حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر31

ابو طالب کی وفات کے بعد حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا نہایت کمینہ دشمن ابولہب خاندانِ بنوہاشم کا سردار بن گیا۔ اہل مکہ کی اسلام دشمنی میں مزید شدت آ گئی۔ سردار بنو ہاشم کی حیثیت سے اُس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت پناہی تو برقرار رکھی لیکن محض برائے نام ۔ وہ سارا دن مکے میں دندناتا پھرتا تھا۔ صبح و شام، موقع بے موقع لات، منات اور عزّیٰ کی تعریفیں کرتے اُس کا منہ نہیں تھکتا تھا۔ اُس کی اسلام دشمنی میں ذرا بھی کمی آتی تو ابوجہل اُسے اُکساتا اور نفرت کے بخار کو کم نہ ہونے دیتا۔

بدبخت ابولہب! لات و منات کی عبادت اُس کے کسی کام نہ آئی اور بالآخر وہ اپنے ہی غصے کی آگ میں جل کر بھسم ہو گیا۔ موت کے وقت وہ ایسی بیماری میں مبتلا تھا جس سے اُس کا چہرہ پھول کر پہلے سے بھی زیادہ سرخ ہو گیا تھا اور آج اُس کی روح جہنم کی آگ میں سب کے لئے عبرت کا سامان بنی ہوئی ہے۔ اُس نے اپنی زندگی ہی میں اللہ کی طرف سے اپنے جہنمی ہونے کی وعید سن لی تھی۔ سورہۂ لہب میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر30 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ابو لہب کے ہاتھ ٹوٹ گئے

اور وہ برباد ہو گیا۔

نہ اُس کا مال اُس کے کام آیا، نہ اُس کی کمائی۔

وہ ایک شعلہ زن آگ میں پڑے گا،

وہ بھی اور اُس کی بیوی بھی،

لکڑیاں لاد کر لانے والی۔

اُس کی گردن میں رسّی پڑی ہو گی،

خوب بٹی ہوئی۔

ابولہب کی بیوی اُمِّ جمیل بھی اُسی کی طرح بد تھی۔ مجھے یاد ہے میں بچہ تھا اور اُمِّ جمیل چھتری لے کر غلاموں کی سزائیں دیکھنے آیا کرتی تھی۔ یہ وہ ہولناک مناظر تھے جن کو دیکھنے کا حوصلہ مردوں میں بھی نہیں ہوتا تھا۔ مجھے اُس سے خوف آتا تھا۔ بعد میں وہ خاردار جھاڑیوں کی گٹھریاں باندھ باندھ کر حضورؐ کے گھر کے سامنے جلایا کرتی تھی۔ اسلام دشمنی کی قدرِ مشترک ہی کی مناسبت سے باری تعالیٰ نے میاں بیوی کو جہنم میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ رکھا۔

ابُوبکرؓ کی آزمائش

مکیّ میں زندگی گزارنا اب پہلے سے بہت زیادہ مشکل ہو گیا تھا اور اُن کے لئے تو تقریباً ناممکن جن کا کوئی والی وارث نہیں تھا۔ محمدؐ خود جن سختیوں سے دوچار ہو رہے تھے اس سے پہلے کبھی نہ ہوئے تھے۔ ہر روز اُن کو ایذا پہنچانے کے لئے نئے ستم ایجاد کئے جاتے۔ ایک دن ایک راہ گیر نے اُن کے گھر کے دروازے سے ہاتھ بڑھا کر اُن کے کھانا پکانے کے برتن میں نہایت بدبودار، سڑے ہوئے گوشت کا لوتھڑا پھینک دیا۔ ایک دن وہ اپنے گھر میں عبادت کر رہے تھے کہ عبد شمس کے عقبہ نے جو عثمانؓ بن عفان کا سوتیلا باپ تھا، خون اور غلاظت سے آلودہ بھیڑ کی اوجھڑی اُن پر پھینک دی۔ وہ اُسی حالت میں اُس غلیظ اوجھڑی کو ایک چھڑی کے سرے پر لٹکا کر باہر لائے اور اپنے گھر کے دروازے کے سامنے کھڑے ہو کر زور زور سے پکارا:

’’اے عبد مناف کے بیٹو دیکھو، کیا اسی کو پشت پناہی کہتے ہیں؟‘‘

ایک دن وہ کعبے سے گھر آ رہے تھے کہ کسی شخص نے زمین سے خاک اٹھا کر اُن کے چہرے پر پھینک دی۔ منہ، سر، آنکھیں سب مٹی میں اٹ گئیں۔ وہ اُس ناہنجار کو دیکھ بھی نہ پائے۔ کئی بار گلیوں میں اُن پر اُوپر کی منزلوں سے کوڑا پھینکا گیا۔

میرے محسن ابوبکرؓ کا حال بھی حد درجہ ناگفتنی تھا۔ اسلام لانے سے پہلے وہ مکے کی ایک نہایت بااثر اور با رسوخ شخصیت تھے۔ یہ ٹھیک ہے کہ حمزہؓ اور عمرؓ کی طرح لوگ اُن سے خائف نہیں تھے لیکن ان کے روحانی مرتبے اور خوش اخلاقی کی وجہ سے سارے شہر میں اُن کا بڑا احترام تھا۔ اسلام لانے کی دیر تھی کہ شہر کا شہر اُن کا دشمن ہو گیا۔ اور لوگ بھی مسلمان ہوئے تھے اور وہ سب دشمن ہی شمار کئے جاتے تھے لیکن ابوبکرؓ سے انہیں زیادہ کد اس لئے تھی کہ وہ نہ صرف خود مسلمان ہو گئے تھے بلکہ انہوں نے بقولِ قریش اور بھی بہت سے لوگوں کو ورغلایا تھا۔ اسود بن نوفلؓ کے اسلام لے آنے کے بعد تو ابوبکرؓ کے خلاف نفرت کی شدت بہت بڑھ گئی تھی۔

ایک دن خود نوفل نے جو خدیجہؓ کے سوتیلے بھائی تھے۔ ابوبکرؓ اور طلحہؓ پر حملہ کروا دیا۔ کچھ لوگوں نے ان دونوں کو پکڑا اور سر سے پیر تک رسیوں سے جکڑ کر بازار میں پھنکوا دیا۔ یہ سب کچھ سب کے سامنے سربازار ہوتا رہا مگر ابوبکر کے اپنے قبیلے کے کسی فرد نے اسد قبیلے والوں سے مزاحمت نہیں کی اور کھڑے کھڑے تماشہ دیکھتے رہے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ انہوں نے بھی اپنے قبیلے کے ان دو سربرآوردہ لوگوں کو اسلام لانے کی بنا پر اپنی حمایت سے خارج کر دیا تھا۔

ایسے اور بھی کئی حادثے ہوئے۔ میرا سابقہ آقا اُمیہ تو ابوبکرؓ پر اُدھار کھا ئے بیٹھا تھا۔ بنو جُمح کے محلے میں ابوبکرؓ کا گھر اُس کے گھر کے پاس ہی تھا۔ آئے دن آتے جاتے کوئی نہ کوئی شرارت کرتا رہتا تھا۔ آخر ایک دن ابوبکرؓ نے بھی حضورؐ کی اجازت سے حبشہ ہجرت کر جانے کا فیصلہ کر لیا۔

ابوبکرؓ بحیرہۂ احمر کے سفر کے لئے مکے سے روانہ ہوئے تو راستے میں اُن کی ملاقات ابن الذغنہ سے ہوئی جو مکے سے تھوڑی دُور صحرا میں چند چھوٹے چھوٹے قبیلوں کا مشترکہ سردار تھا۔ اور ابوبکرؓ سے اچھی طرح واقف تھا۔ اُس نے مکے میں اُن کی بڑی شان و شوکت دیکھی تھی۔ انہیں اس طرح حال سے بے حال دیکھ کر اُس سے نہ رہا گیا۔ اُس کے متعدد سوالوں کے جواب میں ابوبکرؓ نے صرف یہی کہا کہ مجھ پر میرے شہر والوں نے بہت ستم ڈھائے ہیں اور میں مجبور ہو کر مکے سے نکل آیا ہوں۔ اب میری یہی تمنا ہے کہ میں زندگی کے باقی دن کہیں یادِ الٰہی میں گزار دوں۔

ابن الدغنہ نے حیران ہو کر پوچھا:

’’ایسا کیسے ہو گیا ابن ابوقحافہ! تم تو اپنے قبیلے کے سر کا تاج ہو۔ راست باز، بے بسوں کے مدد گار، غریبوں، مسکینوں کے غم گسار۔ تمہارے ساتھ ایسا کیوں ہوا؟ تم واپس مکے چلو۔ میرے ساتھ، میری پشت پناہی میں۔‘‘

مکے والوں کو اس بدوی سردار کا بڑا لحاظ تھا۔ انہوں نے اُس کی پشت پناہی کو تسلیم تو کر لیا لیکن ساتھ ہی ایک شرط بھی رکھ دی۔ وہ یہ کہ ابوبکرؓ اپنا اسلام اور اپنی عبادتیں اپنے گھر ہی میں رکھیں۔ شہر کے بچوں بچیوں کو گمراہ نہ کریں۔ ابن الدغنہ نے بھی اسی بات پر زور دیا تو ابوبکرؓ نے اُس کی پناہ واپس کر دی۔(جاری ہے )

حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر32 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

تبصرے کیجئے

Click here to post a comment

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.