حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر40

مدینے کی اسی جنوبی نواحی نگری میں تین دن کے قیام میں ہم سب نے مل کر ایک چھوٹی سی مسجد تعمیر کی۔ یہ اُس مختصر قیام کی دوسری حسین یاد ہے جو دل میں یوں جاگزیں ہے جیسے کل کی بات ہو۔ مسجد کے نام سے آج کل ایک باقاعدہ بنی ہوئی عمارت ذہن میں آتی ہے۔ اسلام کی یہ پہلی مسجد جو اللہ کے رسولؐ کے فرمان پر ہم نے قبا میں تعمیر کی ایک کھلا صحن تھی۔ تقریباً سو نمازیوں کے لئے کلثومؓ کے گھر سے کوئی سو قدم کے فاصلے پر ایک قطعۂ زمین ہموار کر لیا گیا۔ اُس پر پڑے ہوئے پتھر اُٹھا دئیے گئے۔ جھاڑیاں کاٹ دی گئیں اور اس قطعے کو ایک احاطے کی شکل دے دی گئی۔ یہ تھی اسلام کی پہلی مسجد جہاں مسلمانوں نے، جو اپنے ہاد برحقؐ کی امامت کے لئے ترسے ہوئے تھے، ایک عرصے بعد اُن کی اقتداء میں نماز ادا کی۔ اسی مسجد میں مدینے کے نو مسلموں کو پہلی مرتبہ اللہ کے رسولؐ کے ساتھ نماز ادا کرنے کا شرف حاصل ہوا۔

حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر39 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

جانبِ بطحا

رسول اللہ ﷺ نے قبا میں تین دن قیام کیا۔ چوتھے روز بارہ ربیع الاوّل کو جمعہ کے دن وہ مدینے کے لئے روانہ ہوئے۔ مدینہ والوں کے وفد پر وفد آ رہے تھے۔ سارے شہر میں اُن کا نہایت بے چینی سے انتظار ہو رہا تھا۔ مدینے کے راستے میں رانونہ کے مقام پر انہوں نے خزرج قبیلے کی ایک شاخ بنو سالم کے لوگوں کے ساتھ نماز جمعہ ادا فرمائی۔ بنو عمرو کے کچھ لوگ قُبا سے اُن کے ساتھ ہو لئے تھے، بنو نجار کے کچھ لوگ جو حضورؐ کے عزیز ہوتے تھے، مدینے سے انہیں لینے آئے تھے۔ یوں نماز میں تقریباً ایک سو آدمی تھے۔ نماز کے بعد حضور ﷺ قصواء پر سوار ہو کر مدینے کی طرف چل پڑے۔ ابوبکرؓ اور کئی دیگر لوگ بھی اونٹنیوں پر سوار تھے۔قصواء آگے آگے چل رہی تھی۔ اس قافلے کے دائیں بائیں اوس اور خزرج کے گھڑ سوار زرہ بکتر پہنے ہوئے، ہاتھوں میں ننگی تلواریں لئے جلوس کے ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔راستے میں دونوں طرف مردوں، عورتوں اور بچوں کے ہجوم تھے جو خوشی سے نعرے لگا رہے تھے۔ بنونجاّر کی بچیاں دف بجابجا کر خوش آمدید اور استقبال کے گیت گا رہی تھیں۔ جوں جوں شہر نزدیک آ رہا تھا، ہجوم میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ مدینے میں اتنی خوشی کبھی دیکھنے میں نہیں آئی تھی۔ پھر چاروں طرف سے آوازیں آنے لگیں:

’’حضور میرے یہاں قیام فرمائیے‘‘

’’مجھے سعادت بخشئے حضور!‘‘

’’میرے یہاں رہئے یارسول اللہ!‘‘

’’مجھے خدمت کا موقع دیجئے‘‘

’’میرا گھر بہت وسیع ہے، اُس میں آپ کو کوئی تکلیف نہیں ہو گی‘‘

’’میرے مہمان بنئے حضور!‘‘

’’میں اور میرے اہلِ خانہ ہمہ وقت آپ کی خدمت بجا لائیں گے‘‘

’’مجھ پر کرم فرمائیے، یا رسول اللہ!‘‘

’’میرا غریب خانہ حاضر ہے یا نبی!‘‘

’’یا رسول اللہ! مجھے مایوس نہ کیجئے گا‘‘۔

رسالت مآبؐ نے محسوس فرمایا کہ اگر انہوں نے کسی ایک کے حق میں فیصلہ دے دیا تو باقی لوگوں کی دل شکنی ہو گی، شہر میں چہ مہ گوئیاں شروع ہو جائیں گی، لوگ سوچ میں پڑ جائیں گے اور شہر ذہنی اعتبار سے منقسم ہو جائے گا۔ دعوت دینے والوں میں سب کے سب محبت اور عقیدت سے سرشار نہیں تھے۔ ان میں جہاں عبداللہ بن رواحہؓ جیسے سرفروش شامل تھے، وہاں چند منافق بھی تھے۔ سب سے زیادہ زور تو عبداللہ بن ابی دے رہا تھا، مدینے کا مانا ہوا ریاکار بلکہ رئیس المنافقین۔ اُس نے بڑھ کر قصواء کی مہار تھام لی، گویا وہ اللہ کے رسولؐ کو اپنی مرضی کے راستے پر لے جا سکتا تھا۔ کہنے لگا:

’’مدینے میں میرا گھر سب سے خوب صورت ہے، یا رسول اللہ ﷺ۔ اُس میں باغ بھی ہیں۔ شہر میں میرے یہاں سے اچھا کھانا کہیں نہیں پکتا۔‘‘

نبی کریمؐ کسی کی دلآزاری نہیں چاہتے تھے مگر فیصلہ کیسے ہو۔ میں نے اکثر دیکھا کہ وہ اُلجھے ہوئے معاملات کا بڑا آسان حل نکال لیا کرتے تھے۔ میں انہیں دیکھ رہا تھا۔ انہوں نے ہلکا سا تبسم فرمایا اور قصواء کی گردن پر تھپکی دیتے ہوئے فرمانے لگے:

’’میز بانوں کی تعداد اتنی بڑی ہے کہ میں کسی ایک کے حق میں فیصلہ نہیں کر سکتا۔ قصواء نے میرے سفرِ ہجرت میں مجھ سے اتنی وفاداری کی ہے کہ میں فیصلہ اسی پر چھوڑتا ہوں‘‘۔

پھر انہوں نے اپنی چھڑی ہوا میں بلند کی اور فرمایا:

’’قصواء جہاں جا کر رُکے گی، میں وہیں قیام کروں گا اور وہیں اپنی مسجد تعمیر کروں گا۔‘‘

ہم سب اپنے نبیؐ کے پیچھے پیچھے چل پڑے۔ قصواء جدھر جاتی ہم بھی جاتے۔ وہ جدھر مڑتی، ہم بھی مڑ جاتے۔ باغوں، کھجوروں کے جھنڈوں، گلیوں میں سے گزرتی ہوئی قصواء ، بنو نجاّر کے محلے سے بھی گزر گئی، جہاں حضورؐ نے بچپن میں چند سال بسر کئے تھے۔ چلتے چلتے ایک جگہ پہنچ کر قصواء رُک گئی۔ میں نے فوراً چاروں طرف نظر دوڑائی، حضورؐ کے قیام اور مسجد کی مناسبت سے جگہ کا جائزہ لینے لگا۔ قصواء کچھ دیر وہاں کھڑی رہی۔ زمین پر پڑا ایک پتا کھایا۔ اِدھر اُدھر دیکھا، کچھ سونگھا، اپنی ٹانگ کو کھجلایا۔ ایک قدم پیچھے ہٹی، پھر بیٹھنے کے لئے اپنی ٹانگیں دُہری کیں مگر حضورؐ نیچے نہیں اُترے۔ بیٹھتے بیٹھتے وہ اچانک کھڑی ہو گئی اور پھر آہستہ آہستہ چلنے لگی۔ ہم سب بھی چل پڑے۔ اتنے میں پیچھے سے میرے کان میں آواز آئی۔ مڑ کے دیکھا تو عبداللہ بن اُبی تھا جو کہہ رہا تھا:

’’وہ میری توقع سے زیادہ ہوشیار نکلے۔ اونٹنی کے فیصلے سے کس کی دلآزاری ہو سکتی ہے۔‘‘

قصواء دو قدم چلتی تھی تو میں چار۔ جب تک دنیا قائم ہے قصواء زندہ رہے گی۔ قصواء محمدؐ کی اونٹنی تھی جس پر انہوں نے ہجرت فرمائی تھی۔ سفید رنگ، سوچتی ہوئی آنکھیں، بڑے بڑے نتھنے، سُتا ہوا جسم، قصواء اپنی جنس میں خوب صورتی کا مرقع تھی لیکن اس میں بھی ایک نقص تھا۔ اُس کے بائیں کان کا سرا ذراسا کترا ہوا تھا۔ بہت دن پہلے اونٹوں کی لڑائی میں ایک اونٹ نے اُس کا کان چبا ڈالا تھا۔ باقی اُس کا سارا جسم بے داغ تھا۔

تھوڑی دور چل کر قصواء واپس مڑی اور وہیں آ گئی جہاں اُس نے پہلے بیٹھنے کا ارادہ کیا تھا۔ یہ ایک چھوٹا سا میدان تھا جس کے کنارے پر کھجوروں کے پانچ درخت تھے۔ ہم بہت غور سے قصواء کی ہر حرکت کو دیکھ رہے تھے۔ آخر اُسے ایک عظیم فیصلہ کرنا تھا۔ ہم سوچ رہے تھے کہ پتہ نہیں یہاں بھی وہ رُکے گی یا نہیں۔ اتنے میں اُس نے نہایت ڈرامائی انداز میں آہستہ آہستہ اپنے گھٹنے دوہرے کئے۔ ذرا آگے کو جھکی، پھر گردن اوپر اٹھائی، ایک طرف کو مڑی زمین کو کچھ دیر سونگھتی رہی، دُم ہلا کر مکھیاں اُڑائیں، ہلکی سی آواز میں بلبلائی، شمال کو یروشلم کی سمت دیکھا، پھر جھکی مگر اس دفعہ اُس نے اپنا سارا بوجھ زمین پر ڈال دیا۔ اس بار حضورؐ نیچے اُتر آئے اور انہوں نے بآواز بلند اعلان فرمایا:

’’میں یہاں رہوں گا، یہیں میری مسجد بنے گی اور یہیں میں دفن ہوں گا۔‘‘

قصواء جس جگہ بیٹھی تھی وہ بنونجاّر کے محلے کا ایک احاطہ تھا۔ بنو نجاّر محمدؐ کے ننھیالی عزیز تھے۔ حضورؐ کے دادا عبدالمطلب کی والدہ اسی خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ رشتہ قائم رہا۔ آپؐ کے چچا عباسؓ جب کبھی تجارت کے سلسلے میں شمال کا سفر کرتے تو مدینے میں اپنے خاندان کے ساتھ چند روز ضرور قیام کرتے تھے۔(جاری ہے)

حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر41 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

موضوعات

تبصرے کیجئے

Click here to post a comment

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.