حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر41

سیّدالانبیاؐ قصواء سے اُترتے ہی اُس احاطے کے طول و عرض کو نہایت غور سے دیکھنے لگے۔ اُن کے ساتھ اُنہیں مدینے میں خوش آمدید کہنے والے مسلمانوں کا ایک ہجوم تھا مگر یوں لگتا تھا کہ اس وقت وہ سب کی موجودگی سے بے نیاز، بالکل تنہا ہیں۔ گہری سوچ میں ڈوبے ہوئے چاروں طرف نظریں دوڑا رہے تھے۔ اس احاطے میں ایک طرف ایک پُرانے ٹوٹے پھوٹے گھر کا ملبہ پڑا تھا۔ اس کے سامنے ایک کھلا ہموار میدان تھا جہاں کھجوریں سوکھائی جاتی تھیں۔ اس میدان کے دوسری طرف ایک گوشے میں چند پرانی قبریں تھیں اور اس طرف جہاں قصواء بیٹھی تھی ایک چھوٹا سا احاطہ تھا جو بنو نجاّر کے محلے کی مسجد کے طور پر کام آتا تھا۔ اس میں بیس پچیس نمازیوں کی گنجائش تھی۔

جگہ جگہ کھجوروں کے درخت لگے ہوئے تھے، کہیں کہیں خاردار جنگلی جھاڑیاں اُگی ہوئی تھیں۔ سب کی نظریں حضورؐ کے روئے مبارک پر جمی ہوئی تھیں۔ ہر شخص خاموش تھا۔ وہ احاطے کا جائزہ لے چکے تو انہوں نے ہجوم سے نظریں ملائیں۔ ایسے محسوس ہوا جیسے یکایک وہ کسی خواب سے چونک کر بیدار ہوئے ہیں۔ حاضرین نے انہیں اپنی طرف متوجہ دیکھا تو سب ایک ایک دو دو قدم ان کے قریب آ گئے۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ یہ جگہ کس کی ہے۔ ایک شخص نے جواب دیا کہ رافع بن عمروؓ کے بیٹوں سہلؓ اور سہیلؓ کی ملکیت ہے۔ رافعؓ وفات پا چکے ہیں اور یہ دونوں یتیم بھائی خزرج کے سعد بن زرارہؓ کی سرپرستی میں ہیں۔ یہاں یہ نماز کی جگہ سعدؓ نے بنا رکھی ہے۔

حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر40 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

سعدؓ کچھ فاصلے پر کھڑے تھے اپنا نام سُن کر آگے بڑھے تو آپ ﷺ نے انہیں اپنے پاس بلا لیا اور فرمایا کہ اس احاطے کے وارثوں سے اس کی قیمت طے کروا دیں۔ سہلؓ اور سہیلؓ بھی وہیں موجود تھے۔ فوراً مجمع سے نکل کر رحمتِ عالمؐ کے سامنے آ کھڑے ہوئے اور نہایت ادب سے کہا:

’’اے اللہ کے رسولؐ۔ یہ جگہ ہم آپ کی نذر کرتے ہیں۔ ہمیں کوئی معاوضہ نہیں چاہئے۔‘‘

حضورؐ نے یہ سُن کر خوشی کا اظہار فرمایا مگر ان کے نزدیک مسجد نبوی اور نبی کی مستقل جائے سکونت، جسے پہلی مملکتِ اسلامیہ کا مرکز و محور بننا تھا، کسی کا عطیہ نہیں ہونا چاہئے تھا۔ ہجرت وہ سنجیدہ اور تاریخ ساز واقعہ تھا کہ آپ ﷺنے ابوبکرؓ کی بے حد مخلصانہ اور مؤدبانہ درخواست کے باوجود قصواء کی قیمت ادا کرنے پر اصرار فرمایا تھا۔ چنانچہ سعدؓ کی مدد سے احاطے کی قیمت طے کر کے چکا دی گئی۔ پہلی بیعتِ عقبہ کے بعد جب مصعب بن عمیرؓ کو مدینے کے نو مسلموں کو قرآن سکھانے کے لئے مدینے بھیجا گیا تھا تو سعد بن زرارہؓ نے انہیں مہمان رکھا تھا۔ سعدؓ اس بیعت سے ایک سال قبل مکے میں مشرف بہ اسلام ہوئے تھے۔ اس وقت مدینے کے صرف چھ لوگ ایمان لائے تھے جو سب خزرج کے تھے۔

قیمت کی ادائیگی کے دوران میں ابو ایوب خالدؓ قصواء کی طرف بڑھے اور اس پر لدا ہوا حضورؐ کا سامان اُتار کر اپنے گھر لے گئے جو اس احاطے سے بالکل متصل تھا۔ یہ وہی ابو ایوبؓ تھے جنہوں نے دوسری بیعتِ عقبہ میں اپنے قبیلے والوں میں سب سے پہلے بیعت کی سعادت حاصل کی تھی۔ اس وقت بھی چند لوگوں نے رسولِ کریمؐ کو اپنے یہاں قیام کی دعوت دی لیکن انہوں نے مسکرا کر فرمایا کہ انسان کو اپنے سامان کے ساتھ ہی رہنا چاہئے۔ یہ کہہ کر وہ ابو ایوبؓ کے ہمراہ اُن کے گھر تشریف لے گئے جہاں اب ایوبؓ نے اپنے مکان کی نچلی منزل اُن کے لئے خالی کر دی اور خود اوپر کی منزل میں منتقل ہو گئے۔

سعد بن زرارہؓ کا گھر بھی قریب تھا۔ وہ قصواء کو اپنے گھر کے احاطے میں لے گئے۔

تعمیرِ مسجد

دوسرے دن فجر کی نماز ختم ہوتے ہی ہم لوگوں نے کام شروع کر دیا۔ ہر شخص کا چہرہ جذبہء ایمانی سے دمک رہا تھا۔ اللہ کے رسولؐ نے خود ایک نیزے کی نوک سے زمین پر مسجد کی حدود کھینچ دیں۔ کھجوروں کے درخت قدرتی طور پر نہایت مناسب فاصلوں پر لگے ہوئے تھے۔ معلوم ہوتا تھا اللہ تعالیٰ نے انہیں اسی مقصد کے لئے اُگایا تھا کہ وہ ہماری مسجد کے ستونوں کا کام دے سکیں، اور ظاہر ہے اللہ تعالیٰ ہی نے قصواء کی رہبری فرمائی تھی جس کے نتیجے میں اس جگہ کا انتخاب ہوا تھا۔

حضورؐ نے اپنے دستِ مبارک سے حدودِ مسجد کا تعین فرما دیا، تو یوں لگا جیسے مسجد ہمارے ذہنوں میں تعمیر ہو گئی۔ اب صرف یہ کام باقی تھا کہ جو مسجد ہمارے ذہنوں میں بن گئی تھی اُسے زمیں پر منتقل کر دیں۔ ہم لوگ دیوانہ وار کام میں جت گئے۔ ہر شخص کام میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتا دکھائی دیتا تھا۔ ہماری خوشی کی کوئی انتہا نہ تھی ہم نے اینٹیں بنائیں، پتھر ڈھوئے، لکڑی چیری، گارا ملایا، جھاڑ جھنکاڑ کاٹے، زمین کو ہموار کیا، بنیادیں کھودیں، سیڑھیاں بنائیں۔ اُن پر چڑھ چڑھ کر اینٹ گارا اوپر پہنچایا، رسے باندھے، ٹھوک پیٹ کی اور سب کچھ اس خوش دلی کے ساتھ کہ ہمیں لگتا تھا ہم کام نہیں کر رہے، رقص کر رہے ہیں۔ اسی موقع پر عبداللہ بن رواحہؓ نے دو شعر کہے جنہیں ہم نے اپنے کام کا ترانہ بنا لیا۔ خود نبیؐ بھی ہمارے ساتھ صدا بلند کر رہے تھے۔ وہ شعر کچھ یوں تھے۔(ترجمہ)

نیکی وہی جو روزِ قیامت کو ہو شمار

تُو سب کا مددگار، مہاجر ہو کہ انصار

ہے زندگی تو اصل میں عقبیٰ کی زندگی

انصار و مہاجر تری رحمت کے طلب گار

سرورِ دو جہاںؐ اس کام میں ہمارے ساتھ برابر شریک رہے۔ خود اینٹیں اُٹھا اُٹھا کر لاتے اور سیڑھیوں پر چڑھ چڑھ کر، پتھر، اینٹیں، گارا، مسالا اوپر پہنچاتے۔ وہ جو کام بھی کرتے مدینے کے چھوٹے چھوٹے بچے اُن کی مدد کے لئے اُن کے ساتھ ساتھ ہو لیتے۔ ظاہر ہے بچوں کا یہ کام نہیں تھا۔ کام میں مدد ہونے کی بجائے، کام بگڑ جاتا تھا مگر حضورؐ اُن کی دل شکنی نہیں فرماتے تھے۔ اُنہیں بچوں سے اتنا پیار تھا کہ ایک ایک کام کئی کئی بار کر لیتے مگر اُن کو منع نہیں کرتے تھے۔ میں نے اُن کے کام میں خلل پڑتے دیکھا تو میں اپنا کام چھوڑ کر گیا اور بچوں کو منع کرنے کی کوشش کی مگر حضورؐ نے اُلٹا اُنہیں میرے سر مڑھ دیا۔ فرمانے لگے:

’’بچو دیکھو بلال بے چارہ اکیلا کام کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ کوئی نہیں۔ ذرا اُس کی مدد کر دو۔‘‘

یہ سننا تھا کہ سارے میرے گرد ہو گئے اور مجھے ان سے پیچھا چھڑانے کے لیے ایک درخت پر چڑھنا پڑا۔ حضورؐ اپنا پسینہ بھی پونچھتے جاتے تھے اور میری حالت پر تبسم بھی فرماتے جاتے تھے۔(جاری ہے )

حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر42 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

موضوعات

تبصرے کیجئے

Click here to post a comment

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.