حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر29

مسلمانوں سے اُس کا بیر بھی، جو اُس کی پہچان بن چکا تھا، محض اس لئے نہیں تھا کہ وہ اُس کے خداؤں کو جھٹلاتے تھے بلکہ اس لئے کہ داعئ اسلام، محمدﷺ خاندانِ عبد مناف کے فرد تھے۔ ولید کی جانشینی کے معاملے میں عبد مناف کا خاندان ابوجہل کا حریف تھا۔ فیصلہ ان ہی دونوں میں ہونا تھا۔ ابوجہل نے اس ضمن میں بھرپور کوشش کر رکھی تھی اور عبد مناف کے اُمیدواروں کے مقابلے میں دعوتوں اور مہمان نوازیوں کی وجہ سے اُس کی ساکھ خاصی حد تک بہتر تھی مگر محمدﷺ کے دعویٰ رسالت کے بعد تو اُس کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ وہ سوچنے لگا کہ اگر محمدﷺ کی روحانی پیشوائی کو قبولِ عام حاصل ہو گیا تو اُس کی ساری عمر کی محنت اکارت جائے گی۔

عبدمناف کے اُمیدواروں کے مقابلے میں وہ زیادہ خرچ کر سکتا تھا، زیادہ دعوتیں کر سکتا تھا، لوگوں سے مل جل کر اپنے بارے میں اُن کی رائے ہموار کر سکتا تھا بلکہ وہ یہ سب کچھ کر بھی چکا تھا مگر پیغمبری کے مقابلے میں وہ بالکل بے بس تھا۔ اس کا اُس کے پاس کوئی توڑ نہیں تھا۔ چنانچہ اس نے یہ تہیہ کر لیا کہ جان رہے یا جائے محمدﷺ کے دین کو کامیاب نہیں ہونے دینا۔ ہمارے دین کی بیخ کنی کے لئے اُس نے سر دھڑکی بازی لگا دی تھی اور وہ ہمارے خلاف ہر ظلم، ہر سازش کی جڑ تھا۔ سارا دن مکے کے مختلف چھوٹے بڑے حلقوں میں اسلام کی برائیاں کرتا پھرتا تھا۔ عوام کو بھڑکاتا تھا، خواص کو اُکساتا تھا اور رسول کریمﷺ کی کردار کشی میں گھٹیا سے گھٹیا حرکت سے بھی دریغ نہیں کرتا تھا۔

حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر28 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

داع اسلام کی مخالفت اب اس کی زندگی کا واحد مقصد بن چکی تھی کیونکہ اسلام اُس کے مقصدِ اولین یعنی ولید کی جانشینی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنتا جا رہا تھا۔ وہ علی الاعلان کہنے لگا تھا کہ میں مکے کی اینٹ سے اینٹ بجادوں گا مگر محمدﷺ کی تحریک کو آگے نہیں بڑھنے دوں گا۔

مکے کے بیشتر تاجر اور سردار اُس کے حلقہ اثر میں تھے اور جہاں کہیں وہ دیکھتا کہ کسی نے محمدؐ کی یا محمدؐ کے دین کی حمایت میں کچھ کیا ہے، یا کچھ کہا ہے یا کچھ کہنے کرنے کا ارادہ کر رہا ہے تو وہ اپنی پوری طاقت سے اُن اثرات کو کچلنے کی کوشش کرتا تھا۔ وہ کائنات کا پہلا شخص تھا جس نے کسی مسلمان کے خون سے ہاتھ رنگے۔

سُمیّہؓ کے قتل سے لے کر جنگِ بدر تک، جہاں وہ لقمۂ اجل بنا، مسلمانوں کے خلاف جو جو کچھ ہوا اُس میں ابوجہل کا ہاتھ تھا بلکہ جو کچھ ہوا اس میں سے بیشتر اُسی کی وجہ سے ہوا، خاص طور پر حضوراکرمﷺ کی ذات کے خلاف جتنی کریہہ حرکتیں ہوئیں۔ خانہء کعبہ کی حدود میں اُن پر بہتان تراشی، گلیوں میں اُن کی راہ میں کانٹے بچھوانا، اُن پر کوڑا کرکٹ پھنکوانا، سرِعام اُن کی تذلیل کی کوششیں، گالی گلوچ، طعنہ بازی، مذاق، پھبتیاں، اُن میں سے اکثر کا ذمہ دار ابوجہل تھا۔

جس مذموم حرکت میں وہ خود شریک نہیں ہوتا تھا، اُس کے چیلے چانٹے اُس کی کمی پوری کر دیتے تھے۔ مخالف اور بھی تھے مگر کوئی اس حد تک گرا ہوا نہیں تھا۔ ویسے تو ابولہب اور اُس کی بیوی بھی اسلام دشمنی اور عداوتِ محمدؐ میں حد سے گزرے ہوئے تھے مگر شدت کے باوجود ابوجہل کے مقابلے میں اُن کا دائرہۂ کار اتنا وسیع نہیں تھا۔ رہا ابوسفیان تو اُس نے دشمنانِ اسلام کی قیادت ابوجہل کے بعد سنبھالی مگر ابوسفیان میں عربوں کی بہت سی قبائلی رواداریاں بھی تھیں۔ شائستگی، تحمل اور مثبت سوچ کے انداز بھی تھے جو بعد میں اُس کی بخشش کا سامان بنے۔

پہلی ہجرتِ حبشہ کے موقع پر ابوجہل ہی تھا جس نے قریش کے سرداروں سے سازباز کر کے مہاجروں کو گرفتار یا قتل کرنے کے لئے گھڑ سواروں کا ایک دستہ بھجوایا تھا۔ یہی تھا جس نے عمرو بن العاص کو تحفے تحائف دے کر شاہِ حبشہ کے پاس بھیجا تھا تاکہ مسلمان مہاجرین حبشہ سے پابہ زنجیر مکہ لائے جا سکیں۔ جب اُس کا یہ حربہ ناکام ہوا تو اُس نے بنوہاشم کے معاشرتی مقاطعے کا منصوبہ تیار کیا۔ بہت سے قریش سردار اس انتہائی اقدام کے حق میں نہیں تھے مگر ابوجہل نے اپنے مؤقف کی اتنی پُرزور وکالت کی کہ مخالفت کے باوجود یہ معاہدہ طے پا گیا۔

دو سال بعد جب اس مقاطعے کو ختم کرنے پر تقریباً سبھی رضامند تھے، ابوجہل برابر اس کی حمایت کرتا رہا مگر اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ جب معاہدے کا مسودہ جو خانہء کعبہ میں رکھا تھا، منگوایا گیا تو اُسے دیمک چاٹ چکی تھی۔ صرف پہلی سطر باقی تھی اور وہ تھی ’’اے اللہ! تیرے نام پر‘‘، ۔ رہے نام اللہ کا!

اُس وقت جب رسول اللہؐ خاندانِ نوفل کے سردار مطعم ابن عدی کی سرپرستی میں مکے میں رہ رہے تھے، ابوجہل اندر ہی اندر سازشوں میں لگا ہوا تھا مگر بے بس تھا۔ اُس میں اتنی اخلاقی جرأت نہیں تھی کہ وہ خاندانِ نوفل سے مخالفت لیتا لیکن مطعم کے وفات پاتے ہی اُس نے نبی کریمؐ کے قتل کا منصوبہ بنایا۔ خاص طور پر قریش سرداروں کا اجتماع کیا جس میں ابولہب جان بوجھ کر شریک نہیں ہوا تھا۔ اس منصوبے پر سب سردار راضی نہیں تھے لیکن ابوجہل نے جو دامے، درمے، قدمے، سخنے اسلام اور اہلِ اسلام کو تباہ کرنے پر تلا ہوا تھا، ایک بار پھر سب کو رضامند کر لیا۔ یہ اور بات کہ اللہ تعالیٰ کو کچھ اور منظور تھا۔

یہ ابوجہل ہی تھا جس نے حضورؐ کی مکے سے ہجرت کے بعد اعلان کروایا تھا کہ جو محمدﷺ کا سر لے کر آئے گا اُسے وہ ایک سو سُرخ اونٹ یا ایک ہزار اوقیہ چاندی انعام دے گا۔ حضرت عمرؓ جو اس کے بھانجے تھے، اُسی کے بھڑکا نے پر تلوار میان سے نکال کر حضورﷺ کو قتل کرنے نکلے تھے۔

جنگ بدر کے موقعے پر بھی جب خاندانِ اسد کے حکیم بن حزامؓ نے جو ابھی اسلام نہیں لائے تھے، عتبہ کو جنگ نہ کرنے کا مشورہ دیا تھا اور عتبہ کچھ حد تک رضامند بھی ہو گیا تھا یہ ابوجہل ہی تھا جس نے سب کو ازسر نو بھڑکایا تھا اور جنگ پر اصرار کیا تھا۔ عتبہ کو اُس نے بزدلی کے طعنے دئیے تھے۔ یہ بھی کہا تھا کہ عتبہ جنگ سے اس لئے بھاگنا چاہتا ہے کہ اُس کا بیٹا ابوحذیفہؓ مسلمانوں کی طرف سے صف آرا ہے۔ ابوجہل کو کیا خبر تھی کہ اس جنگ میں خود اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ جنگ کی شہ دینے کے باوجود جہاں نبرد آزمائی کے لئے عتبہ، شیبہ اور ولید صفوں سے نکل کر باہر آئے، ابوجہل نے ایسی کسی شخصی شجاعت کا مظاہرہ نہیں کیا۔

مجھ ضعیف آدمی سے اگر کوئی کہے کہ ابوجہل کی شخصیت کا چار الفاظ میں احاطہ کرو تو میں کہوں گا۔ تکبرّ، سازش، خود غرضی اور شقاوت۔ اُس کی فکر میں شر تھا، اُس کی زبان میں زہر بھرا تھا، اس کے لہجے میں کمینگی تھی، اُس کے طنز سے آگ برستی تھی، بات کرتا تھا تو لگتا تھا تیزاب کے چھینٹے اُڑ رہے ہیں۔(جاری ہے )

حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر30 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

موضوعات

تبصرے کیجئے

Click here to post a comment

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.