حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر46

ابتدا میں میری مشکل یہ تھی کہ آمدنی کے نہ ذرائع معین تھے نہ مقدار۔ یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ آمدنی کی صورت کب پیدا ہو گی۔ اُدھر خرچ کی مدیں مقرر تھیں۔ یہ لکھ چھوڑنا کہ کتنی رقم وصول ہوئی، کب اور کہاں سے وصول ہوئی۔ کوئی مشکل کام نہیں تھا لیکن متوقع آمدنی کا اندازہ نہیں لگ پاتا تھا۔ نہ یہ علم تھا کہ آمدنی کب ہو گی۔ اُدھر خرچ تھے کہ رُکتے ہی نہیں تھے۔ غریبوں اور محتاجوں کی امداد جس میں حضورؐ کے حکم پر اہلِ صفہ کے تقریباً اسّی نوّے حضرات کی کفالت شامل تھی، مختلف سرکاری امور پر مقرر کارکنوں کی تنخواہیں، جنگ میں گرفتار ہونے والے مسلمانوں کی گلوخلاصی کے لئے رقم کی ادائیگی، بیواؤں کی خبر گیری، بے وسیلہ مقروضوں کی اعانت، مسافروں کی دیکھ بھال، سرکاری مہمانوں کی تواضع اور ان سب کے علاوہ وہ خرچ جو کسی خاص صورت حال میں ایسے لوگوں پر اُٹھتا تھا جن کی کسی خاص وجہ سے دلجوئی منظور ہوتی تھی۔

یہ سب اللہ سبحانہ، تعالیٰ کے احکامات تھے۔ پھر غزوات اور سرایہ کے اخراجات۔ یہی صورتِ حال تھی ہمارے بجٹ کی، زکوٰۃ کی فرضیت یعنی 9 ہجری سے قبل۔اس کے بعد صورتِ حال بہت بہتر ہو گئی تھی کیونکہ باقاعدہ اور بروقت آمدنی کے ذرائع بن گئے تھے۔ اس سے پہلے تو یہ تھا کہ کچھ مسلمان رضاکارانہ طور پر اپنی آمدنی سے کچھ رقم حضورؐ کی خدمت میں پیش کر دیتے تھے۔ مدینے میں زیادہ تر زراعت کا کاروبار تھا چنانچہ لوگ کبھی کبھی اپنی صوابدید پر فصلوں کا کچھ حصہ اجناس کی صورت میں دے جاتے تھے جو مال خانے کے حجرے میں جمع کر لیا جاتا تھا۔ یہی مال خانہ میرا سرکاری دفتر تھا۔ زکوٰۃ فرض ہونے سے پہلے آمدنی کی ایک اور صورت پیدا ہو گئی تھی۔ فتوحات ہونے لگی تھیں اور مالِ غنیمت کا پانچواں حصہ سرکاری خزانے میں آ جاتا تھا۔ کبھی خرچ آمدنی سے زیادہ ہوتا تھا تو رسالت مآبؐ نماز کے خطبے میں یا خاص طور پر مسلمانوں کا اجلاس بلوا کر سب کو رضاکارانہ طور پر رقم جمع کرانے کی تلقین فرماتے تھے اور اللہ کے کرم سے کبھی ایسا نہیں ہوا کہ اندازے سے کم رقم جمع ہوئی ہو۔

حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر45 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

بدر

مجھے، جو جیتے جی موت کے کرب سے گزر چکا ہے، کسی کی جان لینا اچھا نہیں لگتا۔ شاید اسی لئے اللہ تعالیٰ نے مجھے شمشیر زنی کا نہ شوق دیا نہ استعداد، بڑی کوشش کی لیکن مبتدی کا مبتدی رہا۔ حمزہؓ اور علیؓ دونوں نے میرے ساتھ بہت مغز مارا مگر میں اس فن میں کوئی مہارت نہ حاصل کر سکا۔ مدمقابل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنا، آنکھوں آنکھوں میں اسے تولنا، اُس کی قدوقامت اور قوت کا اندازہ لگانا، پھر اپنے پورے قد کا استعمال کرتے ہوئے وزن آگے کی طرف ڈال کر اُس پر وار کرنا، یہ سب کچھ مجھے کبھی نہیں آیا۔ یہ سارے کام ایک ایک کر کے تو میں کچھ حد تک کر لیتا تھا لیکن ایک ساتھ یہ سب کچھ مجھ سے نہیں ہوتا تھا۔ کبھی کچھ بھول جاتا تھا، کبھی کچھ۔

غزوہ بدر سے ایک دن پہلے علیؓ سارا دن مسجد کے عقب میں مجھے مشق کراتے رہے، تلوار کے وار اور ہر وار کی مناسبت سے قدموں کا استعمال سکھاتے رہے۔ میرا قدموں کا استعمال ٹھیک تھا۔ حمزہؓ بھی وہاں موجود تھے۔ انہوں نے میرے جسم کی چستی کی تعریف کی۔ علیؓ نے کہا کہ میں اپنے قد کا مناسب فائدہ اُٹھاتا ہوں مگر میرے بازو میرے قدموں کا ساتھ نہیں دے پاتے تھے۔ ویسے دل ہی دل میں ہم سب جانتے تھے کہ جنگ تو ہمیں قوتِ بازو سے نہیں قوتِ ایمان سے لڑنا تھی۔ اسلام کے معرکوں میں ہمیں واقعی یہ محسوس ہوتا تھا کہ دشمن ہمارے سامنے موم کی طرح پگھلتا جا رہا ہے اور ہماری نگاہیں ہی اُس کا پتہ پانی کرنے کے لئے کافی ہیں۔

اللہ کے رسولؐ کو علم تھا کہ جنگ جوئی میرے خون ہی میں نہیں تھی، اس لئے انہوں نے مجھے دوسرے فرائض سونپ دئیے۔ میرے سپرد یہ کام تھا کہ میں فوج کے راشن کا بندوبست کروں۔ فوج کیا تھی صرف تین سو آدمی تھے لیکن غربت کے اس دور میں تین سو کی خوراک کا انتظام بھی معنی رکھتا تھا، مگر ہر قدم پر اللہ تعالیٰ کی مدد شاملِ حال رہی اور مدینے سے بدر روانگی اور واپس مدینے آنے تک کھانے کا سارا انتظام ٹھیک رہا۔ اس عرصے میں مجھے خوراک جمع کرنے کے لئے تمام حربے استعمال کرنا پڑے۔ کسی سے مانگا، کسی سے خریدا، کسی سے اُدھار لیا، کسی کو اللہ تعالیٰ کا خوف دلایا۔ یہ تو لوگ ٹھیک ہی کہتے ہیں کہ اُن دنوں میری حالت اُس مرغی جیسی تھی جس کی نظر سے ایک دانہ بھی نہیں بچتا تھا۔ مگر یہ مبالغہ ہے کہ بلال نے چیونٹیوں کو بھی معاف نہیں کیا۔ جہاں اُن کی قطار دیکھتا، ساتھ ساتھ چل پڑتا تاکہ اُن کا جمع کیا ہوا ذخیرہ بھی اُٹھا لائے۔ ویسے صورتِ حال اس سے بہت زیادہ مختلف بھی نہیں تھی۔

بدر میں مسلمان کام ضرور آئے مگر کسی نے بھوک سے نڈھال ہو کر شہادت نہیں پائی۔ مدینے سے روانگی سے قبل ہی ہمیں اللہ جل شانہ، کی طرف سے اُس کی رضا کی بشارت مل چکی تھی اور اُس نے ایک لمحے کے لئے بھی ہمیں ہمارے حال پر نہیں چھوڑا۔ ہماری جنگ دفاعی تھی، محدود تھی اور صرف اللہ کے لئے تھی جیسا کہ سورہ بقرہ کی آیات میں ہمیں حکم ملا تھا:

اللہ کی راہ پر جنگ کرو،

اُن کے خلاف،

جو تم سے جنگ کرتے ہیں،

جنہوں نے تمہیں بے گھر کیا۔

لڑو مگر خود جنگ نہ شروع کرو

کیونکہ اللہ جنگ کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

اور پھر جب تمہارا دشمن جنگ روک دے

تو تم بھی جنگ روک دو۔

جنگ ٹھن ہی گئی تو اللہ کے رسولؐ نے اس محاذ کی بھی ایسی قیادت کی کہ بڑے بڑے عسکری ماہرین اُن کی حکمتِ عملی پر رشک کرتے ہیں۔ انہوں نے جنگ میں یہاں تک طے فرما دیا تھا کہ کون کہاں، کس کے ساتھ کھڑا ہو گا۔ فوج کی تنظیم کی بھی ایک نئی صورت وضع کی جب ہم لوگ میدان جنگ میں اُترے تو ہماری فوج ایک نیا منظر پیش کر رہی تھی۔ صحرائی جنگوں میں رواج یہ تھا کہ لوگ الگ الگ چھوٹے چھوٹے دستوں کی شکل میں جنگ کرتے تھے۔ ایک دائرے میں، یہاں معرکہ آرائی ہو رہی ہے تو کچھ فاصلے پر ایک دوسرے حلقے میں مدمقابل ایک دوسرے سے نبرد آزما ہیں اور تمام دائروں میں ریت خون سے رنگی جا رہی ہے۔ زخمی گر رہے ہیں لاشیں تڑپ رہی ہیں۔

ہمیں حضورؐ نے یہ ہدایت دی تھی کہ ہم سب ایک ساتھ رہیں۔ ایک دوسرے سے الگ نہ ہوں۔ گویا ہر شخص کو ایک قلعے کا حصہ بنا دیا تھا جس میں ہر ایک اپنے قریبی ساتھی کے لئے باعث تقویت تھا۔ یہی حکمتِ عملی ہم نے بعد کی جنگوں میں بھی نہایت کامیابی سے استعمال کی اور زک صرف اُس قت اُٹھائی جب اس سے انحراف کیا۔ حضورؐ کا ارشاد تھا:

’’آج جنت تلواروں کے سائے میں ہے۔ آج جو شہادت پائے گا فرشتے اُسے خود جنت تک لے کر جائیں گے مگر سب شہداء کے زخم اُن کے سینوں پر ہونے چاہئیں، پشت پر نہیں۔‘‘

ہمیں یہ تعلیم دی گئی تھی کہ ہماری ہر جنگ اصولوں کی خاطر لڑی جائے گی، ہوائے نفس کے لئے نہیں۔ (جاری ہے )

حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر47 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

موضوعات

تبصرے کیجئے

Click here to post a comment

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.