حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر16

پہلی وحی

یہ واقعہ جو میں بیان کر رہا ہوں، مصدّقہ بھی ہے اور ناقابل تردید بھی۔ مصدقہ یوں کہ اس کے راوی ہی صدیق ہیں، صدیق اکبر، ابوبکرؓ جنہوں نے اسے زیدؓ سے سُنا، زیدؓ نے علیؓ سے علیؓ نے خدیجہؓ سے اور خدیجہؓ نے خود اللہ کے رسولؐ سے جن کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا۔ ناقابلِ تردید یوں کہ قرآن شریف میں اس کا ذکر ہے۔ اس حوالے سے یہ ہمارا جزوِ ایمان ہے۔

جبل النور پر غارِ حرا میں محمدﷺ تنہا تھے کہ جبریل علیہ السلام نے حاضری دی اور کہا:

’’پڑھو‘‘

محمدؐ نے جواب دیا:

’’میں پڑھ نہیں سکتا‘‘۔

جبریل علیہ السلام نے زور دے کر کہا:

حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر 15 پڑھنےکیلئے یہاں کلک کریں

’’اپنے رب کا نام لے کر پڑھو جس نے عالم کو پیدا کیا، جس نے انسان کو خون کی پھٹکی سے بنایا اور جس نے انسان کو وہ علم دیا جس سے وہ پہلے ناواقف تھا‘‘۔

محمدؐ خاموش رہے تو اور زور دے کر کہا۔

’’پڑھو!‘‘

اس کے بعد بھی وہی کہا:

’’میں پڑھنا نہیں جانتا‘‘۔

ہر بار جب جبریلؑ اُنہیں کہتے کہ پڑھو اور محمدﷺ اپنی مجبوری بیان کرتے کہ وہ پڑھنا نہیں جانتے تو جبریلؑ اُن کے جسم کو اس زور سے بھینچتے کہ محمدﷺ کو اپنی قوتِ برداشت جواب دیتی محسوس ہوتی۔ تیسری مرتبہ بھی جب جبریلؑ نے یہی انداز اختیار کیا تو محمدﷺ سمجھے بس اب موت قریب ہے لیکن اس کے فوراً ہی بعد جبریلؑ نے اپنی گرفت ڈھیلی کر دی اور غار سے باہر چلے گئے۔ اُن کے جانے کے بعد محمدﷺ کو یوں لگا کہ کوئی تحریر یا پیغام اُن کے اندر ثبت ہو گیا ہے۔ پیغام کیا تھا، اس کا انہیں ابھی علم نہیں تھا مگر وہ اس کا وزن محسوس کر رہے تھے۔

یہ سب کچھ اتنا غیر متوقع، اتنا عجیب و غریب، اتنا اچانک ہوا تھا کہ محمدﷺ کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ کلامِ الٰہی کی جلالت و تمکنت سے وہ لرزہ بر اندام تھے اور اس واقعے کے ایک ایک پہلو پر غور کر کے اُسے دائرۂ فہم میں لانے کی کوشش کر رہے تھے مگر گُتھّی تھی کہ کسی طرح سلجھنے میں نہیں آتی تھی۔ مکے میں وہ حسنِ اخلاق کا اعلیٰ ترین نمونہ تسلیم کئے جاتے تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی کے چالیس سال اس متانت، سنجیدگی اور شائستگی سے گزارے تھے کہ کسی سے تلخ کلامی تک کی نوبت نہیں آئی تھی چہ جائیکہ کسی کا اس سختی سے اُنہیں بھینچنا۔ یہ تجربہ اُن کے لئے قطعی ناقابلِ توجیہہ تھا اور کلامِ الٰہی کی سطوتِ نزول کے تناظر میں، جو خود اپنی جگہ ایک معمہ بنا ہوا تھا، یہ نامانوس سلوک انہیں ناروا معلوم ہوا۔

سوچ کی ایک لہر یہ بھی اٹھتی تھی کہ یہ عقدہ جتنا حیرت انگیز اور ناقابلِ فہم تھا ہو سکتا ہے اس کا حل بھی اتنا ہی اَنہونا اور خلافِ معمول ہو۔ ہو سکتا ہے کہ اس میں تشویش کی کوئی بات ہی نہ ہو بلکہ سب کچھ بظاہر جتنا پریشان کن اور تکلیف دہ محسوس ہو رہا ہے، اتنا ہی خوش آئند اور نیک انجام ہو۔

پھر بھی اس مُحیّر العقل تجربے کے انجانے مضمرات سے اُن کا سارا بدن لرزاں تھا۔ اسی کیفیت میں وہ لرزتے، کانپتے غارِ حرا سے باہر آئے اور حیرت کے عالم میں آہستہ آہستہ کوہِ حرا کی بلندی پر اُس سمت میں چڑھنا شروع کر دیا جدھر سے نیچے اُترنے کا راستہ تھا۔ ابھی نصف راستہ بھی طے نہیں ہوا تھا کہ جبریلؑ اُنہیں دوبارہ نظر آئے۔ اس بار وہ انسانی شکل میں تھے اور اُفق پر کھڑے تھے۔ محمدﷺ جس سمت بھی رُخ کرتے، شمال، جنوب، مشرق، مغرب انہیں موجود پاتے۔ پھر ایک بار انہیں اُن کی آواز سنائی دی۔

’’محمدﷺ! تم اللہ کے رسول ہو اور میں جبریل ہوں۔‘‘

حیرت اور پریشانی کے اسی عالم میں وہ تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے اپنے گھر کی طرف روانہ ہو گئے۔ سارا بدن کانپ رہا تھا۔ گھر پہنچتے ہی بستر پر لیٹ گئے! اور کئی کمبل اپنے اوپر اوڑھ لئے۔ سر منہ سب ڈھانپ لیا۔ اللہ تعالیٰ نے اسی موقعے کی مناسبت سے اُنہیں مُدّثّر کہہ کر پکارا تھا۔ مُدّثّر یعنی چھپنے والا، اپنے آپ کو ڈھانپنے والا۔ ربِّ ذوالجلال والاکرام کو تو علم تھا کہ اُس نے کیا کہا ہے اور کیوں کہا ہے۔ اس کا پیغام پہنچنے پر محمدﷺ کی جو حالت ہوئی تھی اور اس محیر العقول روحانی تجربے کے بعد وہ جس کیفیت سے دو چار تھے، وہ بھی اللہ جل شانہ، کے علم میں تھا۔ لیکن یہ سب کچھ ایک خیرِعظیم کی خاطر ہو رہا تھا اور ناگزیر تھا۔ اُدھر محمدﷺ کے دل کا یہ حال تھا کہ اس واقعے کے تقریباً ایک گھنٹے بعد بھی وہ اپنے آپ کو کمبلوں میں سمیٹے اس کے رموز و نکات، اس کی توجیہ اور توضیح میں مصروف مجسم سوال بنے ہوئے تھے۔ یہ رُویت واقعی منجانب اللہ تھی یا شیطان نے انہیں دھوکا دیا تھا۔ ایسا تو نہیں کہ فی الواقع کچھ بھی نہ ہو اور اُن کے ذہن نے ازخود کچھ ہیولے کھڑے کر دئیے ہوں۔یہ تو وہ جانتے تھے کہ وہ محض انسان ہیں۔ بدن کی کپکپی تھی کہ ختم ہونے میں نہیں آ رہی تھی۔ انہوں نے کچھ اور کمبل اوڑھ لئے۔ اتنے میں خدیجہؓ آگئیں۔ تو انہوں نے انہیں شروع سے آخر تک سارا واقعہ تفصیل سے سنایا۔

ایسے بھی لوگ ہیں جنہیں واقعات میں رنگ آمیزی کا شوق ہوتا ہے۔ انہوں نے اس واقعے سے بھی بہت سی کہانیاں منسوب کر رکھی ہیں۔ مگر اس قسم کی خوش کن رنگ آمیزیاں خانہ بدوشوں کے الاؤ کے گرد ہی سجتی ہیں، تاریخ کے اوراق کو زیب نہیں دیتیں۔ میں تو وہی کہوں گا جو میں جانتا ہوں۔ ربِ کریم نے خدیجہؓ کو بڑی بصیرت سے نوازا تھا۔ انہوں نے اپنے خاوند کو تسلی دی، اُن کا خوف ختم کرنے کی کوشش کی، اُن کے خدشات دُور کرنے کے لئے دلائل دئیے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ انہوں نے ساری صورتِ حال کا ادراک کر لیا اور اس وقت جب حضور اکرمﷺ کو بھی یقین نہیں تھا کہ کیا ہوا ہے، کچھ ہوا بھی ہے یا نہیں، وہ اس واقعے کی صحت پر ایمان لے آئیں۔

اُن کے ایمان نے رسول اللہ ﷺکو حوصلہ دیا۔ خدیجہؓ نے اُن سے کہا کہ اگر اللہ تعالیٰ واقعی رحیم و کریم ہے اور اپنے بندوں کا خیال رکھنے والا ہے تو وہ ایک نیک اور سچے انسان کو کبھی کسی عذاب میں مبتلا نہیں کرے گا۔ وہ ساری رات حضورﷺکے ساتھ جاگتی رہیں اور لمحے لمحے بعد اُن کو جبریلِ امینؑ کے الفاظ دہرا دہرا کر باور کراتی رہیں کہ محمدﷺ آپ واقعی اللہ کے رسول ہیں۔

اُس رات کو لیلۃ القدر کہتے ہیں، قوت و جبروت کی رات، عظمت و جلالت کی رات۔ اُس رات اللہ غفور الرحیم نے انسان کو روشنی عطا کی اور اس پر اپنی رحمتوں کا نزول فرمایا۔ اس رات اس نے جبریلؑ کو کرۂ ارض پر بھیجا، اُس رات اُس نے اپنے رسولﷺ کو اپنا پہلا پیغام پہنچایا۔ وہ رات حضرت خدیجہؓ کے ایمان لانے کی رات تھی۔ اسی مناسبت سے اس عظیم و برگزیدہ خاتون کو ام المومنین کا لقب عطا ہوا۔ بعد میں دیگر ازواجِ مطہرات نے بھی یہی لقب پایا۔(جاری ہے )

حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر 17 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

موضوعات

تبصرے کیجئے

Click here to post a comment

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.