ٹوٹ کر نیند نے آنکھوں کا بھرم توڑ دیا

ٹوٹ کر نیند نے آنکھوں کا بھرم توڑ دیا
صبح کے شور میں اک خواب نے دم توڑ دیا

پھینک کر سنگِ خموشی کسی دیوانے نے
گنگناتی ہوئی ندی کا ردھم توڑ دیا

اک صدی بیچ سے غائب ہوئی آوازوں کی
ماترے گِنتے ہوئے وقت نے سم توڑ دیا

میرے رستے کے علاوہ بھی کئی رستے تھے
کیوں قدم رکھ کے مرا نقشِ قدم توڑ دیا

کس نے دستار لپیٹی پئے تسکینِ جہاں
کس نے وہ سلسلۂ جاہ و حشم توڑ دیا

کثرتِ جذب میں دوری کو تسلسل دے کر
عشق نے وصل کے ماروں پہ ستم توڑ دیا

اس نے پوچھا کہ کوئی آخری خواہش آزر
میں نے اک نام لکھا اور قلم توڑ دیا

دلاورعلی آزر

موضوعات