حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر39

اُن ہی دنوں نویں ہجری میں فتح مکہ سے کچھ عرصہ پہلے بحرین سے تیرہ چودہ آدمیوں کا ایک وفد رسالت مآبؐ سے ملنے مدینے حاضر ہوا تھا۔ اشج عبدالقیس نامی ایک چاق و چوبند نوجوان اُس وفد میں شامل تھا۔ مسجد نبوی کے پاس آ کر اُس نے اپنے قافلے کے اونٹ ایک طرف بٹھائے اور سب اونٹوں سے سامان اُتروا کر نہایت سلیقے سے ایک جگہ رکھوا دیا۔ پھر نہایت اطمینان سے اپنا بقچہ کھولا اور دو سفید دھلے ہوئے کپڑوں کا جوڑا نکالا۔ منہ ہاتھ دھو کر راستے کی گرد دور کی اور صاف ستھرے کپڑے پہن کر اپنے ساتھیوں سمیت رسول پاکؐ کی خدمت میں حاضر ہوا۔

مہمانوں کی آمد پر میں حسب دستور حضورؐ کے احکامات کے انتظار میں ایک طرف کھڑا تھا۔ اشج آگے بڑھا، نہایت مودبانہ انداز میں حضورؐ سے مصافحہ کیا اور آپ کے دستِ مبارک کو بوسہ دیا۔ اس کے بعد اُس نے اپنا اور اپنے وفد کا تعارف کرایا اور اسلام سے اپنی رغبت کا اظہار کیا۔ کئی اور صحابہؓ بھی موجود تھے۔ سرورِ کائناتؐ نے اس کی باتیں سن کر مسرت کا اظہار فرمایا اور پھر اُس نوجوان کو غور سے دیکھتے ہوئے فرمایا:

حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر38 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’تمہاری دو خصلتیں ہیں جو اللہ اور اس کے رسولﷺ کو پسند ہیں۔ ایک حلم اور دوسری وقار اور تمکنت۔‘‘

اشج نے کلمات تشکر ادا کرتے ہوئے ان سے پوچھا:

’’یہ دونوں خصلتیں مجھ میں بطور تصنع ہیں یا فطری اور جبلی‘‘

رسول اللہؐ مسکرائے اور فرمایا:

’’نہیں، عبدالقیس نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں پیدا ہی ان خصلتوں پر کیا ہے۔‘‘

اشج عبدالقیس نے اللہ کا شکر ادا کیا اور اپنے قافلے سمیت اسلام کے دائرے میں داخل ہو کر اہلِ مجلس کے دلوں میں ہمیشہ کے لئے اپنا نقش چھوڑ گیا۔

حضورؐ کے حکم کے مطابق میں نے فرداً فرداً وفد کے تمام اراکین کو تحفے تحائف دے کر رخصت کیا۔

اس کے چند ہی دنوں بعد ایک اور عجیب و غریب وفد مدینے پہنچا۔ یہ بنو تمیم کے لوگ تھے۔ مختصر وفد، تقریباً دس آدمیوں پر مشتمل، نہایت غیر روایتی انداز میں مسجد نبوی کے قریب حضورؐ کے حجرۂ مبارک کے پیچھے کھڑے ہو کر بآواز بلند حضورؐ سے مخاطب ہوئے:

’’اے محمد باہر آؤ تاکہ ہم آپ سے مفاخرہ اور شاعری میں مقابلہ کریں۔ ہم وہ ہیں کہ ہماری مدح زینت ہے اور ہماری مذمت عیب‘‘

شور سن کر میں باہر نکلا اور حضورؐ کے حجرے میں جا کر اُنہیں اس وفد کی آمد سے مطلع کیا۔ حضورؐ ایک لمحہ خاموش رہے اور مجھے ظہر کی اذا ن کا حکم دیا۔ اذان ہوتے ہوتے وفد مسجد میں داخل ہو چکا تھا۔ حضورؐ بھی نماز کے لئے تشریف لے آئے۔ نماز ظہر کے بعد وفد کی طرف سے اُن کے خطیب عطارد بن حاجب نے نہایت فصیح و بلیغ انداز میں اپنے قبیلے کے مناقب و محاسن بیان کئے۔ نبی کریمؐ نے جوابی خطبے کے لئے ثابت بن قیس انصاریؓ کو فرمایا۔ جواب ہو چکا تو بنو تمیم کا شاعر زبرقان کھڑا ہو گیا اور اپنی قبائلی مفاخرت کا قصیدہ پڑھا۔ تمام حاضرین اس صورتِ حال سے لطف اٹھا رہے تھے کہ آخر یہ فصاحت اور زورِ بیاں کا مقابلہ تھا جس پر عرب جان دیتے تھے۔

قصیدہ ختم ہوا تو حضورؐ کے اشارے پر حسان بن ثابتؓ تشریف لائے اور جواباً ایک نہایت مرصع قصیدہ فی البدیہہ پیش کیا۔ قصیدہ کیا تھا، ایک تخلیقی معجزہ تھا۔ سب حاضرین بے حد متاثر ہوئے۔ یہاں تک کہ مقابلے پر اُترے ہوئے بنو تمیم کے شعراء اور خطیب بھی محظوظ ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ اُن کی طرف سے اقراع بن حابس نے کھڑے ہو کر اعلان کیا:

’’اللہ کی قسم آپ کا خطیب ہمارے خطیب سے اور آپ کا شاعر ہمارے شاعر سے بہتر ہے‘‘۔ یہ کہتے ہی باقی لوگ بھی اُٹھ کھڑے ہوئے اور سب رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کر کے مسلمان ہو گئے۔

بات کہیں سے کہیں نکل گئی۔ اُس دن قبا میں مشرف بہ اسلام ہونے والے جلیل القدر صحابی اور اسلام کے بہت مقتدر فرزند سلمان فارسیؓ تھے۔ حضور ﷺ نے سلمانؓ سے بہت پیار کیا۔ اُن کو ہمیشہ اپنے گھر کا فرد سمجھا۔ اُن کو آزاد کرانے کی خاطر رقم کا بندوبست کیا ا ور اُن کے یہودی آقا کے باغ میں صحابہء کرامؓ کے ساتھ مل کر اپنے ہاتھ سے کھجوروں کے پودے لگائے۔ کلمہ شہادت پڑھنے کے بعد سلمانؓ نے نبی اکرمؐ کو اپنی داستان سنائی کہ وہ ایک زرتشتی خاندان میں پیدا ہوئے جو اصفہان کے قریب ایک گاؤں میں رہتا تھا اور پھر کس طرح وہ تلاشِ حق میں عیسائی راہبوں کی صحبت میں شہروں شہروں، ملکوں ملکوں، پھرتے رہے، کبھی شام، کبھی موصل، کبھی عراق کے شمالی علاقوں میں، اور کس طرح اُن کے آخری مرشد نے اپنی وفات سے پہلے اُنہیں بتایا کہ مزید ہدایت وہ ایک نبی برحق سے پائیں گے جن کے آنے کا وقت ہو گیا ہے۔ اُس راہب نے بتایا کہ یہ نبی عرب قبائل سے اُٹھے گا اور دین ابراہیم کی دعوت دے گا۔

پھر وہ اپنے وطن سے ہجرت کر کے ایک نخلستان میں آباد ہو گا جس کے دونوں طرف منجمد لاوے کی پتھریلی زمین ہو گی۔ اس کی پہچان یہ ہو گی کہ وہ ہدیہ قبول کرے گا مگر صدقہ نہیں اور اس کے شانوں کے درمیان مہرِ نبوت ہو گی۔ جب سلمانؓ نے یہ سنا تو اُنہوں نے بنوکلب کے ایک قافلے میں شامل ہو کر عربستان کا رُخ کیا۔ اُن کی کچھ بکریاں بھی اُن کے ساتھ تھیں۔ پہلے تو بنوکلب کے قافلے نے ایک ایک کر کے اُن کی ساری بکریاں کھا لیں، پھر جب قافلہ خلیج عقبہ کے نزدیک وادی القریٰ میں پہنچا تو انہوں نے سلمانؓ سے مزید بدعہدی کی اور اُنہیں ایک یہودی کے ہاتھ فروخت کر دیا۔ وادی القریٰ کے سرسبز علاقے کو دیکھ کر سلمانؓ کو اکثر یہ خیال آتا کہ کہیں یہی وہ جگہ نہ ہو جہاں اللہ کے نبی کو آنا ہے۔ لیکن یہاں پتھریلے لاوے کے نشان نہیں تھے۔ کچھ ہی عرصے بعد اُن کے یہودی آقا نے انہیں اپنے ایک عزیز عثمان بن الاشہل کے ہاتھ بیچ دیا جو بنو قریظہ کا فرد تھا اور مدینے میں رہتا تھا۔ وہ انہیں لے کر مدینہ آ گیا جسے دیکھتے ہی اُنہیں یقین ہو گیا کہ یہی وہ جگہ ہے جہاں اللہ کے رسولﷺ کی آمد ہو گی۔

سرسبز و شاداب نخلستان اور شہر کے دونوں طرف لاوے کے پتھروں کے پھیلے ہوئے سلسلے۔ اور پھر واقعی کچھ دنوں بعد شہر میں ایک نبی کی آمد کا چرچا شروع ہو گیا۔ اُس دن جب انہیں اُن کی آمد کی اطلاع ملی تو وہ کھجوریں لے کر اُن کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ مگر جب آنے والے معزز مہمان نے صدقے کی کھجوریں خود نہیں کھائیں اور دائیں بائیں بیٹھے ہوئے لوگوں میں تقسیم کر دیں تو وہ بے ساختہ ایمان لے آئے کہ انہیں ان کے مرشد نے یہی نشانی بتائی تھی۔ حضورؐ نے سلمانؓ کی یہ داستان نہایت انہماک سے سنی اور خواہش ظاہر کی کہ وہ اپنی کہانی اوروں کو بھی سنائیں۔(جاری ہے )

حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر40 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

موضوعات

تبصرے کیجئے

Click here to post a comment

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.