حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر30

اشرافِ مکہ غیرت کے پتلے تھے، حمیّت پر جان دیتے تھے مگر ابوجہل کی وجہِ شہرت یہ نہیں تھی۔ ایک دن محمدﷺ خانہ کعبہ کا طواف کرنے گئے۔ ابوجہل اپنے حواریوں سمیت حطیم کے پاس بیٹھا تھا۔ محمدﷺ نے حجرا سود کو بوسہ دیا اور طواف کا پہلا چکر شروع کیا۔ جب وہ حطیم کے پاس سے گزرے تو ابوجہل نے اُن پر پھبتی کسی جس پر اُس کے سارے حواری کھلکھلا کر ہنس پڑے۔ رسالتمابﷺکے چہرے سے پتہ چلتا تھا کہ انہوں نے اُس کی ہرزہ سرائی سُن لی ہے مگر وہ اپنے طواف میں مشغول رہے۔ دوسرے چکر میں جب وہ پھر حطیم کے پاس سے گزرے تو ابوجہل نے پہلے سے بھی زیادہ بدتمیزی کی۔ اس بار پہلے سے بھی زیادہ زوردار قہقہہ بلند ہوا۔ اس بار بھی نبی کریمﷺ خاموشی سے گزر گئے اور اپنا طواف جاری رکھا لیکن جب سرورِ دو عالمﷺ تیسرے چکر میں حطیم کے پاس سے گزرے اور ابوجہل نے ویسے ہی تضحیک آمیز الفاظ کہے تو رسول اللہ ﷺ رُک گئے اور ابوجہل کی ٹولی سے مخاطب ہو کے کہا:

’’سنو قریش کے لوگو! میں اُس ذاتِ باری کے نام پر جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ تم کو کشت و خون کی و عید سناتا ہوں‘‘۔

حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر29 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ان الفاظ نے اور جس لہجے میں وہ کہے گئے، ابوجہل اور اُس کے حواریوں کو سحرزدہ کر دیا۔ نہ کوئی اپنی جگہ سے ہلا اور نہ کسی کو بولنے کی جرأت ہوئی۔ یہ تو تھا غیرت اور حمیّت کا معاملہ۔ رہی شجاعت تو اس کا مظاہرہ بھی آپ کے سامنے ہے۔ حمزہؓ کی کمان کی ضرب کھا کر ابوجہل کس قدر خوف زدہ ہوا تھا اور جب حمزہؓ نے اُسے مقابلے کی دعوت دی تو اُس نے آنکھ تک اوپر نہیں اٹھائی۔ ابوجہل لڑتا کم، لڑواتا زیادہ تھا۔ وہ جوڑ توڑ کا ماہر تھا۔ اُس کی اصل طاقت اس کا سازشی ذہن تھا اور سازش اور شجاعت کا کبھی میل نہیں ہوتا۔ ابوجہل کے بارے میں، میں اور میرے جیسے زخم خوردہ یہی کہہ سکتے ہیں کہ اُس میں ہر بُرائی موجود تھی۔

مصیبت پر مصیبت

ویسے تو ہماری زندگی تھی ہی غموں سے عبارت لیکن ایک سال ہمارے لئے ایسا چڑھا تھا جو ہمارے لئے بڑی تکلیفیں لے کر آیا تھا۔ اذیتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے تھے۔ یہ عام الحزن کہلاتا ہے۔ غم و اندوہ کا سال۔ اس سال ہماری پریشانیاں اس حد تک بڑھ گئی تھیں کہ ہمارا دین تک اُس کی زد میں آ گیا تھا۔ ہم آسمانوں کی طرف نظریں اٹھا اٹھا کر دیکھتے تھے اور پوچھتے تھے یا اللہ ہمیں کن گناہوں کی سزا مل رہی ہے۔

نبوت کے چھ سال میں ہماری تعداد بڑھتے بڑھتے سو تک پہنچ گئی تھی۔ دنیا کی آبادی میں ایک سو کی کیا حیثیت ہے لیکن ایک وقت ایسا بھی تھا جب ہم صرف دس تھے۔ آج دمشق میں میرے عہدِ ضعیفی کی سب سے بڑی خوشی یہ ہے کہ میں اپنے برآمدے میں بیٹھا، اپنی چھڑی کی مٹھی پر ٹھوڑی ٹکائے باہر سڑک پر مسلمانوں کے آتے جاتے ہجوم دیکھتا رہتا ہوں، تیس سال پہلے ہماری تعداد اتنی تھی کہ ہم ایک چراغ کے گرد جمع ہو سکتے تھے۔ میں رب العزت کا شکر گزار ہوں کہ ابھی تک اُس کی زمین پر چل پھر رہا ہوں لیکن عام الحزن میں کئی بار میرا جی چاہا کہ میں اِس زمین میں دفن ہو جاؤں۔

پہلے ام المومنین حضرت خدیجہؓ کا انتقال ہوا۔ پچیس سال تک وہ رسولؐ اللہ کی رفیقۂ حیات رہیں اور اُن کی مشیر، اُن کے بچوں کی ماں، علیؓ اور زیدؓ سمیت، اور جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں ایک وقت وہ تھا جب اوّل المسلمون یعنی رسول اللہ ﷺ کے علاوہ دنیا میں صرف ایک مسلمان تھا اور وہ حضرت خدیجہؓ تھیں۔ اوّلیں نزول وحی کی رات جب رسول کریمؐ انتہائی کرب و تذبذب کے عالم میں تھے، حضرت خدیجہؓ ہی تھیں جنہوں نے دلاسا دیا تھا۔ بعثت سے پہلے انہوں نے اپنی ساری دولت حضورؐ کے قدموں میں ڈال دی تھی کہ وہ اُسے جس طرح چاہیں خرچ کریں۔ خود اپنی ذات میں وہ اُم المومنین تھیں۔

حضرت خدیجہؓ اچانک بیمار پڑیں اور اُسی دن انتقال کر گئیں۔ رات سے پہلے پہلے انہیں دفن بھی کر دیا گیا۔ عالم اسلام سے اسلام کی اولین شہادت ایک دن میں نظروں سے اوجھل ہو گئی۔

اس کے بعد ابو طالب کا انتقال ہو گیا۔

ابو طالب کی شدید علالت کی خبر ملی تو قریش کے سردار عیادت کے لئے پہنچے۔ ابوجہل، عتبہ، اُس کا بھائی شیبہ، ابو سفیان وغیرہ۔ انہوں نے بسترِ مرگ پر لیٹے ابو طالب سے کہا:

’’ابو طالب تمہیں معلوم ہے ہم تمہارا کتنا احترام کرتے ہیں۔ تمہاری علالت کی وجہ سے ہم سب بہت فکر مند ہیں۔ تمہیں یہ بھی معلوم ہے کہ تمہارے بھتیجے سے ہمارے مراسم کیسے ہیں۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ تم اُسے بلواؤ۔ ایک تحفہ تم ہم سے لو اُس کے لئے اور ایک تحفہ اُس سے لے کر ہمیں دو تاکہ وہ اپنی جگہ خوش رہے، ہم اپنی جگہ خوش۔‘‘

ابو طالب نے کسی کو کہا کہ وہ محمدﷺ کو بلا لائے۔ جو ساتھ ہی کے کمرے میں تھے وہ آ گئے اور چچا کے پلنگ کے ساتھ کھڑے ہو گئے، یوں کہ پلنگ کے اک طرف وہ تھے اور دوسری طرف اُن کے سامنے سردارانِ قریش۔

ابو طالب نے نہایت نقاہت بھری آواز میں کہا:

’’قریش کے سردار تمہیں کچھ دینے اور تم سے کچھ لینے آئے ہیں۔‘‘

رسولِ کریمؐ نے کہا ’’ضرور۔ یہ لوگ صرف ایک لفظ کہہ دیں جس کے بعد عرب و عجم دونوں ان کے زیرِنگیں ہوں گے‘‘۔

ابوجہل بولا ’’یہ بات ہے تو ہم دس لفظ کہے دیتے ہیں۔ بتاؤ کیا کہنا ہے‘‘۔

حضورؐ نے فرمایا:

’’صرف اتنا کہ اللہ ایک ہے اور اُس کا کوئی شریک نہیں‘‘۔

ابو سفیان نے کہا:

’’محمد عقل سے کام لو۔ اتنے سارے خداؤں کا ایک خدا بناتے رہتے ہو۔‘‘

اللہ کے رسولؐ کے لئے بُت پرستی سے مصالحت ممکن نہ تھی۔ کم و بیش یہی صورتِ حال مخالفینِ اسلام کی تھی۔ وہ بھی اپنے خداؤں کے خلاف کچھ سننے کو تیار نہ تھے۔ محمدؐ نے جیسے ہی دوبارہ بات شروع کی، سب نے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں اور بڑبڑاتے ہوئے رخصت ہو گئے۔

اسی دوران ابو طالب نے دم دے دیا اور وہ اپنے دل پر اس آخری کوشش کی ناکامی کا داغ لے کر اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔(جاری ہے )

حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر31 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

موضوعات

تبصرے کیجئے

Click here to post a comment

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.