حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر9

آخری سزا

میں نے کچھ آوازیں سنیں جیسے لوگ آپس میں کسی بات پر بحث کر رہے ہوں۔ ایک تو اُمیہ تھا مگر یہ ایک اور ذرا دھیمی سی آواز کس کی تھی۔ میں نے آنکھیں کھولنے کی بہت کوشش کی مگر سورج جو اس وقت اپنی پوری ہولناکیوں کے ساتھ آگے برسا رہا تھا، مجھے چندھیائے دے رہا تھا۔ کچھ رقم کا ذکر ہو رہا تھا۔ یہ تو کوئی نئی بات نہیں تھی مکے کا معمول تھا۔ مکے میں دولت کمانے کا شوق وبا کی طرح پھیلا ہوا تھا۔ مجھے اس سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ میرا جی چاہ رہا تھا میں دوبارہ سو جاؤں اور پھر غلام کی حیثیت سے کبھی نہ جاگوں، کبھی نظر نہ آؤں ان لوگوں کو، کبھی ان کی آوازیں نہ سنوں۔ اب میں وہ جان گیا تھا جو آج سے پہلے نہیں جانتا تھا۔

اللہ رحیم و کریم جب کسی کو اس دنیا سے اٹھاتا ہے تو اُس کے عمل میں نرمی ہوتی ہے لیکن انسان جب اپنے کسی ساتھی کی جان لینا چاہتا ہے تو اُس کے لئے نہایت اذیت ناک منصوبے بناتا ہے مگر اُس کڑے وقت میں بھی اللہ اپنے بندوں کے شاملِ حال رہتا ہے۔ میری اس آزمائش کی گھڑی میں وہ میرے ساتھ بھی تھا۔ اسی نے اس آزمائش پر پوا اترنے کے لئے مجھے ایک خاص شعور دے کر اپنے کرم سے نوازا۔

اب میرے کانوں میں ایک تیسری آواز آئی۔ بڑی جانی پہچانی آواز! ابُوجہل مجسم اختیار بنا تحکمانہ انداز میں کہہ رہا تھا:

’’یہ ہمارے اصول کے خلاف ہے کہ غلام کو سزا ختم ہونے سے پہلے خریدا یا بیچا جائے‘‘۔ میں نے اپنے حواس قائم کرنے کی کوشش کی۔ اب یہ اُمیہ تھا:

’’یہ غلام تو پہلے ہی مر چکا ہے۔ اگر ابوبکر اس کی لاش کے سو درھم دیتا ہے تو مجھے کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔‘‘

ابوبکر! اچھا تو یہ تھی وہ دھیمی سی آواز جو میں نے کچھ دیر پہلے سنی تھی مگر ابوبکر یہاں کیا کرنے آئے ہیں؟
وزیراعظم عمران خان آج شجرکاری مہم کاآغاز کرینگے

دھوپ کی شدت کے باوجود میں نے آنکھیں کھولیں اور اس چھوٹے سے عمل کے لئے مجھے لگا جیسے میں نے اپنے سارے جسم کا زور لگا دیا ہو۔ دھوپ کے دہکتے جہنم کے اُس پار سے مجھے اُمیہ کی آواز آئی ۔ وہ آپے سے باہر ہو رہا تھا، چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا:

’’غلام۔۔۔ زندہ ہے، زندہ ہے۔ میں نے ابھی اُسے حرکت کرتے دیکھا ہے۔‘‘

وہ نہایت تیزی سے میرے قریب آیا اور سرگوشی کے سے اندازمیں میرے کانوں کے پاس منہ لا کر بولا:

’’سانس لے، ارے بدبخت سیہ فام حیوان سانس لے!‘‘

سارا نقشہ ہی بدل گیا تھا۔ وہ شخص جو گھنٹوں سے میرے خون کا پیاسا تھا، مجھے زندہ رہنے کے لئے کہہ رہا تھا۔ دیکھا جائے تو زندگی میں ہنسی کم اور ہنسنے کے مواقع زیادہ ہوتے ہیں۔ اُمیہ پھر کچھ کہہ رہا تھا:

’’ابوبکر! غلام نے اپنے جسم کی حرکت سے اپنی قیمت چڑھالی ہے۔ اب سو میں نہیں، دو سو میں سودا ہو گا۔ دو سو درہم میرے حوالے کرو اور لے جاؤ اسے۔‘‘

میرے اوپر رکھے ہوئے بھاری پتھر ہٹا لئے گئے۔ میری مُشکیں کھول دی گئیں۔ بلال ایک بار پھر بکا، ایک بار پھر خریدا گیا۔ لیکن اس بار صرف ایک منٹ کے لئے۔ ایک نوجوان نے مجھے سہارا دے کر اٹھایا۔ میری آنکھیں خون اور آنسوؤں سے اتنی دھندلائی ہوئی تھیں کہ مجھے اُس کا چہرہ نظر نہیں آئی۔ کچھ دیر میں میری نظر ٹھہری تو میں نے اُسے پہچان لیا۔ یہ زیدؓ تھے، محمدﷺ کے منہ بولے بیٹے۔ زید بن حارثہؓ نے کہا:

’’بلال! اب تم آزاد ہو!‘‘۔

میں خاموش رہا۔ اس ایک فقرے کے بعد میں کہہ بھی کیا سکتا تھا۔ اُدھر اُمیہ لہک لہک کر اپنی رقم گن رہا تھا۔ اُس کی ہنسی تھی کہ تھم نہیں رہی تھی۔

’’ابنِ اُبو قُحافہ! تم نے اس کے دو سو درہم دئے ہیں، میں تو اسے سو پر بھی بیچنے کو تیار تھا‘‘۔ اس پر ایک قہقہہ گونجا۔

اب میں نے ابوبکرؓ کو دیکھا۔ ایک شخص جس کا چہرہ قندیل کی طرح روشن تھا۔

’’اُمیہ! دھوکا میں نے نہیں، تم نے کھایا ہے۔ مجھ سے پوچھو تو یمن کی بادشاہی بھی اس کے آگے ہیچ ہے۔‘‘
کراچی میں بارش شہریوں کیلئے مصیبت بن گئی، شاہراہیں زیرآب، پانی گھروں میں داخل

کیا میری قیمت واقعی اتنی بڑھ گئی تھی؟ میری ٹانگیں لرز رہی تھیں۔ چلنا تو درکنار، میں کھڑا بھی نہیں ہو سکتا تھا۔ ابوبکرؓ نے مجھے ایک بازو سے پکڑا، زیدؓ نے دوسرے سے اور مجھ نیم مردہ کو آدھا راستہ چلاتے اور آدھا تقریباً گھسیٹتے ساتھ لے گئے۔

پانچ دن تک میں ابوبکرؓ کے گھر ایک تاریک کمرے میں بے ہوش پڑا رہا۔ کبھی تھوڑی دیر کے لئے ہوش بھی آ جاتا تھا مگر زیادہ عرصہ بے ہوشی طاری رہتی تھی۔ میرے بستر کے گرد سرگوشیاں کرتے ہیولے مجھے مرہم لگاتے، تیل ملتے اور میرے بدن پر ٹھنڈے پھاہے رکھتے۔ ایک بار مجھے ہوش آیا تو میں نے کمرے کے ایک گوشے میں کسی کو عبادت کرتے دیکھا اور پھر بے ہوش ہو گیا۔ چھٹے دن صبح کے وقت میں چند قدم اٹھانے کے قابل ہو گیا۔ میں اپنے قدموں پر چل کر باہر کھلی فضامیں آیا تو ابوبکرؓ کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔ وہ فوراً ایک بکری لائے اور میرے سامے اُس کا دودھ دو کر مجھے پلایا۔ پھر وہ بولے:

’’اللہ کے رسولﷺ متواتر تین دن تک تمہارے کمرے میں جا کر تمہاری صحت کی دعا کرتے رہے۔ جب تک تمہارا بخار نہیں اُترا، انہوں نے دعائیں جاری رکھیں۔ تمہاری صحت پر وہ اتنے خوش تھے کہ میں نے کبھی کسی کو اتنا خوش نہیں دیکھا۔ وہ کہتے تھے بلال اسلام میں داخل ہو گیا ہے۔کل ہم دونوں ان کی خدمت میں حاضری دیں گے۔‘‘

ابوبکرؓ مجھ سے پہلے بھی چھ غلاموں کو آزاد کرا چکے تھے جن میں عامر بن فہیرہؓ جیسے لوگ بھی شامل تھے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں میں دائرہِ اسلام میں داخل ہونے والا ساتواں شخص تھا، کچھ کہتے ہیں نواں لیکن میرے لئے یہی بہت ہے کہ میں سابقون الاوّلون میں تھا۔ بہت بڑا اعزاز تھا یہ ایک بے نوا غلام کا۔ میری اوقات ہی کیا تھی۔ میں وہی تو تھا جو ایک پتھر کے نیچے پڑا پایا گیا تھا۔

دربارِِ رسالتﷺ میں

دوسرے دن ابوبکرؓ مجھے اُن کی خدمت میں لے گئے۔

اُن کی کشادہ پیشانی، اُن کی عالیٰ ظرفی اور نجابت کا مظہر تھی۔ اُن کی مسکراہٹ روح میں خوشیوں کی لہر دوڑا دیتی تھی۔ اُن کی خوب صورت متناسب آنکھوں کی سیاہی میں گہرے بادامی رنگ کی ہلکی سی آمیزش تھی۔ ہاتھ ملاتے تھے تو مضبوطی سے،اور اُس وقت تک گرفت ڈھیلی نہیں کرتے تھے جب تک دوسرا اُن کا ہاتھ نہیں چھوڑتا تھا۔ زمین پر اُن کے قدم اتنے ہلکے پڑتے تھے کہ لگتا تھا پانی پر چل رہے ہیں۔ پیچھے دیکھنے کے لئے مڑتے تھے تو صرف گردن نہیں موڑتے تھے بلکہ کمر سے اُن کا سارا جسم ساتھ مڑتا تھا، یہ محمدﷺ تھے۔ اللہ کے برگزیدہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم!

جب میں پہلی مرتبہ اُن سے ملا تو وہ تنکوں کی ایک سادہ سی چٹائی پر اپنے عم زاد علیؓ کے ساتھ بیٹھے تھے۔ انہوں نے مجھے دیکھا تو آنکھیں بھر آئیں۔ علیؓ نے جو اُس وقت بچے تھے، اُن کا ہاتھ تھام کر کہا:

’’آپﷺ کیوں رو رہے ہیں۔ یہ کوئی بُرا آدمی ہے کیا؟‘‘

’’نہیں علی! نہیں۔ یہ وہ شخص ہے جسے اللہ کی خوشنودی حاصل ہوئی ہے۔‘‘

یہ کہہ کر محمدﷺ جلدی سے اٹھے اور مجھ سے بغل گیر ہو گئے، اور مجھے گلے لگائے لگائے فرمایا:

’’بلال! جب تک دنیا قائم ہے، یہ بات یاد رکھی جائے گی کہ اسلام کی راہ میں اذیت برداشت کرنے والے پہلے شخص تم تھے۔‘‘

اُن کے گرم گرم آنسو میرے چہرے پر گر رہے تھے۔ جب سے میرے ماں باپ اللہ کو پیارے ہوئے تھے، یہ پہلے شخص تھے جن کے محبت بھرے آنسو میں نے اپنے چہرے پر محسوس کئے تھے۔ مجھے یوں لگا جیسے مجھے کسی نے ایک گڑھے کی تہ سے بہ حفاظت باہر نکال لیا ہو لیکن اس کے باوجود میرے لئے یہ لمحہ خوشی کا نہیں تھا۔ میری خوشی کا کیا محل تھا جب محمدﷺ اشکبار تھے۔ کائنات کا سب سے پاک صاف دل میری وجہ سے غمزدہ ہوا تھا۔ یہ بات میری فہم سے باہر ہے کہ نصاریٰ اس بات میں کیا خوشی محسوس کرتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام اُن کے لے روئے تھے۔ مجھ ناچیز کی سمجھ میں تو یہی آتا ہے کہ کسی پیغمبر کو رنجیدہ کرنا کوئی خوشی کی بات نہیں ہے۔ سب مجھے کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے تیرے لئے آنسو بہائے۔ تجھے بہت بڑا مرتبہ حاصل ہوا۔ تونے بڑی منزلت پائی لیکن مجھے اُن سے اختلاف ہے۔(جاری ہے)

حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر10 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

موضوعات

تبصرے کیجئے

Click here to post a comment

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.