حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر23

ولید اور اس کے گھڑ سواروں نے صحرا کا راستہ لیا اور کچھ دور جانے کے بعد انہیں اُن کے قدموں کے نشان مل گئے بلکہ ایک میل تک تو وہ اُن کے متوازی چلتے رہے لیکن اللہ تعالیٰ کو یہ منظور نہیں تھا کہ اس کی راہ میں گھر بار چھوڑنے والے ایک سو نفوس موذیوں کے ہتھے چڑھ جائیں۔ ہوا یہ کہ دشمنوں کے گھوڑے تک اُن کی خوشبو نہ پا سکے اور جعفرؓ اپنے چھوٹے سے قافلے کو دشمنوں کی تلواروں اور گھوڑوں کے سُموں سے محفوظ حفاظت کے ساتھ صحرا سے نکال لے گئے۔ اسے اگر معجزہ کہنا چاہیں تو کہہ لیجئے۔ میں تو اتنا ہی کہوں گا کہ جعفرؓ صحرا کے چپے چپے سے واقف تھے۔ وہ صحرا کی ہر رمز جانتے تھے۔ اُس کی چندھیا دینے والی دھوپ کو، اُس کے چھوٹے بڑے، بنتے بگڑتے ریت کے ٹیلوں کو، ان ٹیلوں کے سایوں کو۔

جعفرؓ کا علم ہی اُن کا معجزہ تھا۔ اُن کے بارے میں مشہور تھا کہ صحرا میں جعفرؓ اپنے آپ کو اپنے سائے میں چھپا سکتے تھے۔ اس میں کلام نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جعفرؓ کو بڑی توفیق عطا کی تھی۔

حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر22 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

بالآخر ولید اور اُس کے تھکے ہارے گھڑ سوار بے نیل و مرام مکےّ واپس آ گئے۔ اُن کی آنکھیں سُوجی ہوئی تھیں اور سب اپنی ناکامی پر بے حد شرمسار تھے۔ اُن کی ناکامی سے ہماری ہمت بڑھی اور ہجرت کو ہم نے باقاعدہ اپنی حکمت عملی بنا لیا۔ دو دو چار چار کر کے قافلے صحراؤں کے نادیدہ راستوں پر چلتے چلتے حبشہ پہنچتے جاتے تھے، یہاں تک کہ ہمارے بہت سے ساتھی سمندر پار کر گئے۔ یہ الگ بات تھی کہ وہ حبشہ میں بھی بہت محفوظ نہیں تھے۔ ابوجہل برابر اُن کے خلاف منصوبے بنا رہا تھا۔ سردارانِ قریش کے ساتھ مباحثے کرتا تھا۔ انہیں اکساتا تھا، غیرت دلاتا تھا۔ ابوجہل اور اس کے حلیفوں کو ہماری چھوٹی چھوٹی کامیابیاں گھن کی طرح اندر ہی اندر سے کھائے جا رہی تھیں۔ ابوسفیان کا لہجہ اتنا دھیما پڑ گیا تھا کہ اُن دنوں اس کی گفتگو مشکل سے سنائی دیتی تھی لیکن جو کچھ سنائی دیتا تھا اس میں لفظوں کا وہی خوبصورت انتخاب، فقروں کی وہی چستی اور روزمرہ کا وہی دروبست ہوتا تھا جو اُس کی گفتگو کا خاصہ تھا۔ اُدھر ابوجہل تو غصے میں دیوانہ ہوا جا رہا تھا۔ اُس کے وقار کو دھچکا لگا تھا۔ مسلمانوں کی کامیاب ہجرتیں اُس کے لئے اَنا کا مسئلہ بن گئی تھیں۔ مسلمانوں کا اس طرح مکے سے فرار ہو کر کسی ہمسایہ ملک میں جابسنا اور وہاں کھلے بندوں دندناتے پھر نا مکے کی تجارتی ساکھ کے لئے بھی اچھا نہیں تھا۔ چنانچہ ابوجہل نے ایک بار پھر دارالندوہ میں قریش کے سرداروں کو بلوایا اور یہ فیصلہ کروایا کہ اگر مسلمان صحرا اور سمندر میں گرفت سے بچ نکلے ہیں تو انہیں حبشہ جا کر پکڑا جائے جہاں وہ شاہ نجاشی کی پشت پناہی میں چین سے بیٹھے ہیں۔

نجاشی کا دربار

سردارانِ قریش نے یہ منصوبہ بنایا کہ شاہ نجاشی کے پاس ایک سفارتی وفد بھیجا جائے جو مسلمانوں کو واپس لائے۔ اس وفد کی قیادت کے لئے انہوں نے قبیلہ سہم کے عمرو بن العاص کا انتخاب کیا کیونکہ وہ پہلے حبشہ ہو آیا تھا اور شاہ نجاشی اور اس کے چند جرنیلوں اور درباری عہدہ داروں سے اُس کے نجی مراسم تھے۔ چمڑے کی مصنوعات کی حبشہ میں بڑی پذیرائی تھی۔ چنانچہ یہ طے ہوا کہ عمرو رؤسائے مکہّ کی طرف سے نجاشی اور اس کے منصب داروں کے لئے چمڑے کے بیش بہا تحفے لے کر جائے۔ تمام شہر سے چمڑے کی بہترین مصنوعات خرید کر عمرو کے حوالے کی گئیں اور عمرو حبشہ روانہ ہو گیا۔

حبشہ پہنچتے ہی عمرو بن العاص نے ایک ایک کر کے سب منصب داروں سے ملاقات کی۔ ہر ایک کو بیش قیمت تحفے پیش کئے اور تحفہ دیتے وقت ہر ایک سے کہا:

’’ہمارے شہر کے چند نادان نوجوانوں نے یہاں حبشہ میں پناہ لے لی ہے۔ اُن میں مرد بھی ہیں عورتیں بھی ہیں۔ انہوں نے اپنا آبائی مذہب بھی چھوڑ دیا ہے، آپ لوگوں کا مذہب بھی اختیار نہیں کیا بلکہ اپنا ہی ایک الٹا سیدھا مذہب ایجاد کر لیا ہے جسے نہ آپ جانتے ہیں نہ ہم۔ مکے کے شرفا نے اس سلسلے میں مجھے آپ کے پاس بادشاہ سلامت سے یہ درخواست کرنے کے لئے بھیجا ہے کہ وہ انہیں واپس مکیّ بھجوا دیں۔ آپ سے میری اتنی التجا ہے کہ جب میں بادشاہ سلامت سے اُن کے بارے میں عرض کروں تو آپ بھی انہیں یہ مشورہ دیں کہ وہ انہیں ہمارے حوالے کر دیں اور اُن سے کوئی بات نہ کریں۔ ہم اُن کے عزیز ہیں۔ خود ہی انہیں سمجھا بجھا لیں گے۔‘‘

سب نے عمرو کی درخواست مان لی۔ اب عمرو، شاہ نجاشی کے تحائف لے کر دربار میں پہنچا۔ یہ تحائف منصب داروں کے تحائف سے کہیں زیادہ گراں قدر تھے۔ تحائف پیش کرنے کے بعد عمرو نے کچھ عرض گزارنے کی درخواست کی۔ اجازت ملنے پر اُس نے اپنا سلسلہء کلام شروع کیا۔ اسی انداز سے جیسے اُس نے جرنیلوں اور درباری منصب داروں سے بات کی تھی:

’’آپ کی سلطنت میں مکے سے آئے ہوئے مہاجرین کے قریبی عزیزوں نے، جو ہمارے شہر کے سربرآوردہ لوگ ہیں، آپ سے التجا کی ہے کہ حضور اُن کے عزیزوں کو اُن کے پاس واپس بھجوا دیں۔‘‘

سب منصب داروں نے یک زباں ہو کر نجاشی کو مشورہ دیا کہ عمرو کی درخواست مناسب ہے، منظور فرمائی جائے کیونکہ یہ مسئلہ مہاجروں اور اُن کے قریبی عزیزوں کے درمیان ہے اور اُن کے اعزّا ہی اس کی نزاکت کو سمجھ سکتے ہیں۔ بادشاہ نے اُن کا مشورہ پسند نہیں کیا اور کہا:

’’وہ ہماری پناہ میں ہیں۔ ہم نہیں چاہتے کہ اُن کے اعتماد کو ٹھیس پہنچے۔ اگر اُن کے خلاف کوئی الزامات ہیں تو ہم چاہیں گے کہ انہیں بلوایا جائے تاکہ وہ اُن کا جواب دے سکیں۔ اگر الزام درست ثابت ہوئے تو انہیں واپس بھیج دیا جائے گا۔ اگر نہیں تو انہیں اجازت ہو گی کہ وہ جب تک چاہیں ہماری پناہ میں رہیں‘‘۔

مسلمانوں کو دربار میں بلوانے کے احکامات دے دئیے گئے۔ مذہب کا معاملہ تھا اس لئے نجاشی نے اپنے بشپوں کو بھی بلوا لیا جو اپنی مذہبی کتابیں لے کر دربار میں پہنچ گئے۔(جاری ہے )

حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر24 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

موضوعات

تبصرے کیجئے

Click here to post a comment

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.