حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر49

حیرتوں پر حیرت کا دن تھا اُحد کا یہ میدان کار زار۔ ابھی ایک حیرت ختم نہیں ہوئی تھی کہ مقتولین میں کسی نے ایک ایسے شخص کو پہچانا جسے ہم ایک عظیم یہودی عالم کی حیثیت سے جانتے تھے۔ چہرہ زخموں سے اتنا بگڑ گیا تھا کہ ٹھیک سے شناخت نہیں ہو رہی تھی۔ لوگوں نے غور سے دیکھا تو تصدیق ہو گئی کہ یہ واقعی یہودیوں کے فاضل اور مقتدر ربی مخیریق کی لاش تھی جن کا تعلق بنو ثعلبہ سے تھا۔ بعد میں عقدہ کھلا کہ آج علی الصبح انہوں نے اپنے چند صہیونی پیروکاروں کو بلا کر کہا کہ ہمیں محمد کے ساتھ کئے ہوئے اپنے میثاق کا پاس کرنا چاہئے اور ان کے دوش بدوش لڑنا چاہئے۔

اُن کے یہودی پیروکاروں نے یوم سبت کا بہانہ تراشا کہ آج تو ہفتے کا دن ہے اُن کے لئے جنگ میں شرکت ممکن نہیں۔ مخیریق برابر زور دیتے رہے۔ یوم سبت کے سلسلے میں انہیں اپنے ساتھیوں کی بہت سی سابقہ کوتاہیوں سے آگاہی تھی۔ مگر ان کے بار بار کہنے پر بھی کسی نے ان کی بات نہ سنی۔ آخر وہ تن تنہا جنگ میں شامل ہونے کے لئے نکل آئے اور مدینے سے رخصت ہوتے ہوئے بآواز بلند اعلان کر دیا۔

’’سب لوگ آگاہ رہیں کہ اگر اس پاس عہد میں میری جان چلی گئی تو میری تمام جائیداد اور ملکیت کے وارث محمد ہوں گے۔ وہ جس طرح چاہیں، خدا کے بتائے ہوئے کاموں پر صرف کریں۔‘‘

حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر48 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

اس نیت اور ارادے سے وہ اُحد کے میدان میں اُترے اور لڑتے لڑتے راہی ملک عدم ہوئے۔ مجھے خادم رسولؐ کی حیثیت سے علم ہے کہ حضورؐ کے یہاں سے غرباء و مساکین میں جو کھجوریں خیرات کی جاتی تھیں، اُن کا بیشتر حصہ اُن سات باغوں سے آتا تھا جو مخیریق نے آنحضرتؐ کے لئے چھوڑے تھے۔ یہ اسلام میں سب سے پہلا وقف تھا۔ اللہ کے نبیؐ مخیریق کو بہترین یہود، کہا کرتے تھے۔

کیسے کیسے چاند سورج دفن ہوئے اُس دن اُحد کی وادی میں۔ حمزہؓ، مصعب بن عمیرؓ ،عبداللہ بن جحشؓ، مالک بن سنانؓ، شماس بن عثمانؓ اور کتنے ہی اور جانباز، کل ستّر مسلمان۔ مگر میں بلال، جو ان سب شہیدوں کی تجہیز و تکفین میں شامل تھا، آج یہ سوچنے پر مجبور ہوں کہ قریش کو اس کامیابی پر خوش نہیں ہونا چاہئے تھا کیونکہ اُحد کے مکین نورکے وہ مینار بن کر اُبھرے جن سے جادۂ حق آج بھی منور ہے۔

جنگ تو ہوتی ہی سانحہ ہے لیکن کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں جو سانحہ جنگ کے اندر اپنی نوعیت کا ایک نیا سانحہ بن جاتے ہیں۔ غزوہ اُحد میں جب گھمسان کارن پڑا تو مسلمانوں نے غلطی سے کافروں کے لشکر کا فرد سمجھ کر حذیفہؓ کے والد یمانؓ پر حملہ کر دیا۔

حذیفہؓ چیختے ہوئے اُن کو بچانے کے لئے اُن کی سمت دوڑے کہ میرے والد ہیں، میرے والد ہیں مگر اتنے میں وہ شہادت پا چکے تھے۔ اس نادانستہ قتل پر حذیفہؓ کے منہ سے صرف یہ نکلا۔

یَغْفِرُ اللّٰہُ لَکُمْ وَھُوَاَرْحَمَ الرّٰحَمیْن

(اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے وہ سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے)

اُحد ہی میں ایک اور انہونا واقعہ پیش آیا کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺکے اپنے ہاتھ سے مقتول و مخزول ہوا۔ یہ بدبخت ابی بن خلف تھا، میرے سابق آقا کا بھائی اور وہ ناہنجار جس نے مکے میں ایک بوسیدہ ہڈی کا چورا بنا کر حضورؐ کے روئے مبارک پر پھینکا تھا۔ ابی بن خلف نے رسول پاکؐ پر تلوار اٹھائی تھی۔ جب وہ قریب آیا تو آنحضرت ﷺ نے ایک چھوٹے نیزے سے جو اُن کے ہاتھ میں تھا، اُس کو مارا۔ زخم کوئی ایسا کاری نہیں تھا۔ ذرا سی نوک چبھی تھی مگر تکلیف کی جس شدت کا اظہار اُس کی چیخ پکار سے ہو رہا تھا، وہ اُس کے حلیفوں کی سمجھ سے باہر تھا۔ بعض نے تو اس کا باقاعدہ مذاق بھی اُڑایا کہ کیا اتنے چھوٹے سے زخم پر دہائی مچائی ہوئی ہے۔ لیکن جب اُس کی حالت بہت غیر ہو گئی تو مشرکین نے اُسے اونٹ پر لاد کر مکے روانہ کر دیا۔ مگر سنا ہے کہ وہ مکے سے ایک منزل پہلے ہی مرالظہران میں جہنم واصل ہو گیا۔

احد وہ واحد میدانِ جنگ ہے جہاں ایک ایک قبر میں قلتِ وسائل کے سبب دو دو تین تین شہداء کو دفن کیا گیا۔ غزوۂ احد کے شہداء کے بارے میں قرآن کریم کی یہ آیت نازل ہوئی۔

مومنین میں سے کچھ لوگ

ایسے بھی ہیں جنہوں نے

جس بات کا اللہ سے وعدہ کیا تھا

اس پر پورے اُترے۔

بعض تو ان میں وہ ہیں

جو اپنی نذر پوری کر چکے

اور بعض ان میں مشتاق ہیں۔ (33-23)

سورۂ آل عمران کی یہ مشہور آیت بھی جنگ اُحد کے موقع پر نازل ہوئی تھی:

اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کئے گئے

اُن کو مردہ مت خیال کرو

بلکہ وہ لوگ زندہ ہیں،

اپنے پروردگار کے مقرب ہیں

اُن کو رزق بھی ملتا ہے۔

وہ خوش ہیں اُس چیز سے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے انہیں عطا فرمائی۔(جاری ہے )

حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر50 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

موضوعات

تبصرے کیجئے

Click here to post a comment

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.