بشیر بدر

غزل

وہ صورت گرد غم میں چھپ گئی ہو

وہ صورت گرد غم میں چھپ گئی ہو بہت ممکن یہ وہ ہی آدمی ہو میں ٹھہرا آبشار شہر پر فن گھنے جنگل کی تم بہتی ندی ہو بہت مصروف ہے انگشت نغمہ مگر تم تو ابھی تک بانسری

غزل

مری نظر میں خاک تیرے آئنے پہ گرد ہے

مری نظر میں خاک تیرے آئنے پہ گرد ہے یہ چاند کتنا زرد ہے یہ رات کتنی سرد ہے کبھی کبھی تو یوں لگا کہ ہم سبھی مشین ہیں تمام شہر میں نہ کوئی زن نہ کوئی مرد ہے خدا

غزل

سب کا چہرہ تیرے جیسے کیوں ہے

سب کا چہرہ تیرے جیسے کیوں ہے یہ مجھے وہم سا ہوتا کیوں ہے جب کوئی عیب نہیں ہے تجھ میں آئینہ دیکھ کے ڈرتا کیوں ہے مشورہ یہ بھی تو ہے دنیا کا کوئی اچھا ہے تو اچھا

غزل

شام آنکھوں میں آنکھ پانی میں

شام آنکھوں میں آنکھ پانی میں اور پانی سرائے فانی میں جھلملاتے ہیں کشتیوں میں دیے پل کھڑے سو رہے ہیں پانی میں خاک ہو جائے گی زمین اک دن آسمانوں کی آسمانی میں وہ

غزل

شعلۂ گل گلاب شعلہ کیا

شعلۂ گل گلاب شعلہ کیا آگ اور پھول کا یہ رشتہ کیا تم مری زندگی ہو یہ سچ ہے زندگی کا مگر بھروسا کیا کتنی صدیوں کی قسمتوں کا میں کوئی سمجھے بساط لمحہ کیا جو نہ

غزل

صبح کا جھرنا ہمیشہ ہنسنے والی عورتیں

صبح کا جھرنا ہمیشہ ہنسنے والی عورتیں جھٹپٹے کی ندیاں خاموش گہری عورتیں معتدل کر دیتی ہیں یہ سرد موسم کا مزاج برف کے ٹیلوں پہ چڑھتی دھوپ جیسی عورتیں سبز نارنجی

غزل

تاروں بھری پلکوں کی برسائی ہوئی غزلیں

تاروں بھری پلکوں کی برسائی ہوئی غزلیں ہے کون پروئے جو بکھرائی ہوئی غزلیں وہ لب ہیں کہ دو مصرعے اور دونوں برابر کے زلفیں کہ دل شاعر پر چھائی ہوئی غزلیں یہ پھول

غزل

مری زباں پہ نئے ذائقوں کے پھل لکھ دے

مری زباں پہ نئے ذائقوں کے پھل لکھ دے مرے خدا تو مرے نام اک غزل لکھ دے میں چاہتا ہوں یہ دنیا وہ چاہتا ہے مجھے یہ مسئلہ بڑا نازک ہے کوئی حل لکھ دے یہ آج جس کا ہے

غزل

خون پتوں پہ جما ہو جیسے

خون پتوں پہ جما ہو جیسے پھول کا رنگ ہرا ہو جیسے بارہا یہ ہمیں محسوس ہوا درد سینے کا خدا ہو جیسے یوں ترس کھا کے نہ پوچھو احوال تیر سینے پہ لگا ہو جیسے پھول کی

غزل

بے تحاشا سی لاابالی ہنسی

بے تحاشا سی لاابالی ہنسی چھن گئی ہم سے وہ جیالی ہنسی لب کھلے جسم مسکرانے لگا پھول کا کھلنا تھا کہ ڈالی ہنسی مسکرائی خدا کی محویت یا ہماری ہی بے خیالی ہنسی کون

غزل

فلک سے چاند ستاروں سے جام لینا ہے

فلک سے چاند ستاروں سے جام لینا ہے مجھے سحر سے نئی ایک شام لینا ہے کسے خبر کہ فرشتے غزل سمجھتے ہیں خدا کے سامنے کافر کا نام لینا ہے معاملہ ہے ترا بدترین دشمن سے

غزل

یہ زرد پتوں کی بارش مرا زوال نہیں

یہ زرد پتوں کی بارش مرا زوال نہیں مرے بدن پہ کسی دوسرے کی شال نہیں اداس ہو گئی ایک فاختہ چہکتی ہوئی کسی نے قتل کیا ہے یہ انتقال نہیں تمام عمر غریبی میں با وقار

غزل

اک پری کے ساتھ موجوں پر ٹہلتا رات کو

اک پری کے ساتھ موجوں پر ٹہلتا رات کو اب بھی یہ قدرت کہاں ہے آدمی کی ذات کو جن کا سارا جسم ہوتا ہے ہماری ہی طرح پھول کچھ ایسے بھی کھلتے ہیں ہمیشہ رات کو ایک اک

غزل

ذروں میں کنمناتی ہوئی کائنات ہوں

ذروں میں کنمناتی ہوئی کائنات ہوں جو منتظر ہے جسموں کی میں وہ حیات ہوں دونوں کو پیاسا مار رہا ہے کوئی یزید یہ زندگی حسین ہے اور میں فرات ہوں نیزہ زمیں پہ گاڑ کے

غزل

کوئی لشکر کہ دھڑکتے ہوئے غم آتے ہیں

کوئی لشکر کہ دھڑکتے ہوئے غم آتے ہیں شام کے سائے بہت تیز قدم آتے ہیں دل وہ درویش ہے جو آنکھ اٹھاتا ہی نہیں اس کے دروازے پہ سو اہل کرم آتے ہیں مجھ سے کیا بات

غزل

پتھر کے جگر والو غم میں وہ روانی ہے

پتھر کے جگر والو غم میں وہ روانی ہے خود راہ بنا لے گا بہتا ہوا پانی ہے اک ذہن پریشاں میں خواب غزلستاں ہے پتھر کی حفاظت میں شیشے کی جوانی ہے دل سے جو چھٹے بادل

غزل

میرے سینے پر وہ سر رکھے ہوئے سوتا رہا

میرے سینے پر وہ سر رکھے ہوئے سوتا رہا جانے کیا تھی بات میں جاگا کیا روتا رہا شبنمی میں دھوپ کی جیسے وطن کا خواب تھا لوگ یہ سمجھے میں سبزے پر پڑا سوتا رہا

غزل

پیار کی نئی دستک دل پہ پھر سنائی دی

پیار کی نئی دستک دل پہ پھر سنائی دی چاند سی کوئی صورت خواب میں دکھائی دی کس نے میری پلکوں پہ تتلیوں کے پر رکھے آج اپنی آہٹ بھی دیر تک سنائی دی ہم غریب لوگوں کے

غزل

جب سحر چپ ہو ہنسا لو ہم کو

جب سحر چپ ہو ہنسا لو ہم کو جب اندھیرا ہو جلا لو ہم کو ہم حقیقت ہیں نظر آتے ہیں داستانوں میں چھپا لو ہم کو خون کا کام رواں رہنا ہے جس جگہ چاہو بہا لو ہم کو دن

غزل

مری غزل کی طرح اس کی بھی حکومت ہے

مری غزل کی طرح اس کی بھی حکومت ہے تمام ملک میں وہ سب سے خوبصورت ہے کبھی کبھی کوئی انسان ایسا لگتا ہے پرانے شہر میں جیسے نئی عمارت ہے جمی ہے دیر سے کمرے میں

غزل

خاندانی رشتوں میں اکثر رقابت ہے بہت

خاندانی رشتوں میں اکثر رقابت ہے بہت گھر سے نکلو تو یہ دنیا خوب صورت ہے بہت اپنے کالج میں بہت مغرور جو مشہور ہے دل مرا کہتا ہے اس لڑکی میں چاہت ہے بہت ان کے

غزل

مان موسم کا کہا چھائی گھٹا جام اٹھا

مان موسم کا کہا چھائی گھٹا جام اٹھا آگ سے آگ بجھا پھول کھلا جام اٹھا پی مرے یار تجھے اپنی قسم دیتا ہوں بھول جا شکوہ گلہ ہاتھ ملا جام اٹھا ہاتھ میں چاند جہاں

غزل

سنسان راستوں سے سواری نہ آئے گی

سنسان راستوں سے سواری نہ آئے گی اب دھول سے اٹی ہوئی لاری نہ آئے گی چھپر کے چائے خانے بھی اب اونگھنے لگے پیدل چلو کہ کوئی سواری نہ آئے گی تحریر و گفتگو میں کسے

غزل

پھول برسے کہیں شبنم کہیں گوہر برسے

پھول برسے کہیں شبنم کہیں گوہر برسے اور اس دل کی طرف برسے تو پتھر برسے کوئی بادل ہو تو تھم جائے مگر اشک مرے ایک رفتار سے دن رات برابر برسے برف کے پھولوں سے روشن

Advertisement

ہمارا فیس بک پیج

Blog Stats

  • 21,330 hits

Advertisement

Advertisement

Advertisement