حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر11

محمدﷺ کا مِلاً بشریت کے دائرے میں زندگی گزارتے تھے۔ اُن کی ولادت بھی دائرہِ بشریت میں ہوئی، اُن کی وفات بھی۔ یہ بات اپنی جگہ مسلم ہے کہ اللہ نے اُن کو وہ کچھ مرحمت کیا جو پہلے کسی نبی کے حصے میں نہیں آیا۔ اللہ نے انہیں قرآنِ حکیم عطا کیا اور یہی کلام الٰہی جو ہمیں اُن کی وساطت سے ملا، سب سے بڑا معجزہ ہے۔

چلتے چلت انہوں نے دھیمی آواز میں کہا:

’’بلال! تم اللہ کو کس کس طرح جانتے ہو؟‘‘

’’میرا دل اللہ کی شہادت دیتا ہے‘‘۔

وہ میرے جواب سے مطمئن نہیں ہوئے۔ چند قدم اور چلے تو میں نے مزید کہا:

’’میں اللہ کو جانتا ہوں، لیکن پھر بھی نہیں جانتا، کیا اللہ تلاش سے مل سکتا ہے؟‘‘

وہ خاموش قدم بڑھاتے رہے۔ میں اُن سے ذرا پیچھے تھا۔ شاید انہوں نے میرا سوال نہیں سنا تھا۔ پھر وہ رکے اور اپنے سارے جسم کے ساتھ نہایت دلکش انداز میں مڑتے ہوئے، بہت اپنائیت اور تعلق کے لہجے میں مجھ سے مخاطب ہوئے:

’’ہاں بلال۔ تلاش سے۔ اُسکی عبادت کرنے سے۔ اس کی حمد و توصیف کرنے سے اور اس کے بندوں کے ساتھ ہمدردی کرنے سے اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے قریب ہو جاتا ہے لیکن ہمیشہ یاد رکھنا! بندہ اللہ کو نہیں پاتا۔ اللہ تعالیٰ خود بندے کو تلاش کرتا ہے۔ ایمان بندے کی اپنی صفت نہیں، اللہ کا عطیہ ہے۔‘‘

اُن کے چہرے پر عجیب استقامت اور طمانیت تھی۔ لہجے میں یقین کی قوت جھلکتی تھی:

’’میں اللہ کا پیغمبر ہوں اور مجھے علم ہے کہ اللہ تک رسائی کا راستہ اسلام ہے۔‘‘

اُس یادگار دن میں ’اسلام‘ کا لفظ میں نے دوسری مرتبہ سنا تھا مگر ابھی تک اس لفظ کا اصل مفہوم مجھ پر واضح نہیں تھا۔ ویسے ہر بار سننے کے بعد اس لفظ کے معنی میں وسعت پیدا ہوتی جاتی تھی۔ انہوں نے میری بے علمی اور کم مائیگی کو محسوس کیا اور میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمانے لگے:

’’اسلام کا مطلب ہے اپنے آپ کو اللہ لاشریک کی مرضی کے تابع کر لینا۔ اسلام کا مطلب ہے سب انسانوں کے ساتھ نیک سلوک کرنا خواہ وہ کسی رنگ، کسی نسل، کسی منصب کے ہوں۔ اسلام نوعِ انسان کی مساوات کا پیغام ہے۔ اسلام انسان کے لئے اللہ تعالیٰ کا منتخب کیا ہوا دین ہے۔‘‘

انہوں نے میرے کندھے سے ہاتھ اٹھا لیا اور شرمیلے سے انداز سے منہ پھیر لیا۔ شاید انہیں خیال آیا ہو کہ انہوں نے ایک کندۂ ناتراش سے بہت کچھ، بہت جلدی کہہ دیا۔

’’سب کچھ اللہ کی طرف سے ہے۔‘‘

انہوں نے دبی زبان میں کہا، جیسے اپنے آپ سے مخاطب ہوں۔

یہ تھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے میری پہلی ملاقات اور اس طرح میرے اسلام کی ابتدا ہوئی۔

آزادی کی تعلیم

میرے حالات واقعی بدل گئے تھے۔ اب میں ایسے گھر میں رہتا تھا جہاں غلام خانے نہیں تھے اور نہ ڈرے سہمے چہرے دیکھنے میں آتے تھے۔ یہ ابوبکرؓ کا گھر تھا لیکن ابوبکرؓ اپنے مہمانوں کے لیے میزبان کم اور خادم زیادہ تھے۔ صبح سویرے اُن کا پہلا کام یہ ہوتا تھا کہ وہ اپنی تین بکریوں کا دودھ دوتے ہیں۔نہیں، بلکہ اس سے بھی پہلے وہ نماز پڑھتے تھے۔ رسولِ پاکﷺ کے تمام اصحاب کو محبت اور شفقت کی خاص تعلیم تھی مگر ان سب میں ابوبکرؓ سب سے زیادہ شفیق و خلیق تھے۔ اُن کے مزاج میں بے حد دھیما پن تھا۔ بہت حلیم الطبع، نہایت بھلے مانس انسان تھے، یہی نہیں وہ بہادری اور شجاعت کے ہر امتحان میں بھی پورے اترے۔
محرم میں ایس اوپیز پر عملدرآمد نہ کرنے کی صورت میں کورونا وبا دوبارہ پھیل سکتی ہے،این سی او سی نے انتباہ جاری کردیا

گھر کا ادنیٰ سے ادنیٰ کام بھی اپنے ہاتھ سے کرتے تھے۔ تاریخ بھی اُن کا مزاج نہ بدل سکی۔ رسولِ پاکﷺ کے وصال کے بعد جب وہ اُن کے خلیفہ ہوئے تو اُس وقت تقریباً نصف دنیا اُن کے زیرنگیں تھی اور اُن کی فوجوں کی ہیبت سے دنیا کی عظیم سلطنتوں کے ایوانوں میں لرزہ تھا۔ وہ اپنے گھر کی دہلیز پر بیٹھے اپنے ہاتھوں سے اپنے جوتے مرمت کرتے دیکھے گئے۔

میں نے ابوبکرؓ کو آتے دیکھا تو ایک مرتبہ پھر اُن ا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے مجھے خرید کر آزاد کیا۔ میری بات ختم بھی نہیں ہوئی تھی کہ الٹا انہوں نے میرا شکریہ ادا کرنا شروع کر دیا، گویا میرا ہی اُن پر احسان تھا اور گویا وہ رقم بھی میں نے ہی دی تھی جس سے مجھے خریدا گیا تھا۔ ابوبکرؓ کہنے لگے:
قومی سلامتی کی سیاست

’’رسول اللہؐ فرماتے ہیں کہ غلاموں کو آزاد کرنے سے اللہ تعالیٰ خوش ہوتا ہے۔‘‘

یہ بات انہوں نے شرماتے کہی بلکہ یہ کہتے ہوئے ان کی زبان ایک آدھ بار لڑکھڑائی بھی۔ شاید اس لئے کہ اپنی ایمان داری سے مجبور ہو کر وہ میر ے سامنے اعتراف کر رہے تھے کہ انہوں نے مجھے اپنے ثواب کی غرض سے آزاد کرایا ہے لیکن نیک کاموں کے پس منظر میں اس قسم کی روحانی خود غرضی تو ہر دین کا حصہ ہے۔ وہ کہنے لگے:

’’بلال اب تمہیں نئے کام کرنے ہوں گے اور شاید اتنے سخت کہ اب سے پہلے کبھی نہ کئے ہوں‘‘۔

میرے منہ سے معاً نکلا:

’’جو حکم آقا!‘‘

میرے جواب سے انہیں بہت دکھ پہنچا۔ مجھے بھی فوری طور پر احساس ہوا کہ یہ الفاظ کہہ کر میں دوبارہ اپنے ماضی کی ظلمت میں داخل ہو گیا اور اب اتنی تاریکی میں ہوں کہ پتہ نہیں انہیں نظر بھی آ رہا ہوں یا نہیں۔ میں نے یہ تین نامناسب الفاظ ہی نہیں کہے تھے بلکہ انہیں کہتے ہوئے میں نے غلاموں کے مخصوص انداز میں اپنا سر بھی نیہوڑا لیا تھا۔(جاری ہے )

حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر12 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

موضوعات

تبصرے کیجئے

Click here to post a comment

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.