حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر44

اتنے میں میں نے دیکھا کہ عبداللہ بن زیدؓ آہستہ آہستہ اپنی جگہ سے کھسکتے ہوئے آ گے آ رہے ہیں۔ عبداللہؓ انصار کی طرف سے مسجد کی تعمیر میں شامل تھے۔ میں نے انہیں دوسری بیعتِ عقبہ کے موقع پر بھی دیکھا تھا۔ وہ اُن پچھتر آدمیوں کے وفد میں شامل تھے جو مدینے سے آیا تھا۔ شرمیلے اتنے تھے کہ ڈرتے تھے ہوا بھی اُن کی حرکت سے مرتعش نہ ہو جائے مگر خزرج کا یہ شرمیلا نوجوان اگلے ہی لمحے ساری کائنات کو مرتعش کرنے والا تھا۔ میں حضورِ اکرمؐ کے پاس بیٹھا تھا۔ جب مجھے لگا کہ عبداللہؓ حضورؐ کو کچھ کہنا چاہ رہے ہیں تو میں نے انہیں اپنی جگہ دے دی تاکہ وہ جو کہنا چاہ رہے ہیں، اطمینان سے کہہ لیں۔ انہوں نے نہایت دھیمی آواز سے کہا:

’’یا رسول اللہ میں نے ایک خواب دیکھا ہے۔ سبز کپڑے پہنے ہوئے ایک شخص ہاتھ میں ناقوس لئے جا رہا تھا۔ میں نے اُس سے کہا اے اللہ کے بندے کیا تم مجھے یہ ناقوس بیچ دو گے۔ اُس سبز پوش نے پوچھا کیا کرو گے اس کا۔؟ میں نے جواب دیا، اسے بجا کر لوگوں کو نماز کے لئے بلاؤں گا۔ اس پر اس نے کہا نماز کے لئے بلانے کا میں تمہیں اس سے بہتر طریقہ بتاتا ہوں۔ تم یہ کہا کرو:

حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر43 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

اللہ اکبر اللہ اکبر

اللہ اکبر اللہ اکبر

اشہدان لا الہ الا اللہ

اشہدان لا الہ الا اللہ

اشہدان محمدؐ رسول اللہ

اشہدان محمدؐ رسول اللہ

حیّ علی الصلوۃ

حیّ علی الصلوۃ

حی علی الفلاح

حی علی الفلاح

اللہ اکبر اللہ اکبر

لا الہ الا اللہ

میں نے رسول اللہ ﷺ کے چہرے کی طرف دیکھا۔ اُن کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ اس سے ایک دو روز پہلے عمرؓ نے بھی اسی قسم کا خواب حضورؐ کو سنایا تھا مگر آپ ﷺ نے کوئی فیصلہ نہیں صادر فرمایا تھا۔ ابنِ زیدؓ کی زبان سے وہی خواب سن کر حضورؐ نے اسے تائید ایزدی سمجھ کر قبول فرمایا۔ کہنے لگے:

’’عبداللہ، تمہارا خواب سچا ہے۔ ایسا ہی ہو گا۔ نماز کے لئے اسی طرح بلایا جایا کرے گا۔ کوئی شخص یہ الفاظ کہا کرے گا۔‘‘

یہ طے ہو گیا تو اب سوال یہ تھا کہ یہ الفاظ کس انداز میں، کیسے ادا کیے جائیں گے۔ میٹھے لہجے میں، نرم لہجے میں، اعلانیہ انداز میں، کتنی زور سے، مرد کی آواز میں، عورت کی آواز میں، بچے کی آواز میں، کسی نوجوان کی آواز میں، کسی بزرگ کی آواز میں یا بیک وقت کئی لوگوں کی آواز میں!

’’بلال تمہاری آواز میں‘‘۔

حضورؐ نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے فرمایا:

’’عبداللہ تم بلال کو یہ الفاظ یاد کرا دو۔‘‘

مسجد میں بیٹھے ہوئے سارے لوگوں کی نگاہیں مجھ پر تھیں۔ وہ کچھ کہہ بھی رہے تھے مگر میں ابھی تک حضورؐ کے فیصلے کے سحر میں تھا۔ مجھے کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا۔ یکایک حضورؐ کے الفاظ کا مفہوم مجھ پر پوری طرح واضح ہو گیا۔ مجھ ناچیز سیاہ فام حبشی کے ذمے یہ خدمت سپرد کی گئی تھی کہ میں مسلمانوں کو نماز کی سعادت کے لئے بلایا کروں۔ یہ خود میرے لئے کتنی بڑی سعادت تھی۔ پھر حضورؐ کی آواز اُبھری:

’’بلال تمہاری آواز سب سے اچھی ہے۔ اسے اللہ کی راہ میں استعمال کرو۔‘‘

زیدؓ جو میرے پاس ہی بیٹھے تھے میرے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر کہنے لگے:

’’کاش میرے پاس اسلام کو دینے کے لئے کوئی ایسا تحفہ ہوتا‘‘۔

یہ زید بن حارثہؓ کے الفاظ تھے جنہوں نے اسلام کو اتنا کچھ دیا تھا۔ بعد میں اکثر جب میں اذان کے لئے کھڑا ہوتا تھا زیدؓ کے یہ الفاظ میرے ذہن میں جاگ اُٹھتے تھے۔ انہی باتوں میں نماز کا وقت ہو گیا تو اللہ کے رسولؐ نے مجھے حکم دیا۔

’’جاؤ اُس چھت پر چڑھ جاؤ اور وہاں سے لوگوں کو نماز کے لئے بلاؤ‘‘۔

جس چھت کی طرف انہوں نے اشارہ فرمایا تھا وہ مسجد سے ملحق بنو نجار کی ایک خاتون کے کچے گھر کی کچی چھت تھی۔ آج کل مسجدوں میں مؤذن کے لئے کیا کیا انتظام ہوتے ہیں۔ پکی سیڑھیاں بنی ہوتی ہیں اور مؤذن نہایت آرام سے اُن پر چڑھ کر اذان دیتا ہے۔(جاری ہے )

حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر45 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

موضوعات

تبصرے کیجئے

Click here to post a comment

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.