حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر37

تینوں سواروں نے مغرب کا راستہ لیا۔ اب بھی اُن کا رُخ مدینہ کی طرف نہیں تھا، بلکہ وہ بحیرۂ احمر کی طرف جا رہے تھے۔ دو دن میں تقریباً پچاس میل کی مسافت طے کر کے وہ ساحل سمندر پر پہنچ گئے۔ یہاں سے وہ ساحل کے ساتھ ساتھ شمال مغرب کی طرف مڑے اور تمام جانے پہچانے راستوں سے بچتے، کتراتے سفر کرتے رہے۔ ان راہوں میں بھی ایک پیچھا کرنے والے نے انہیں تلاش کر لیا۔ وہ اُن کے پیچھے لپکا لیکن اللہ کی قدرت سے اُس کا گھوڑا ٹھوکر کھا کر گر پڑا۔ وہ پھر سوار ہو کر آگے بڑھا تو اس کے گھوڑے کے سامنے کے دونوں پاؤں ریت میں دھنس گئے۔ یہ عربستان کا مشہور سوار سراقہ بن مالک تھا اور اُس کا مرکب سارے عربستان کا مشہور گھوڑا تھا۔ اُسے اپنے آپ پر اور اپنے گھوڑے پر بہت ناز تھا۔ جب یہ انہونا واقعہ پیش آیا تو سراقہ نے وہیں بڑھ کر حضورؐ کی بیعت کر لی بلکہ اُس نے اُن سے امان کی ایک تحریر کی بھی درخواست کی جو عامر بن فہیرہؓ نے تحریر کی اور جو فتحِ مکہ کے موقع پر اُس کے کام آئی۔ اُس دن رسول اللہ ﷺ نے اُسے یہ بشارت بھی سنائی کہ ایک دن کسریٰ کے کنگن اُس کے ہاتھوں میں ہوں گے۔ پتہ نہیں اللہ مجھے وہ دن دیکھنے کے لئے زندہ رکھے گا یا نہیں۔ اسی راستے پر ایک شام انہیں بحیرۂ احمر پر ربیع الاول کا نیا چاند نظر آیا جسے دیکھ کر اللہ کے نبیؐ نے فرمایا:

حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر36 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’اے رحمتوں اور برکتوں کے چاند! میرا ایمان اُس پر ہے جس نے تجھے بنایا ہے‘‘۔

وہ ہمیشہ نئے چاند کو دیکھ کر یہی فرمایا کرتے تھے۔ یہ ساری تفصیل میں نے عامرؓ سے سنی جو اس عظیم ہجرت کے تاریخی سفر کے ایک ایک قدم کے عینی شاہد تھے۔ ایک صبح انہوں نے دیکھا کہ سامنے سے ایک چھوٹا سا قافلہ چلا آ رہا ہے۔ سب پریشانی میں مبتلا ہو گئے کیونکہ اگر وہ کسی دشمن کا قافلہ تھا تو فرار ہونے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ مگر جلد ہی اُن کی پریشانی خوشی میں تبدیل ہو گئی جب انہوں نے دیکھا کہ وہ ابوبکرؓ کے عم زاد طلحہؓ بن عبید اللہ کا تجارتی قافلہ ہے۔

طلحہؓ شام سے کپڑا اور دیگر سامان مکے میں فروخت کرنے کے لئے لا رہے تھے۔ راستے میں انہوں نے مدینے میں بھی قیام کیا تھا۔ طلحہؓ نے انہیں بتایا کہ مدینے میں رسول اللہ ﷺ کی آمد کا نہایت شدت سے انتظار ہو رہا ہے اور یہ کہ وہ خود بھی اپنا سامان فروخت کر کے مدینے ہجرت کر جائیں گے۔

رخصت سے پہلے طلحہؓ نے حضورؐ اور ان کے ساتھیوں کو شام کا نہایت نفیس سفید کپڑا پیش کیا تاکہ وہ لباس تبدیل کر سکیں۔ طلحہؓ کے رخصت ہونے کے تھوڑی دیر بعد اریقط نے شمال مغرب کی بجائے شمال کی طرف رُخ کر لیا۔ اور یہ چھوٹا سا قافلہ اب آہستہ آہستہ ساحلِ سمندر سے دور ہوتا گیا۔ کچھ دور شمال کی طرف چلنے کے بعد اب وہ شمال مشرق کی طرف چلنے لگے۔ یہ مدینے کی سمت تھی۔ اسی راستے میں سورہِ القصص کی وہ آیت نازل ہوئی تھی جس میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریمؐ کو مکہ واپس آنے کی بشارت دی تھی۔

جس نے آپ پر قرآن فرض کیا ہے وہ آپ کو آپ کے وطن پہنچا کر رہے گا۔

بارہویں دن فجر سے کچھ دیر پہلے وہ وادی عقیق میں داخل ہو گئے۔ اُسے پیار کر کے انہوں نے سامنے کے سیاہ پہاڑ پر چڑھنا شروع کر دیا۔ چڑھائی ختم ہوتے ہوتے سورج نصف النہار پر آ چکا تھا اور گرمی کی وہ شدت کہ اللہ کی پناہ! عام حالات میں وہ کچھ دیر کسی چٹان کے سائے میں آرام کرتے اور سورج ڈھلے دوبارہ سفر کا آغاز کرتے لیکن یہ عام دن نہیں تھا۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ چلتے جائیں۔ چنانچہ انہوں نے پہاڑ کی چوٹی سے نیچے اُترنا شروع کر دیا۔ کچھ عرصہ سفر کرنے کے بعد انہیں دور سے یثرب کے باغات اور کھجوروں کے جھنڈ دکھائی دینے لگے۔ اب تو قیام کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ اُن کے خوابوں کی تعبیر، اُن کی امیدوں کا مرکز اُن کے سامنے تھا۔ سخت تھکن اور حدت کے باوجود وہ آہستہ آہستہ چلتے گئے، قبا کی طرف جو اس سر سبز وادی کی نزدیک ترین آبادی تھی۔

اِدھر مدینے میں ہم لوگ سخت بے چین تھے۔ اتنی خبر ہمیں مل چکی تھی کہ وہ مکے سے نکل چکے ہیں۔ ہر صبح ہماری ٹولیاں اُن کی تلاش میں مدینے آنے والے راستوں پر صحرا میں نکل جاتیں اور چند گھنٹوں بعد جب دھوپ کی شدت برداشت سے باہر ہو جاتی تو واپس لوٹ آتیں۔ طلحہ بن عبید اللہؓ مدینے سے ہو گزرے تھے۔ اُن سے بھی ہم اپنی فکر مندی ہی کا اظہار کر سکے تھے۔ اُن سے خاتم الرسل ﷺ کی کوئی خیر خبر نہیں مل سکی تھی۔

اس موسم میں کسی جان دار کا دیر تک دھوپ میں رہنا ممکن نہیں تھا۔ مسافر بھی سفر روک دیتے تھے اور کسی چھاؤں میں یا اوپر کپڑے تان کر اُن کے نیچے قیام کرتے تھے اور پھر سورج ڈھلنے پر دوبارہ سفر شروع کرتے تھے۔ بچے بچے کی زبان پر تھا کہ اللہ کا رسولؐ آ رہا ہے۔ مسلمان خوش تھے، منافق پریشان تھے اور اہل یہود محتاط ۔ دو روز سے ہماری پریشانی بہت بڑھ گئی تھی۔ اُن کو مکے سے چلے تیرہ دن ہو گئے تھے اور خطرات کا ہمیں پورا پورا اندازہ تھا۔ قریش سے کوئی بات بعید نہیں تھی۔

پھر ایک دن اچانک دوپہر کے کچھ دیر بعد جب ہم سب تھک ہار کر صحرا سے واپس آ گئے تھے، مدینے میں ایک شور بلند ہوا۔ گلی کوچوں میں، میدانوں میں، باغات میں ہر شخص دوڑا جا رہا تھا۔ سب سے پہلے قبا کے ایک یہودی نے انہیں اپنی چھت سے دیکھا تھا۔ دور اُفق کے پاس تین چھوٹے چھوٹے سائے اونٹنیوں کی چال کے زیروبم کے ساتھ اونچے نیچے ہوتے ہوئے مدینے کی سمت بڑھ رہے تھے۔ گرمی کی شدت کی وجہ سے اونٹنیوں کی رفتار بہت آہستہ تھی۔ تیز دھوپ میں سواروں کے نہایت اُجلے سفید کپڑے چمک رہے تھے۔ تھوڑی سی تشویش بھی تھی کہ اتنے دنوں کے طویل سفر کے بعد سواروں کے یہ صاف شفاف کپڑے۔ کہیں یہ کوئی اور لوگ ہی نہ ہوں۔ بہرکیف ہم لوگ دیوانہ وار، اُن کے خیر مقدم کو تپتے ہوئے صحرا میں دوڑ پڑے، گرتے پڑتے، سنبھلتے، لڑکھڑاتے، ایک دوسرے سے ٹکراتے، کھجوروں کی شاخیں لہراتے، خوشی کے مارے چیختے چلاتے، اپنی کامیابی پر شاداں، اللہ اکبر کے نعرے لگاتے، اپنے رسولؐ کی سلامتی پر اللہ کا شکر ادا کرتے! یہ ربیع الاول کی آٹھ تاریخ تھی اور پیر کا دن۔(جاری ہے )

حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر38 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

موضوعات

تبصرے کیجئے

Click here to post a comment

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.