پھر آج ایک بار طبیعت ہوئی بحال

پھر آج ایک بار طبیعت ہوئی بحال
پھر آج مجھ سے آپ نے پوچھا ہے میرا حال

پھر آج کل عروج پہ ہے خوش طبیعتی
پھر آج کل ہے رابطے میں کوئی خوش خصال

پھر اج یاد آئی ہے سردی کی ایک رات
پھر آج یاد آئی کسی کی وہ گرم شال

پھر آج میرے سینے پہ سر رکھ کے سوئیے
پھر آج میرے زخمِ جگر کا ہو اندمال

پھِر آج اے خدا ! دلِ نازک کی خیر ہو
پھِر آج بن سنور کے وہ آیا ہے خوش جمال

پھِر آج بن کے بیٹھے ہیں، مہمان ہم تِرے
پھِر آج لے کے بیٹھے ہیں ‘دو گھونٹ کا سوال’

پھر آج اُس نے چھیڑ دیے میرے دل کے تار
پھر آج اُس کی فون پہ دیکھی ہے “مسڈ کال”

پھر آج ایک نعرہءمستانہ ماریے
پھر آج مست ہوئیے، اور ڈالیے دھمال

پھر آج جی میں آئی ہے مشقِ سُخن کریں
پھر آج جی میں ہے کہ دکھائے قلم، کمال

پھِر آج ہاتھ باندھے کھڑے ہیں غزل کے شعر
پھِر آج دشت چھوڑ کے آیا ہے اِک غِزال

پھر آج دل نکال کے کاغذ پہ رکھ دیا
پھر آج شعر لکھے ہیں عالم نے باکمال

م ش عالم

موضوعات