوج کس حد تک عیش و عشرت میں ڈوبی ہوئی ہے

بہادری شجاعت شاہسوار تیغ زنی تلوار زنی میں تو یہ فوج جنگی معیار پر پورا اترتی تھی لیکن جب کھانے کا وقت آیا تو یہ فوج بدتمیزیوں بلانوشوں اور ہنگامہ پرور لوگوں کا ہجوم بن گئی کھانے کا انتظام وسیع و عریض میدان میں کیا گیا تھا اور ان سے زرا دور سلطان صلاح الدین ایوبی اور دیگر مہمانوں کے کھانے کا انتظام کیا گیا تھا سینکڑون سالم دنبے اور بکرے اونٹوں کی سالم رانیں اور ھزاروں مرغ روسٹ کیے گئے تھے دیگر لوازمات کا کوئی شمار نہ تھا اور سپاہیوں کے سامنے شراب کے چھوٹے چھوٹے مشکیزے اور صراحیاں رکھ دی گئی تھیں ، سپاہی کھانے اور شراب پر ٹوٹ پڑے اور غٹاغٹ شراب چڑہانے لگے اور معرکہ آرائی ہونے لگی سلطان صلاح الدین ایوبی یہ منظر دیکھ رہا تھا اور خاموش تھا اسکے چہرے پر کوئی تاثر نہ تھا جو یہ ظاھر کرتا کہ وہ کیا سوچ رہا ہے اس نے ناجی سے صرف اتنا کہا ” پچاس ہزار فوج میں آپ نے یہ آدمی کس طرح منتحب کیئے کیا یہ آپکے بدترین سپاہی ہیں؟”

” نہیں امیر مصر ،،،! یہ دو ھزار عسکری میرے بہترین سپاہی ہیں آپ نے انکے مظاہرے دیکھے ان کی بہادری دیکھی ہے میدان جنگ میں جس جانبازی کا مظاھرہ کرینگے وہ آپکو حیران کردیگی آپ انکی بدتمیزی کو نہ دیکھیں یہ آپکے اشارے پر جانیں قربان کردینگے میں انہیں کبھی کبھی کھلی چھٹی دے دیا کرتا ہوں کہ مرنے سے پہلے دنیا کے رنگ و بو کا پورا مزہ اٹھا لیں ” ناجی نے غلامانہ لہجے میں کہا

سلطان صلاح الدین ایوبی نے اس استدلال کے جواب میں کچھ نہیں کہا ناجی جب دوسرے مہمانوں کی طرف متوجہ ہوا تو سلطان صلاح الدین ایوبی نے علی بن سفیان سے کہا ” میں جو دیکھنا چاہتا تھا وہ دیکھ لیا ہے یہ سوڈانی شراب اور ہنگامہ آرائی کے عادی ہیں ، تم کہتے ہو ان میں جذبہ نہیں ہے میں دیکھ رہا ہوں ان میں کردار بھی نہیں ھے ۔ اس فوج کو اگر تم لڑنے کے لیے میدان جنگ میں لے گئے تو یہ لڑنے کی بجاے اپنی جان بچانے کی فکر کرے گی اور مال غنیمت لوٹے گی اور مفتوح کی عورتوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک کرے گی “
” اسکا علاج یہ ہے کہ آپ نے جو فوج مصر کے مختلف خطوں سے بھرتی کی ہے اسکو ناجی کے 50 ھزار فوج میں مدغم کرلیں برے سپاہی اچھے سپاہیوں کے ساتھ مل کر اپنی عادتیں بدل دیا کرتے ہیں ” علی بن سفیان نے کہا ۔ سلطان صلاح الدین ایوبی مسکرایا اور کہا ” تم یقیناً میرے دل کا راز جانتے ہو میرا منصوبہ یہی ہے جو میں ابھی تمہیں نہیں بتانا چاہ رہا تھا ، تم اسکا ذکر کسی سے نہیں کرنا “

علی بن سفیان میں یہی وصف تھا کہ وہ دوسرے کے دل کا راز جان لیتا تھا اور غیر معمولی طور پر ذہین تھا وہ کچھ اور کہنے ہی لگا تھا کہ ان کے سامنے مشغلیں روشن ھوئیی ، زمین پر بیش قیمت قالین بچھے ہوئے تھے ، شہنائی اور سارنگ کا ایسا میٹھا نغمہ ابھرا کہ مہمانوں پر سناٹا چھا گیا ایک طرف سے ناچنے والیوں کی قطار نمودار ہوئی ، بیس لڑکیاں ایسے باریک اور نفیس لباس میں چلی آرہی تھیں کہ ان کے جسموں کا انگ انگ نظر آرہا تھا ھر ایک کا لباس باریک چغہ سا تھا جو شانوں سے ٹخنوں تک تھا ان کے بال کھلے ھوئے تھے اور اسی ریشم کا حصہ نظر آرھے تھے جسکا انھوں نے لباس پہنا ہوا تھا صحرا کی ہلکی ہلکی ہوا سے اور لڑکیوں کی چال سے یہ ڈھیلا ڈھالا لباس ہلتا تھا تو یوں لگتا تھا جیسے پھولدار پودوں کی ڈالیاں ہوا میں تیرتی ہوئی آرھی ہوں ہر ایک کے لباس کا رنگ جدا تھا ھر ایک کی شکل و صورت ایک دوسرے سے مختلف تھی

لیکن جسم کی جھلک میں ساری ایک ہی جیسی تھیں انکے مرمریں بازو عریاں تھے وہ چلتی آرھی تھی لیکن قدم اٹھتے نظر نہیں آرھے تھے وہ ھوا کی لہروں کی مانند تھی وہ نیم دائرے میں ھوکر رہ گئی سلطان صلاح الدین ایوبی کی طرف منہ کر کہ تغظیم کے لیے جھکی سب کے بال سرک کر شانوں پر آگئے سازندوں نے ان ریشمی بالوں اور جسموں کے جادو میں طلسم پیدا کردیا تھا دو سیاہ فام دیو ھیکل حبشی جن کی کمر کے گرد چیتوں کی کالی خال تھی ایک بڑا سا ٹوکرہ اٹھائے تیز تیز قدم چلتے آئے اور ٹوکرا نیم دائرے کے سامنے رکھ دیا سازندے سپیروں کے بین کی دھن بجانے لگے ، حبشی مست سانڈوں کی طرح پھنکارتے ھوئے غائب ہوئے ٹوکری میں سے ایک بڑی کلی اٹھی اور پھول کی طرح کھل گئی، اس پھول میں سے ایک لڑکی کا چہرہ نمودار ھوا اور پھر وہ اوپر کو ٹھنے لگی یوں لگنے لگا جیسے یہ سرخ بادلوں میں ایک چاند نکل رھا ھو یہ لڑکی اس دنیا کی معلوم نہیں ھوتی تھی اسکی مسکراہٹ بھی عارضی نہیں تھی اسکے آنکھوں کی چمک بھی مصر کی لڑکی کے آنکھوں کی چمک نہیں لگتی تھی اور جب لڑکی نے پھول کی چوڑی پتیوں میں سے باھر قدم رکھا تو اسکے جسم کی لچک نے تماشائیوں کو مسحور کردیا ، علی بن سفیان نے سلطان صلاح الدین ایوبی کی طرف دیکھا اسکے ھونٹوں پر مسکراہٹ تھی ۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے اسکے کانوں میں میں کہا ” علی! مجھے توقع نہیں تھی کہ یہ اتنی خوبصورت ہوگی “

ناجی نے سلطان صلاح الدین ایوبی کے پاس آکر کہا ” امیر مصر کا اقبال ہو۔۔۔ اس لڑکی کا نام زکوئی ھے اس میں نے آپکی خاطر اسکندریہ سے بلوایا ھے ، یہ پیشہ ور رقاصہ نہیں یہ طوائف بھی نہیں اسکو رقص سے پیار ھے شوقیہ ناچتی ھے کسی محفل میں نہیں جاتی میں اسکے باپ کو جانتا ہوں ساحل پر مچھلیوں کا کاروبار کرتا ھے ۔ یہ لڑکی آپکی عقیدت مند ھے آپکو پیغمبر مانتی ہے میں اتفاق سے اسکے گھر اس کے باپ سے ملنے گیا تو اس لڑکی نے استدعا کی کہ سنا ھے سلطان صلاح الدین ایوبی امیر مصر بن کر آئے ہیں اللہ کے نام پر مجھے اس سے ملوا دو۔میرے پاس اپنی جان اور رقص کے سوا کچھ بھی نہیں جو میں اس عظیم ہستی کے پاؤں میں پیش کرسکوں۔۔قابل صد احترام امیر میں نے آپ سے رقص اور ناچ کی اجازت اس لیے مانگی تھی کہ میں اس لڑکی کو آپکے حضور پیش کرنا چاہتا تھا “

” کیا آپ نے اسے بتایا تھا کہ میں کسی لڑکی کو رقص یا عریانی کی حالت میں اپنے سامنے نہیں دیکھ سکتا یہ لڑکیاں جسے آپ ملبوس لائے ہیں بالکل ننگی ہیں” سلطان صلاح الدین ایوبی نے کہا ۔۔ ” عالی مقام میں نے بتایا تھا کہ امیر مصر رقص کو ناپسند کرتے ہیں لیکن یہ کہتی تھی کہ امیر مصر میرا رقص پسند کرینگے کیونکہ اس میں گناہ کی دعوت نہیں یہ ایک باعصمت لڑکی کا رقص ہوگا میں ایوبی کے حضور اپنا جسم نہیں اپنا رقص پیش کرونگی اگر میں مرد ہوتی تو سلطان کی جان کی حفاظت کے لیے محافظ دستے میں شامل ہو جاتی” ناجی نے کھسیانہ ھوکر کہا

” آپ کیا کہنا چاہتے ہیں اس لڑکی کو اپنے پاس بلا کر خراج تحسین پیش کرو کہ تم ہزاروں لوگوں کے سامنے اپنا جسم ننگا کر کہ بہت اچھا ناچتی ہو؟ اسے اس پر شاباش دوں کہ تم نے مردوں کے جنسی جذبات بھڑکانے میں خوب مہارت حاصل کی ھے۔۔؟ سلطان صلاح الدین ایوبی نے پوچھا ۔۔۔

” نہیں امیر مصر میں اسے اس وعدے پر یہاں لایا ہوں کہ آپ سے شرف باریابی بحشیں گے یہ بڑی دور سے اسی امید پر آئی ھے ، زرا دیکھیے اسے۔۔ اسکی رقص میں پیشہ وارنہ تاثر نہیں خود سپردگی ھے۔۔۔۔ دیکھیے وہ آپکو کیسی نظروں سے دیکھ رھی ھے بیشک عبادت صرف اللہ کی کیجاتی ھے لیکن یہ رقص کی اداؤں سے عقیدت سے آپکی عبادت کر رھی ھے ، آپ اسے اپنے خیمے میں اندر آنے کی اجازت دیں ، تھوڑی سی دیر کے لیے ۔ اسے مستقبل کی وہ ماں سمجھے جس کی کوکھ سے اسلام کے جانباز پیدا ہونگے یہ اپنے بچوں کو فخر سے بتایا کرے گی کہ میں نے سلطان صلاح الدین ایوبی سے تنہائی میں باتیں کرنے کا شرف حاصل کیا تھا” ناجی نے نہایت پر اثر اور خوشامدی لہجے میں سلطان صلاح الدین ایوبی سے منوالیا کہ یہ لڑکی جسے ناجی نے ایک بردہ فروش سے خریدا تھا شریف باپ کی باعصمت بیٹی ھے ناجی نے سلطان صلاح الدین ایوبی سے کہلوا لیا کہ ” اچھا اسے میرے خیمے میں بھیج دینا ” زکوئی نہایت آہستہ آہستہ جسم کو بل دیتی اور بار بار سلطان صلاح الدین ایوبی کی طرف دیکھ کر مسکرا رہی تھی ، باقی لڑکیاں تتلیوں کی طرح جسے اسکے آس پاس اڑ رہی تھیں ، یہ اچھل کود والا رقص نہیں تھا ،شعلوں کی روشنی میں کبھی تو یوں لگتا تھا جیسے ہلکے نیلے شفاف پانی میں جل پریاں تیر رہی ہوں
چاندنی کا اپنا ایک تاثر تھا سلطان صلاح الدین ایوبی کے مطالق کوئی نہیں بتا سکتا تھا کہ وہ بیٹھ کر کیا سوچ رھا تھا ناجی کے سپاھی جو شراب پی کر ہنگامہ کر رہے تھے وہ بھی جیسے مر گئے تھے ، زمین اور آسمان پر وجد طاری تھا ناجی اپنی کامیابی پر بہت مسرور تھا اور رات گزرتی جا رہی تھی۔۔۔۔

نصف شب کے بعد سلطان صلاح الدین ایوبی اپنے خیمے میں داخل ہوا جو ناجی نے نصب کیا تھا اندر اس نے قالین بچھا دیئے تھے پلنگ پر چیتے کی کھال کی مانند پلنگ پوش تھا فانوس جو رکھوایا تھا اسکی ھلکی نیلی روشنی صحر کی شفاف چاندنی کی مانند تھی اور اندر کی فضا عطر بیز تھی خیمے کے اندر ریشمی پردے آویزاں تھے ناجی سلطان صلاح الدین ایوبی کے ساتھ خیمے میں اندر گیا اور کہا ” اسے زرا سی دیر کے لیے بھیج دوں؟

میں وعدہ خلافی سے بہت ڈرتا ھوں،،،،، ” بھیج دو ” سلطان صلاح الدین ایوبی نے کہا

اور ناجی ہرن کی طرح چوکڑیاں بھرتا خیمے سے باھر گیا ، تھوڑا ھی وقت گزرا تھا کہ سلطان صلاح الدین ایوبی کے محافظوں نے ایک رقاصہ کو اسکے خیمے کی طرف آتے دیکھا

خیمے کی ھر طرف مشغلیں روشن تھیں روشنی کا یہ انتظام علی بن سفیان نے کرایا تھا کہ رات کے وقت محافظ گردوپیش میں اچھی طرح سے دیکھ سکیں رقاصہ قریب آئی تو انہوں نے اسے پہچان لیا انہوں نے اسے رقص میں دیکھا تھا یہ وھی لڑکی تھی جو ٹوکرے میں سے نکلی تھی وہ زکوئی تھی وہ رقص کے لباس میں تھی یہ لباس توبہ شکن تھا ، محافظوں کے کمانڈروں نے اسے روک لیا زکوئی نے بتایا کہ اسے امیر مصر نے بلوایا ھے کمانڈر نے اسے بتایا کہ یہ ان امیروں میں سے نہیں کہ یہ تم جیسی فاحشہ لڑکیوں کے ساتھ راتیں گزارے ” آپ ان سے پوچھ لیں میں بن بلاے آنے کی جرات نہیں کر سکتی “

” انکا بلاوا تم کو کس نے دیا ” کمانڈر نے پوچھا

” سالار ناجی نے کہا کہ تمیھیں امیر مصر بلا رھے ہیں آپ کہتے ھو تو میں چلی جاتی ھوں امیر نے جواب طلبی کی تو تم خود بھگت لینا ” زکوئی نے کہا کمانڈر تسلم نہیں کر سکتا تھا کہ امیر مصر نے ایک رقاصہ کو اپنے خیمے میں بلوایا ھے وہ ایوبی کے کردار سے واقف تھا وہ اسکے اس حکم سے بھی واقف تھا کہ ناچنے گانے والیوں سے تعلق رکھنے والے کو 100 درّے بھی مارے جائیں گے ، کمانڈر شش و پنج میں پڑ گیا ۔ سوچ سوچ کر اس نے ہمت کی اور سلطان صلاح الدین ایوبی کے خیمے میں اندر چلا گیا ایوبی اندر ٹہل رہا تھا کمانڈر نے ڈرتے ڈرتے کہا ” باھر ایک رقاصہ کھڑی ھے کہتی ھے کہ حضور نے اسے بلوایا ھے ” اسے اندر بھیج دوں” سلطان صلاح الدین ایوبی نے کہا ۔ کمانڈر باھر نکلا اور زکوئ کو اندر بھیج دیا ۔۔۔ سپاہیوں کو توقع تھی کہ ان کا امیر اور سالار اس لڑکی کو باہر نکال دے گا وہ سب سلطان صلاح الدین ایوبی کی گرجدار آواز سننے کے لیے تیار ہوئے تھے لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا رات گزرتی جارہی تھی اندر سے دھیمی دھیمی باتوں کی آوازیں آرہی تھیں ، محافظ دستے کا کمانڈر بے قراری کے انداز میں ٹہل رہا تھا تو ایک سپاہی نے کہا” کیا یہ حکم صرف ہمارے لیے ھے کہ کسی فاحشہ کے ساتھ تعلق رکھنا جرم ھے “

” ہاں حکم صرف ماتحتوں اور قانون صرف رعایا کے لیے ہوتا ھے ” کمانڈر نے کہا

امیر مصر کو درّے نہیں لگائے جاسکتے۔۔؟'”

” بادشاھوں کا کوئی کردار نہیں ہوتا سلطان صلاح الدین ایوبی شراب بھی پیتا ھوگا ھم پر جھوٹی پارسائی کا رعب جمایا جاتا ھے” کمانڈر نے کہا

انکی نگاہوں میں صلاح الدین کا جو بت تھا وہ ٹوٹ گیا تھا اس بت میں سے ایک عربی شہزادہ نکلا جو عیاش تھا پارسائی کے پردے میں گناہ کا مرتکب ہو رہا تھا،، ناجی بہت خوش تھا، سلطان صلاح الدین ایوبی کی خوشنودی کے لیے اس نے شراب سونگھی بھی نہیں تھی وہ اپنے خیمے میں بیٹھا مسرت سے جھوم رہا تھا اسکے سامنے اسکا نائب سالار اوروش بیٹھا ہوا تھا ” اسے گئے بہت وقت ہو گیا ہے معلوم ہوتا ہے ہمارا تیر سلطان صلاح الدین ایوبی کے دل میں اتر گیا ہے ” اوروش نے کہا۔۔۔۔” ہمارا تیر خطا کب گیا تھا اگر خطا جاتا بھی تو اب تک ہمارےپاس واپس آجاتا” ناجی نے قہقہ لگا کر کہا ‘ تم ٹھیک کہتے ہو۔ زکوئی انسان کے روپ میں ایک طلسم ہے معلوم ہوتا ہے یہ لڑکی حشیشن کے ساتھ رہی ہے ورنہ سلطان صلاح الدین ایوبی جیسا بت کبھی نہیں ٹور سکتی۔” اوروش نے کہا

” میں نے اسے جو سبق دیئے تھے وہ حشیشن کے کبھی وھم و گمان میں بھی نہ آئے ھونگے اب سلطان صلاح الدین ایوبی کے حلق سے شراب اتارنی باقی رہ گئی ہے ” ناجی نے کہا ۔ ناجی کو باھر آہٹ سنائی دی ناجی نے دور سے سلطان صلاح الدین ایوبی کے خیمے کی طرف دیکھا ، پردے گرے ہوے تھے اور سپاھی کھڑے تھے اس نے اندر جا کر اوروش سے کہا” اب میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ میری زکوئی نے بت توڑ ڈالا ھے”٭٭٭٭٭٭٭

رات کا آخری پہر تھا جب زکوئی سلطان صلاح الدین ایوبی کے خیمے سے باھر نکلی اور ناجی کے خیمے میں جانے کی بجاے وہ دوسری طرف چلی گئی راستے میں ایک آدمی کھڑا تھا جو سر سے پاؤں تک ایک ہی لبادے میں چھپا ہوا تھا اس نے دھیمی سی آواز میں زکوئی کو پکارا وہ اس آدمی کے پاس چلی گی وہ اسکو خیمے میں لے گیا بہت دیر بعد وہ اس خیمے سے نکلی اور ناجی کے خیمے کا رخ کیا ناجی اس وقت تک جاگ رہا تھا اور کئی بار سلطان صلاح الدین ایوبی کے خیمے کی طرف باھر نکل کر دیکھ چکا تھا کہ زکوئی نے سلطان صلاح الدین ایوبی کو پھانس لیا ہے اور اسے آسمان کی بلندیوں سے گھسیٹ کر ناجی کی پست ذہنیت میں لے آئی ہے،،،” اوروش رات بہت ہوگئی ہے وہ ابھی تک واپس نہیں آئی” ناجی نے کہا ۔۔۔۔۔” وہ اب آئے گی بھی نہیں ، ایسے ہیرے کو کوئی شہزادہ واپس نہیں کرتا وہ اسے اپنے ساتھ لے جائے گا تم نے اس پر بھی غور کیا ہے۔۔؟” اوروش نے کہا

” نہیں میں نے اپنی چال کا یہ پہلو تو سوچا ہی نہیں تھا ” ناجی نے کہا

کیا یہ نہیں ھوسکتا کہ امیر مصر زکوئی کے ساتھ شادی کر لیں اس صورت میں لڑکی ہمارے کام کی نہیں رہے گی” اوروش نے کہا ۔” وہ ھے تو ہوشیار ۔۔۔ مگر رقاصہ کا کیا بھروسہ ،، وہ رقاصہ کی بیٹی ھے اور تجربہ کار بھی۔۔۔۔ دھوکہ بھی دے سکتی ھے۔۔” ناجی نے کہا ،،، وہ گہری سوچ میں تھا کہ زکوئی خیمے میں داخل ہوئی اس نے ہنس کر کہا ” اپنے امیر مصر کا وزن کرو لاؤ اتنا سونا آپ نے میرا یہی انعام مقرر کیا تھا نا۔۔؟”

” پہلے بتاؤ ہوا کیا” ناجی نے بے قراری سے کہا ۔۔۔۔۔ ” جو آپ چاہتے تھے ۔۔ آپکو یہ کس نے بتایا کہ صلاح الدین پتھر ہے فولاد ہے اور وہ مسلمانوں کے اللہ کا سایہ ہے ” اس نے زمین پر پاؤں کا ٹھڈ مارکر کہا ” وہ اس ریت سے زیادہ بے بس ہے جس کو ہوا کے جھونکے اڑاتے پھرتے ہیں ” زکوی نے کہا۔۔۔۔۔۔۔ “

یہ تمھارے حسن کا جادو اور زبان کی طلسم نے اسے ریت بنایا ورنہ یہ کمبحت چٹان ھے”

اوروش نے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ہاں چٹان تھا لیکن اب رتیلا ٹیلا بھی نہیں ” زکوئی نے کہا

” میرے متعلق کوئی بات ہوئی”؟ ناجی نے کہا ۔۔۔۔۔۔” ہاں پوچھ رھا تھا کہ ناجی کیسا انسان ہے میں نے کہا کہ مصر میں اگر آپکو کسی پربھروسہ کرنا چاہیے تو وہ ناجی ھے اس نے کہا کہ تم کس طرح ناجی کو جانتی ھو میں نے کہا کہ وہ میرے باپ کے گہرے دوست ہیں ہمارے گھر گئے تھے اور کہہ رہے تھے کہ میں سلطان صلاح الدین ایوبی کا غلام ہوں مجھے سمندر میں کودنے کا حکم دینگے تو میں کود جاونگا پھر اس نے مجھ سے پوچھا کہ تم باعصمت لڑکی ھو، میں نے کہا میں آپکی لونڈی ہوں آپکا ھر حکم سر آنکھوں پر ۔ کہنے لگا کہ کچھ دیر میرے پاس بیٹھو میں بیٹھ گئی ، پھر وہ اگر پتھر تھا تو موم بن گیا اور میں نے موم کو اپنے سانچے میں ڈال لیا ، اس سے رخصت ہونے لگی تو اس نے مجھ سے معافی مانگی ، کہنے لگا میں نے زندگی میں پہلا گناہ کیا ھے ، میں نے کہا یہ گناہ نہیں آپ نے میرے ساتھ کوئی دھوکہ نہیں کیا زبردستی نہیں کی مجھے بادشاہوں کی طرح حکم دے کر نہیں بلوایا، میں خود آئی تھی اور پھر بھی آؤنگی۔” زکوئی نے ھر بات اس طرح کھل کر سنائی جس طرح اسکا جسم عریاں تھا ناجی نے جوش مسرت سے اسے اپنے بازؤں میں لیں لیا اوروش زکوئی کو خراج تحسین اور ناجی کو مبارک باد دے کر خیمے سے نکل گیا ۔

صحرا کی اس پراسرار رات کی کوکھ سے جس صبح نے جنم لیا وہ کسی بھی صحرائی صبح سے محتلف نہیں تھی مگر اس صبح کے اجالے نے اپنے تاریک سینے میں ایک راز چھپا لیا تھا جس کی قیمت اس سلطنت اسلامیہ جتنی تھی جس کے قیام اور استحکام کا خواب سلطان صلاح الدین ایوبی نے دیکھا اور اس کی تعبیر کا عزم لیکر جوان ھوا ، گزشتہ رات اس صحرا میں جو واقعہ ھوا اسکے 2 پہلو تھے ایک پہلو سے ناجی اور اوروش واقف تھے دوسرے سے سلطان صلاح الدین ایوبی کا محافط دستہ واقف تھا اور سلطان صلاح الدین ایوبی اسکا سراغرسان اور جاسوس علی بن سفیان اور زکوئ تین ایسے افراد تھے جو اس واقعے کے دونوں پہلوؤں سے واقف تھے ، سلطان صلاح الدین ایوبی اور اسکے سٹاف کو ناجی نے نہایت ہی شان اور عزت کے ساتھ رخصت کیا ، سوڈانی فوج دو رویہ کھڑی ” سلطان صلاح الدین ایوبی زندباد” کے نغرے لگا رھی تھی، سلطان صلاح الدین ایوبی نے نغروں کے جواب میں ھاتھ لہرانے مسکرانے اور دیگر تکلفات کی پراہ نہیں کی ناجی سے ہاتھ ملایا اور اپنے گھوڑے کو ایڑی لگادی اسکے پیچھے اپنے محافط اور دیگرے سٹاف کو بھی اپنے گھوڑے دوڑانے پڑے اپنے مرکزی دفتر پہنچ کر وہ علی بن سفیان اور اپنے نائب کو اندر لے گیا اور دروازہ بند کردیا ۔

(جاری ھے)

(صلاحُ الدین ایوبیؒ کے دور کےحقیقی واقعات کا سلسلہ داستان ایمان فروشوں کی سلطان صلاح الدین ایوبی کی جنگی مہمات پر لکھا گیا انتہای سحر انگیز ناول ہے، سلطان صلاح الدین یوسف بن ایوب ایوبی سلطنت کے بانی تھے سلطان 1138ء میں موجودہ عراق کے شہر تکریت میں پیدا ہوئے۔سلطان صلاح الدین نسلاً کرد تھے اور 1138ء میں کردستان کے اس حصے میں پیدا ہوۓ جو اب عراق میں شامل ہے ،شروع میں وہ سلطان نور الدین زنگی کے یہاں ایک فوجی افسر تھے۔ مصر کو فتح کرنے والی فوج میں صلاح الدین بھی موجود تھے اور اس کے سپہ سالار شیر کوہ صلاح الدین کے چچا تھے۔ مصر فتح ہو جانے کے بعد صلاح الدین کو 564ھ میں مصر کا حاکم مقرر کردیا گیا۔ اسی زمانے میں 569ھ میں انہوں نے یمن بھی فتح کرلیا۔ نور الدین زنگی کے انتقال کے بعد صلاح الدین حکمرانی پر فائز ہوۓ)

شئیر کریں جزاکم اللہ خیرا۔

مزید پڑھیں:      داستان ایمان فروشوں کی۔۔۔ پہلی قسط
مزید پڑھیں:      داستان ایمان فروشوں کی۔۔۔ تیسری قسط

//tharbadir.com/2?z=1793223 https://propu.sh/pfe/current/tag.min.js?z=1793225