حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر42

ایک دفعہ انہوں نے ایک چھوٹے سے بچے کو گود میں اُٹھا لیا جو ابھی ٹھیک طرح سے چل بھی نہیں سکتا تھا۔ اُس کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا پتھر دیا اور اپنے کندھے سے اونچا کر کے اُسے کہا کہ یہ پتھر دیوار میں لگا دو۔ بچے نے پتھر لگا دیا تو حضورؐ نے فرمایا:

’’شاباش! اب تم اپنے سارے دوستوں کو بتانا کہ یہ مسجد میں نے بنائی ہے‘‘۔

یہ کہہ کر انہوں نے اُسے زمین پر کھڑا کر دیا اور وہ ڈگمگاتا ہوا اپنی ماں کے پاس چلا گیا۔ اس کے سارے چہرے پر، ایک کان سے دوسرے کان تک، مسکراہٹ پھیلی ہوئی تھی۔ خوشی سے اُس کا چہرہ تمتما رہا تھا۔ مجھے و ہ خوش نصیب بچہ اکثر یاد آتا ہے۔ ہنستا ہوا معصوم چہرہ، دائیں گال پر گارے کی لکیر بنی ہوئی، پتہ نہیں وہ کون تھا، کس قبیلے، کس خاندان کا تھا، بڑا ہو کر کیا بنا، آج کل کس حال میں ہو گا۔

حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر41 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

سب نبی اکرمؐ کو آرام کرنے کے لئے کہتے تھے مگر وہ کسی کی نہیں سنتے تھے، کہتے تھے مجھے بھی ثواب کی اتنی ہی ضرورت ہے جتنی آپ سب کو۔ حمزہؓ نے بطورِ خاص اُن سے پل بھر آرام کی درخواست کی تو اینٹیں اُٹھاتے اُٹھاتے انہوں نے اپنی عبا اس زور سے جھٹکی کہ اس پر پڑی ہوئی ریت اُڑ کر حمزہؓ کے چہرے پر جا پڑی اور وہ دامن سے اپنا چہرہ صاف کرتے ہوئے واپس آ گئے۔ اس کے بعد انہوں نے انہیں کبھی کام سے نہیں روکا لیکن کام کرتے وقت ان کی نظریں ہمیشہ انہیں کی طرف رہتی تھیں۔ ان کی کیا ہم سب کی۔

وہ ہمیشہ سکھاتے تھے کہ کام ایک طرح کی عبادت ہے۔ اللہ تعالیٰ کام کرنے والے ہاتھوں سے پیار کرتا ہے۔ اُن کی ساری تعلیم یونہی چلتے جاتے، باتوں باتوں میں ہوتی تھی اور اسی لئے زندگی سے بے حد قریب تھی۔ کسی جانور پر زیادہ بوجھ لدا دیکھتے تو پیشانی پر شکن آ جاتی۔ فوراً ناراضگی کا اظہار فرماتے۔ جانوروں پر ظلم اُن کی برداشت سے باہر تھا۔

آخر ایک دن آیا کہ ہماری مسجد تعمیر ہو گئی۔ کچھ حصے پر کھجور کے تنوں کے شہتیروں پر کھجور کی شاخوں کی چھت پڑی ہوئی، چھت کا وزن کھجوروں کے تنوں پر تھا جو ستونوں کا کام دے رہے تھے۔ زیادہ حصہ کھلا تھا، ایک بڑے صحن کی شکل میں۔ شمالی دیوار میں جائے امامت کے سامنے دونوں طرف پتھر چن دئیے گئے تھے۔ یہ یروشلم کا رُخ تھا۔ ہمارا قبلۂ اول۔

اگلے سال رجب شعبان کے دن تھے، رسالتمآبؐ مدینے کے نواح میں انصار کے قبیلے بنو سلمہِ کی مسجد میں ظہر کی نماز پڑھا رہے تھے، دو رکعتیں ہو چکی تھیں کہ ایک وحی نازل ہوئی جس کی تعمیل میں آنحضرتؐ نے حالتِ نماز ہی میں بیت اللہ کی سمت رُخ کر لیا اور اُن کے ساتھ ہی سب مقتدیوں نے۔ باقی دو رکعتیں بیت اللہ کی سمت ادا فرمائیں۔ اُسی دن مسجد نبویؐ میں بھی عصر سے پہلے پہلے قبلے کا رُخ بدل دیا گیا۔

مواخات

مسجد کی تعمیر مکمل ہوتے ہی ہم سب کو مہاجرین کی آبادکاری کی فکر لاحق ہو گئی۔ ہجرت کرنے والوں کی تعداد ایک ہزار کے قریب تھی۔ یہ کوئی بہت بڑی تعداد نہیں تھی، لیکن مدینہ خود ایک چھوٹا سا شہر تھا۔ اُس کے وسائل اس قدر محدود تھے کہ ہر مہاجر کے لئے مستقل گزر بسر کا خاطر خواہ انتظام ایک شدید مسئلہ بن گیا تھا۔ مہاجرین میں بہت تھوڑے تھے جو اللہ کے کرم سے خود کفیل تھے۔ بیشتر ایسے تھے جو مکے سے لٹے پٹے بے سروسامان محض تن کے کپڑوں کے ساتھ دعوتِ ہجرت پر لبیک کہتے ہوئے اپنا گھر بار، کاروبار، مال متاع چھوڑ چھاڑ اللہ تبارک و تعالیٰ کے بھروسے پر مدینے آ پہنچے تھے۔ مکے جیسے تجارتی شہر میں ساری عمر گزارنے کے بعد ایک زرعی شہر میں آ بسنے کے اپنے مسائل تھے۔ پھر دونوں شہروں میں موسم اور آب و ہوا کا بڑا فرق تھا۔ مہاجرین کی معاشی، سماجی، نفسیاتی بحالی شب و روز کا موضوعِ گفتگو بن گیا تھا۔ جہاں چار شخص جمع ہو جاتے گفتگو اسی بنیادی نکتے پر آ ٹھہرتی کہ اتنے گمبھیر مسائل کیسے سلجھیں گے لیکن اللہ کے رسولؐ نے یہ ساری مشکلات اپنی پیغمبرانہ فراست سے آنِ واحد میں حل کر دیں۔

ایک روز انہوں نے مکے سے آئے ہوئے تمام خاندانوں کے سربراہوں کو انس بن مالکؓ کی والدہ ام سلیمؓ کے گھربلوایا اور ساتھ ہی مدینے کے چند نسبتاً خوش حال لوگوں کو بھی دعوت دی۔ وقت مقررہ پر سب اُم سلیمؓ کے گھر کے وسیع و عریض احاطے میں جمع ہو گئے۔ حضورؐ تشریف لائے۔ حسبِ عادت سب کو مسکرا کر دیکھا اور انصار کو مخاطب کرتے ہوئے مہاجرین کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ یہ سب آپ کے دینی بھائی ہیں اور اُسی دین برحق کے نام پر، جو آپ کا بھی دین ہے، اپنا سب کچھ تج کر یہاں آئے ہیں۔ ان کی مدد آپ کا فرض ہے۔ پھر آپ ﷺ نے تجویز پیش فرمائی کہ انصار کا ہر خاندان مکے کے ایک خاندان کو اپنے خاندان میں شامل کر لے، اس کے دکھ سکھ میں شریک ہو جائے اور حسب مقدور اُس کا بوجھ بانٹ لے۔

مواخات کا یہ فیصلہ اسلام کے سبق اخوت کا سب سے بڑا عملی مظاہرہ تھا جسے دنیا نے آج سے پہلے اس پیمانے پر کبھی نہیں دیکھا تھا، اور یہ شرف ام سلیمؓ کے حصے میں آیا کہ سرورِ کائناتؐ نے اس عظیم تاریخی فیصلے کے لئے اُن کے گھر کا انتخاب کیا۔ یہ کوئی جزوقتی، سطحی، عارضی مصلحت کیشی نہیں تھی۔ مہاجرو انصار دونوں نے اپنے آقاؐ کے قائم کیے ہوئے اس رشتے کی ایسی لاج نبھائی کہ مرتے دم تک یہ بندھن نہ ٹوٹا۔ اسی طرح چھوٹے پیمانے پر مساکین کی آبادکاری کے حل کے لئے مکے میں بھی حضورؐ کے حکم پر اخوت کا ایسا ہی منصوبہ تیار ہوا تھا جہاں حمزہؓ، زیدؓ کے بھائی بنے تھے، ابوبکرؓ، عمرؓ کے، عثمانؓ، عبدالرحمان بن عوفؓ کے، زید بن العوامؓ، عبداللہ بن مسعودؓ کے۔ مگر آج کی مواخات علی الحق اتنے بڑے پیمانے پر اور اتنے دور رس نتائج کی حامل ہوئی کہ مکے کی مواخات کا اس سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔

یہ مواخات ایک نظریاتی تعلق تھا جو رنگ، نسل اور قبائلی عصبیت کے تمام اختلافات اور امتیازات سے بالاتر تھا اور جو صرف اور صرف رضائے رسولؐ اور دینِ حق سے وابستگی کی بنیاد پر قائم تھا۔ جب رسولِ اکرمؐ ایک ایک مہاجر اور ایک ایک انصاری خاندان کو مواخات کی تسبیح میں پرو رہے تھے، میں بھی ایک طرف کھڑا اپنی باری کا انتظار کر رہا تھا۔ میں ایک حبشی جو کل تک ایک معمولی غلام تھا خود ہی اپنا خاندان تھا، خود ہی خاندان کا سربراہ۔ غلاموں کے کون سے خاندان ہوتے ہیں مجھ پر نظر پڑی تو پاس بلا کر میرا ہاتھ ابو رویحہؓ انصاری کے ہاتھ میں دے دیا۔ اس طرح ہم دونوں بھائی بن گئے ہم ایک دوسرے سے گلے ملے اور گلے ملتے ہی یوں لگا جیسے ہمارا رشتہ خونی رشتوں سے بھی زیادہ گہرا ہو گیا۔ ایک مستقل رشتہ جسے دم کے ساتھ نبھانا تھا۔(جاری ہے )

حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر43 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

موضوعات

تبصرے کیجئے

Click here to post a comment

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.