بچھڑنے والے ہمارے ہاتھوں میں

بچھڑنے والے۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمارے ہاتھوں میں ایک دُوجے کے لمس تک کی مہک نہیں ہے
تو کیا ہوا ہے
محبتوں میں بدن کی قُربت کا جو تصور زمانے کا ہے
وہ سب نجس ہے
فقط ہوس ہے
بچھڑنے والے
تو یہ کیا کم ہے ہماری آنکھوں میں ایک دُوجے کے ڈھیروں آنسو بھرے ہبوئے ہیں
یہ کچھ دِنوں کی حسیں رفاقت دلوں میں اچھے دنوں کی یادوں کا عکس بن کر رہا کرے گی
بچھڑتے لمحے ہمارے قدموں کی لڑکھڑاہٹ
ہمارے لہجوں کی کپکپاہٹ ہماری آنکھوں سے اشک بن کر بہا کرے گی
بچھڑنے والے
ہماری آنکھوں میں قُربتوں کی جھلک نہیں ہے تو کیا ہوا ہے
ہمارے ہاتھوں میں ایک دُوجے کے لمس تک کی مہک نہیں ہے تو کیا ہوا ہے

میثم علی آغا

موضوعات

تبصرے کیجئے

Click here to post a comment

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.