حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر10

محمدﷺنے میرا بازو پکڑا اور مجھے اپنے ساتھ چٹائی پر بیٹھنے کے لئے کہا۔ اس بات پر میں چونک گیا۔ کہاں میں کہاں وہ عالی نسب!میں آج تک قریش کے کسی فرد کے سامنے نہیں بیٹھا تھا۔ میرا منصب یہ تھا کہ میں اُن کے روبرو جاؤں تو ایستادہ رہوں۔ ایک ہی چٹائی پر اُن کے ساتھ بیٹھنے کا تو میں تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ میں انتہائی تذبذب کے عالم میں تھا کہ محمدﷺ نے اپنے مخصوص مشفقانہ انداز میں میری مدد فرمائی۔

’’دیکھو بلال! اگر تم بیٹھو گے نہیں تو علی ہم کو اپنے کھیل نہیں دکھائے گا۔‘‘

میں بیٹھ گیا۔ زندگی میں پہلی مرتبہ اہلِ منصب کے پہلو میں، ایک ہی چٹائی پر اور یہیں سے میری بائیس سال پر محیط شب و روز کا یہ ساتھ حضورﷺ کی زندگی کے آخری لمحے تک رہا۔ اس تمام عرصے میں، میں اُن کے ساتھ بیٹھا، ان کے ساتھ چلا، اُن کے ساتھ سفر کئے۔

مدینہ منورہ میں انہیں صبح نماز کے لئے بیدار کرنے کی سعادت بھی میرے مقدر میں آئی۔ صبح جب میں اذان کے لئے جاتا تو پہلے اُن کو بیدار کرتا۔ اُن کے حجرے کے دروازیپر ہلکے سے دستک دیتا اور کہتا’’ یا رسول اللہ نماز کا وقت ہو گیا ہے‘‘ ہاں میں صحابی رسولﷺ تھا اور یہ وہ مرتبہ ہے جس پر شاہانِ عالم رشک کرتے ہیں۔ اُس دن جب میں اُن کے ساتھ چٹائی پر بیٹھا تو بیٹھا کیا، عرش کی بلندیوں تک اُٹھ گیا۔ جب علی اپنے کھیل دکھا رہے تھے تو سارا گھر خوشیوں سے معمور ہو گیا تھا۔ وہ پھلانگتے تھے، کودتے تھے، قلابازیاں لگاتے تھے، الٹی سیدھی، اور پھر ہوا میں اچھلتے تو حضورﷺ اُنکو ہوا ہی میں پکڑ کر، اپنے بازوؤں میں لے لیتے۔ بچوں کو اُن سے بڑا پیار تھا۔ وہ اُن کی طرف کھنچے چلے آتے تھے۔ ایسا لگتاتھا کہ اُن کے اندر کوئی کشش ہے جسے صرف بچے ہی دیکھ سکتے تھے۔ وہ لوگوں سے اُن کی عمر اور مزاج کی مناسبت سے گفتگو کرتے تھے۔ بچوں سے بچوں کی باتیں، بچوں کے لطیفے، بچوں کے مذاق اور بڑوں سے بڑوں کی دلچسپی کی باتیں۔

ایک دن مدینے میں نماز پڑھنے تشریف لائے تو شانوں پر ایک چھوٹی سی بچی کو سوار کرایا ہوا تھا۔ یہ بچی ایک ننھے فرشتے کی طرح مسجد میں سب سے اونچی نظر آ رہی تھی اور اپنی معصومیت میں حضورﷺ کے بال کھینچنے کی گستاخی بھی کر رہی تھی۔ اُسے بہت دیر تک شانوں پر بٹھائے رکھا۔ اتارا اُس وقت جب نماز کے لئے کھڑے ہوئے۔ اور نماز ختم کرتے ہی پھر اُسے اٹھا لیا۔ اُس بچی کا نام امامہؓ تھا۔ یہ حضورؐ کی نواسی اور خدیجہؓ کی ہمشیرہ ہالہؓ کی پوتی تھیں، ابو العاصؓ اور زینبؓ کی دختر۔

نبی کریمﷺ کا ذکر چھیڑتا ہوں تو بات کہیں سے کہیں جا نکلتی ہے۔ بے شمار واقعات ذہن میں اُبھرنے لگتے ہیں۔ کس کو چھوڑوں، کس کو بیان کروں، کہاں سے ابتدا کروں، کہاں انتہا۔ اُن کی یادوں، اُن کی باتوں نے میری زندگی کے آخری دنوں کے ایک ایک لمحے کو حسن سے بھر رکھا ہے۔ چاروں طرف نور ہی نور پھیلا محسس ہوتا ہے اور نور کے اس دائرے میں، میں ایک سیاہ نکتہ۔ کتنی رحمت ہے مجھ پر اللہ تعالیٰ کی!

علیؓ کے کھیل ابھی جاری تھے کہ باقی افرادِ خاندان بھی وہاں آ گئے۔ خدیجہؓ ، سرور کائناتؐ کی چاروں دختران زینبؓ، رقیہؓ، کلثومؓ، فاطمہؓ۔ یہ اپنا ایک الگ حلقہ بنا کر بیٹھ گئیں۔ سب نے مجھے نہایت اپنائیت کی نظر سے دیکھا۔ فاطمہؓ نے تو بیٹھتے ہی مجھ پر سوالات کی بوچھاڑ کر دی۔ حبشہ کہاں ہے، کیسا ہے ، وہاں کے درخت کیسے ہوتے ہیں، پہاڑ کیسے ہوتے ہیں، پھول کیسے ہوتے ہیں، چڑیاں کیسی ہوتی ہیں۔ میں بے چارہ کیا جواب دیتا۔ میں نے تو حبشہ کبھی دیکھا ہی نہیں تھا۔ اِدھر اُدھر کے جواب دیتا رہا۔

اتنے میں ام کلثومؓ نے کھجوروں کی ایک ٹوکری لا کر رسولِ اکرمﷺ کے سامنے رکھ دی۔ حضورؐ نرم نرم، پکی پکی کھجوریں انگلیوں سے دبا دبا کر دیکھتے اور مجھے دیتے جاتے تھے۔ خود کھانے کے لئے جو کھجور بھی ہاتھ میں آتی کھا لیتے تھے۔
محرم میں ایس اوپیز پر عملدرآمد نہ کرنے کی صورت میں کورونا وبا دوبارہ پھیل سکتی ہے،این سی او سی نے انتباہ جاری کردیا

پھر خدیجہؓ نے ہمارے لئے بکریوں کا تازہ دودھ منگوایا۔ خدیجہؓ اپنے شوہر سے پندرہ سال بڑی تھیں۔ دراز قد، خوش خرام، خوش مزاج، پُروقار۔ اس عمر میں بھی وہ ایک خوبصورت خاتون تھیں۔ وہ پچیس سال تک حضورﷺ کے عقد میں رہیں اور جب تک انتقال نہیں فرمایا، حضورﷺ نے دوسرا نکاح نہیں کیا اور نہ کبھی اس خواہش کا اظہار فرمایا۔ خدیجہؓ کے انتقال کے وقت رسالتمابﷺ کی عمر پچاس سال تھی۔ دونوں کا آپس میں بے حد پیار تھا۔ زندگی بڑی خوشیوں میں بسر ہو رہی تھی ۔ ان کے کوئی اولاد نرینہ نہیں تھی۔ دو بیٹے پیدا ہوئے تھے۔ قاسم اور عبداللہ، لیکن اُن کا صغر سنی ہی میں انتقال ہو گیا تھا۔ قاسم حضورﷺ کی سب سے پہلی اولاد تھے۔ زینب سے بھی پہلے۔ انہیں کے نام پر آپﷺ کی کنیت ابوالقاسم پڑی۔ عبداللہؓ سب سے چھوٹے تھے، فاطمہؓ سے بھی۔

اب دن ڈھلنے لگا تھا، سائے دراز ہوتے جا رہے تھے۔ باہر تھوڑی سی ہوا چلنی شروع ہو گئی تھی اور مکہ جو دھوپ کی حدت میں دم سادھے پڑا تھا، آہستہ آہستہ بیدار ہونے لگا تھا۔ مکہ ہوا کے جھونکوں سے بیدار ہوتا ہے۔ گرمی میں اتنی گھٹن ہوتی ہے کہ سانس لینا بھی دوبھر ہو جاتا ہے۔ ہوا چلی تو سب نے گہرے گہرے سانس لے کر اُس کا خیر مقدم کیا۔ رسولِ کریمﷺ نے فرمایا:

’’چلو باہر بیٹھتے ہیں۔ صحن میں موسم بہتر ہو گا۔‘‘

میں اٹھنے کو تو اٹھ گیا لیکن اٹھتے ہی مجھے احساس ہوا کہ میں تو تقریباً اپاہج ہوں۔ میں اپنا بوجھ نہیں سنبھال پا رہا تھا۔ لڑکھڑا کر گرنے ہی والا تھا کہ ابوبکرؓ نے لپک کر مجھے سہارا دیا اور اپنے بازوؤں میں سنبھال کر مجھے دوبارہ بٹھا دیا۔ خدیجہؓ نے یہ صورتِ حال دیکھی تو بیٹیوں کو آواز دے کر کہا کہ کمبل اور گرم تیل لے آئیں۔ لیکن محمدﷺ کے پاس ایک اور علاج تھا۔ انہوں نے فرمایا۔

’’اٹھنے کی کوشش کرو بلال! خون کو گردش میں آنے دو۔‘‘

یہ کہہ کر انہوں نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ میں دیا۔ میں اپنی ٹانگیں سیدھی نہیں کر پا رہا تھا، اُن پر وزن ڈالنے کا تو سوال ہی نہیں تھا۔ انہوں نے آہستہ آہستہ مجھے کھینچ کر اٹھانے کی کوشش کی اور میں اُن کا ہاتھ تھامے اوپر اٹھتا چلا گیا۔ اس بار جب میں کھڑا ہوا تو اپنا سارا درد وہیں چٹائی پر ہی چھوڑ آیا۔

محمدﷺ کبھی معجزے نہیں دکھاتے تھے۔ انہیں بیماروں کو شفایاب کرنے کا کوئی دعویٰ نہیں تھا۔ وہ مردوں کو زندہ نہیں کرتے تھے۔ پانی پرچل کر نہیں دکھاتے تھے۔ لوہے کو پانی پر تیرا کر لوگوں کو حیرت میں مبتلا نہیں کرتے تھے اور نہ زخموں سے نڈھال غلاموں کا درد رفع کرنے کے لئے کوئی اعجاز دکھاتے تھے۔ اُس شام بھی جب انہوں نے مجھے اٹھایا اور اُن کے ہاتھ کے لمس سے میرا سارا درد دور ہو گیا تو انہوں نے کوئی معجزہ نہیں دکھایا تھا۔ وہ ان باتوں سے بہت بلند تھے۔

انہوں نے صرف اتنا کیا کہ مجھے تکلیف کو برداشت کرنے کی طاقت عطا کی۔ یہ اُن کا وصف تھا کہ وہ ہر شخص کے اندر چھپی ہوئی قوتوں اور صلاحیتوں کو دیکھ لیتے تھے اور اُسے اُن کا شعور دے دیتے تھے۔ جیسے ہی انہوں نے محسوس کیا کہ ہر شخص کے اندر فطری طور پر رحم کا جذبہ موجود ہے تو انہوں نے سب کو اس کا ادراک کرا دیا اور اس طرح انسان کی یہ فطری خوبی اُبھر کر سامنے آ گئی اور زندگی کا روزمرہ بن گئی۔(جاری ہے )

حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر11 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

موضوعات

تبصرے کیجئے

Click here to post a comment

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.