حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر24

عمرو ہر قیمت پر یہ ملاقات رکوانا چاہتا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ نجاشی کے اہل مکہ سے تجارتی اور سیاسی تعلقات ضرور تھے لیکن دل ہی دل میں وہ انہیں کُفّار اور بُت پرستوں کے زمرے میں سمجھتا تھا۔ وہ ایک خدا کو ماننے والا تھا، کہیں ایسا نہ ہو کہ مسلمانوں کے تصورِ وحدانیت کی وجہ سے اُسے اُن سے ہمدردی پیدا ہو جائے۔

آج عمرو بن العاص کو ہم فاتحِ مصر کے لقب سے جانتے ہیں، اور اُن کے نام کے ساتھ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی کہتے ہیں۔ اُن دنوں میں وہ ایک ہوشیار، چرب زبان نوجوان تھا اور شاید یہی ضرورت سے زیادہ ہوشیاری اور چرب زبانی تھی جس کی وجہ سے وہ اپنے ارادے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ اُس کی چالاکی اُس کے گلے کا ہار نہ بن جاتی تو سارے کے سارے مسلمان زنجیروں میں جکڑے مکے کے راستے پر ہوتے اور وہ خود دوزخ کا کندہ بنا ہوتا۔ ربِّ کریم نے عمرو کو ناکام بنا کر اُس پر بڑی رحمت فرمائی۔

مہاجرین دربار میں داخل ہوئے تو پہلی ہی نظر میں وہ نجاشی کو اچھے لگے۔ اُن کے لباس کی سادگی، آداب کی شائستگی، چہروں پر نور، بردباری دیکھ کر پاکیزگی اور تقدس کا احساس ہوتا تھا۔ اُن کے مقابلے میں عمرو کا انداز نجاشی کو کرخت، غیر مہذب بلکہ چھچھورا معلوم ہوا۔ عیسائی علماء کا بھی مسلمانوں کے بارے میں پہلا ردِّعمل یہی تھا۔ انہیں وہ اپنے جیسے لگے۔ صاحبِ ایمان اور تمام اہلِ قریش سے مختلف جن سے وقتاً فوقتاً اُن کا سابقہ پڑتا رہتا تھا۔ وہ سب اپنی اپنی جگہ کھڑے ہو گئے تو نجاشی نے عمرو کو اشارہ کیا کہ وہ پنے نکتہء نظر کی وضاحت کرے۔

حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر23 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

عمرو بن العاص نے اپنے دلائل شروع کئے۔ اس کا بیان ختم ہوا تو نجاشی نے مسلمانوں سے سوال کیا کہ اس تقریر کے بعد کیوں نہ انہیں واپس مکے بھجوا دیا جائے۔ جعفرؓ کی اُس وقت وہ حالت تھی جو دانیال علیہ السلام کی تھی جب انہیں شیروں کے پنجرے میں ڈال دیا گیا تھا۔ وہ بات کرنے لگے تو پہلے اُن کی زبان لڑکھڑائی، پھر لفظ ٹوٹنے لگے۔ سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے ذرا آگے بڑھے تو ٹھوکر لگ گئی۔ یوں لگتا تھا کہ حالات اُن کا ساتھ نہیں دے رہے۔

ادھر عمرو تھا کہ ہر بات کی تردید کر رہا تھا۔ دلائل پر دلائل دئیے جا رہا تھا۔ غصے سے اُس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔ اُس نے جعفرؓ کو بھگوڑا اور غدار کہا۔ اُن پر الزام لگایا کہ انہوں نے نعوذ باللہ ایک جھوٹے نبی کا بہانہ تراش کے مکےّ کے سماجی نظام کو درہم برہم کر دیا ہے ۔ عیسائی مذہب سے واقفیت اور اپنے طنز و استہزا کی صلاحیت سے اُس نے سماں باندھ دیا۔ اس کے ہر دوسرے تیسرے فقرے پر دربار قہقہوں سے گونج اٹھتا تھا۔

ہوشیاری اور حماقت دونوں اللہ کی طرف سے ہوتی ہیں اور کبھی کبھی یہ دونوں باتیں ایک ہی انسان میں بھی مل جاتی ہیں۔ عمرو کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ اُس کی فتح ہی اُس کی شکست ثابت ہوئی مگر آج جادۂ تاریخ کے دوسرے سرے پر بیٹھے ہم کہہ سکتے ہیں کہ اُس کی شکست ہی اُس کی فتح ثابت ہوئی۔

ہوا یوں کہ جعفرؓ نے عیسیٰ علیہ السلام کا بیان شروع کیا۔ بالکل اُس انداز سے جیسے ہم مسلمانوں کی تعلیم ہے۔ انہوں نے کہا کہ عیسیٰ علیہ السلام نبیوں کے سلسلے کے ایک نبی تھے جو خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے تشریف لائے تھے۔ اُن کے پیروکار اُن سے بے حد محبت کرتے تھے۔ اتنی محبت کہ انہوں نے غلطی سے انہیں اپنا معبود بنا لیا اور اُن کی عبادت کرنے لگے۔

حبشہ میں بھی عیسیٰ علیہ السلام کے لئے دلوں میں اتنی محبت تھی کہ اُن کا نام آتے ہی نجاشی کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔ عمرو نے بھی یہ آنسو دیکھے لیکن اُن کو محض آنکھوں کی چمک سے تعبیر کیا۔ جعفرؓ نے مجھے بتایا کہ اُن کا بیان سنتے ہی عمرو نے اپنی عبا کو ایک جھٹکے سے درست کیا اور اس طرح قدم گاڑ کر کھڑا ہو گیا جیسے کوئی لکڑہارا کلہاڑی کے وار سے پہلے پینترا جماتا ہے۔ یہ موقع تھا عمرو کو اپنی آخری حجت پیش کرنے کا جو اُس نے نہایت حتمی اور فیصلہ کن انداز میں پیش کی:

’’یہ لوگ آپ کے پیغمبر کے بارے میں غلط بیانی سے کام لیتے ہیں۔ یہ کہتے ہیں کہ وہ دوسرے پیغمبروں کی طرح کے ایک پیغمبر تھے۔ یہ لوگ انہیں خدا کا بیٹا بھی تسلیم نہیں کرتے۔ آپ نے خود سنا ہے کہ یہ اُن کی معبودیت سے منکر ہیں اور یہ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ شہید نہیں ہوئے تھے۔‘‘

کتنی مہارت رکھتا تھا بتوں کا یہ پجاری! کتنا عبور تھا اُسے دونوں مذاہب کے عقائد پر اور کتنی چابک دستی سے اُس نے عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اختلافات اور تضادات کو سامنے لاکھڑا کیا اور انہیں ہوا دے کر فائدہ اُٹھانے کی کوشش کی۔ بادشاہ نے جعفرؓ کی طرف دیکھا اور کہا:

’’بتاؤ، حضرت عیسیٰ کی پیدائش کے بارے میں تمہارا کیا عقیدہ ہے؟‘‘

یہ کہتے ہوئے اُس نے ہاتھ کے اشارے سے محافظوں کو کہا کہ وہ جعفرؓ کو آگے لے آئیں لیکن جعفرؓ اشارہ دیکھتے ہی خود محافظوں کے درمیان سے نکل کر آگے آ گئے۔

’’قرآنِ حکیم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں جو تحریر ہے وہ میں پیش کر دیتا ہوں اس کے علاوہ مجھے کچھ علم نہیں‘‘۔

جعفرؓ نے جب بادشاہ کو ہمہ تن گوش دیکھا تو ان کی آواز مزید بلند ہوئی۔ اُن کی واحد امید یہ تھی کہ وہ حاکم وقت کو، اُس کے وزیروں، درباریوں کو، عمرو بن العاص کو، بادشاہ کے عالی شان تخت کے دونوں طرف پتھر کے بنے ہوئے چار دھاڑتے ہوئے شیروں کے مجسموں کو، سب کو سنائیں کہ اللہ تعالیٰ اس بارے میں کیا ارشاد فرماتا ہے۔(جاری ہے )ٌ

حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر25 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

موضوعات

تبصرے کیجئے

Click here to post a comment

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.