معاشرے میں آگے بڑھنے کا’’ راز‘‘

معاشرے میں آگے بڑھنے کا’’ راز‘‘
(قلم کلامی:قاسم علی شاہ)
بحیثیتِ قوم ہمارا’’آئی کیو‘‘ لیول دیگر اقوام سے بہت زیادہ ہے مگرہم میں چند اخلاقی کمزوریاں ایسی ہیں ،جن میں آج کے ترقی یافتہ دور میں بھی ہم ان سے پیچھے ہی ہیں۔ان میں ایک اخلاقی کمزوری ’’وعدے کو پورا نہ کرنا ‘‘ہے۔اپنی ذات ،صلاحیت اور قابلیت پر ہمیں بہت زیادہ اعتما د ہوتا ہے اور اپنے خیال میں ہم سب ’’لائق و فائق ‘‘ ہوتے ہیں لیکن جب معاملہ کسی دوسرے فرد یا معاشرے کے ساتھ ہو تو پھر ہم ’’زیرو‘‘ واقع ہوتے ہیں ۔ چنانچہ آپ نے بارہا دیکھا ہوگا کہ اس معاشرے میں ’’ایفائے عہد‘‘ کا بڑافقدان ہے ۔بہت سارے لوگ کسی کام کو شروع تو کرلیتے ہیں مگر اس کو پورا نہیں کرتے ۔انسان ، دوسرے انسانوں کا محتاج ہے ۔یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی سپرمین بھی بن جائے تو اس کو دوسرے انسانوں پر بھروسا کرنا پڑتاہے۔آپ اپنے ڈرائیور ، اپنے سسٹم اور اپنے بڑے پر بھروسا کرنے پر مجبور ہیں لیکن دوسری طرف جب ہم دیکھتے ہیں کہ معاشرے میں عہد وپیمان اور کاموں کو پورا نہ کرنے کا معیار بہت خراب ہے تو پھر انسان حوصلہ ہار بیٹھتا ہے اور کہتا ہے :’’میں اکیلا ہی ٹھیک ہوں ۔‘‘مردم بیزار انسان بھی وہی ہوتاہے جودوسرے انسانوں سے تھک چکا ہو۔
وعدہ ایفا کرنے والا کون؟
اپنے عہد کووہی انسان پوراکرسکتا ہے جس کے اندر مضبوط قوتِ ارادی (Will power)ہو۔مضبوط قوتِ ارادی کا مطلب یہ ہے کہ جب انسان ایک قدم اٹھانے کا فیصلہ کرلے تو پھر اس کو کرگزرے۔ Will powerایک کمال کی چیز ہے ۔یہ انسان کو کسی بھی ارادے،فیصلے اور مقام پر کھڑا ہونے اور ڈٹ جانے کے لیے پورا پورا تیار کرتی ہے ۔کسی جگہ پر آپ کے پیر جوجمتے ہیں اس کے پیچھے آپ کی Will powerہوتی ہے۔ Will power کے پٹھے انسان کے ذہن کے اندر ہیں ۔یہ کوئی جسم نہیں رکھتے ،بار بار کے وعدے توڑے ،بنائے ،کام شروع کرکے ادھورا چھوڑے ،خواب دیکھے پھر ادھورے چھوڑے ،کتاب شروع کی درمیان میں چھوڑدی ۔یہ سارے وہ کام ہیں جن سے آپ کے یہ مسلز بنتے ہیں ۔اب ان کو مضبوط کرنا ہے یا کمزور ، یہ آپ پر منحصر ہوتا ہے۔آپ میں سے اکثر لوگوں نے دیکھا ہوگا کہ جو لوگ نشے کی لت میں گرفتار ہوتے ہیں وہ اپنے گھر کی ساری چیزیں بیچ دیتے ہیں۔آپ میں سے کسی نے کچھ دنوں کے لیے اگر اپنا مکان چوکیدار کے بغیر چھوڑا ہو تو معلوم ہواہوگا کہ گھر کے پائپ اور نلکے تک اتر جاتے ہیں ۔اب یہ کون کرتاہے ؟یہ وہی لوگ ہوتے ہیں جو نشے کو پورا کرنے کے لیے کسی بھی حدتک جاسکتے ہیں۔کیونکہ ان میں Will power نہیں ہوتی ،ان کو اپنی ذات پر کنٹرول نہیں ہوتا۔ ان کے ارادے کی طاقت سلب (ختم) ہوچکی ہوتی ہے۔
دین اسلام کے سارے فلسفے کا خلاصہ ہی یہی ہے کہ انسان اپنے قوتِ ارادی کومضبوط کرلے اور اس کی مثال یوں سمجھیں : حکم ہے کہ ’’غصے کی حالت میں فیصلہ نہ کرو۔نشے کی حالت میں نماز کے قریب بھی مت جاؤ!‘‘کیونکہ جو حالت انسان کے غصے میں ہوتی ہے ،نشے میں بھی اس کی مائنڈ کی فریکوئنسی اسی حالت پر ہوتی ہے جس سے اس کے فیصلے کی قوت ختم ہوجاتی ہے۔
علامہ محمد اقبال ؒ اور ان کی Will Power:
مارفین یہ ایک نشہ ہے جو 1930کے بعد دریافت ہوا ۔اس سے پہلے یہ اتنا عام نہیں تھا اورنہ ہی انجکشن کے طورپر لیا جاتا تھا ۔ڈاکٹر محمد اقبال ؒ کی زندگی کے آخری ایام میں جب ان کی حالت بہت خراب ہوگئی اور تکلیف شدت اختیار کرگئی تو ڈاکٹروں نے ان کو مارفین کا انجکشن تجویز کیا۔مگر انہوں نے صاف انکار کیا۔علامہ صاحب کا کہنا تھا کہ’’ موت کا تجربہ میں پورے ہوش و حواس کے ساتھ کرنا چاہتا ہوں اور وہ شعور جس کے ساتھ میں نے عشق کیا،وہ کلمہ جس پر میں ساری زندگی کاربند رہا ،ایسا نہ ہو کہ کہیں نشے کی حالت میں میں اس کو چھوڑ دوں۔‘‘انہوں نے درد قبول کرلیا لیکن اپنے کلمے اور شعور کو ختم کرنے پر راضی نہ ہوئے۔
ارادہ آپ کا اسلام ہے اوریہی آپ کا دین ہے۔جس میں ارادہ نہ ہووہ دنیا کے لیے بے کار ہوجاتاہے ۔آپ نے دیکھا ہوگا کہ نشئی کوکوئی بھی انسان نوکری پر نہیں رکھتا ۔وجہ یہی ہے کہ اس کے ارادے کا کوئی بھروسا نہیں ۔وہ اگر وفادار ہے تو اتنا ہی خوفناک بھی ہے۔مرنے پر آئے گا تو آپ کے لیے مرجائے گااور بیچنے پر آئے گا تو آپ کی موٹر ،ٹوٹی حتیٰ کہ ہر چیز بیچ دے گا،یعنی جب اس کو نشے کی طلب ہوگی تو اس کی یہ سوچ کہ آپ اس کے مالک ہیں ،ایک سیکنڈ میں ختم ہوجائے گی۔
دنیا میں موجود وہ تمام جانور جن کو تربیت دی جاسکتی ہے ،ان کو رکھنے کی شرعی طورپر اجازت ہے،کیونکہ وہ یہ حواس رکھتا ہے کہ یہ انسان میرا مالک اور میں اس کا پالتو ہوں ۔یہی وجہ ہے کہ آپ بھیڑیئے کو نہیں پال سکتے کیونکہ بھوک میں اس کی جبلت اور حیوانیت اس پر اس قدر حاوی ہوجاتی ہے کہ وہ اپنے مالک کو کھا سکتا ہے۔جس کی پہچان کی قوت ختم ہو تو اس کا مطلب ہے کہ اس کا ارادہ کمزور ہے اور اس کے پاس Will power نہیں ہے۔
معاشرے کے مختلف زاویے
اس معاشرے کو ہم صرف ایک آنکھ سے نہیں دیکھ سکتے ، اس کے لیے ہمیں بہت سارے زاویوں سے دیکھنا پڑتاہے تب سمجھ آتی ہے کہ ہمارے ہاں کیا کچھ ہورہا ہے ۔ایک زاویہ یہ ہے یہاں نشہ بڑھ گیاہے اورتازہ رپورٹ کے مطابق نشے میں پوری دنیا میں نیویارک کے بعد کراچی کادوسرا نمبر ہے اور نشوں میں بھی ’’آئس ‘‘ کا نشہ روز بروز بڑھ رہاہے۔یہاں تک کہ ایک خاتون پریشان حالت میں بتارہی تھی کہ اس کا گیارہ سال کا بچہ ’’آئس ‘‘ کا نشہ کرتاہے۔اب جب اتنی چھوٹی عمر میں بچے نشہ کرنے لگیں اور نشہ بھی آئس کا جو کہ یقینی موت ہے ،تو پھر ہم بحیثیت قوم اپنے آپ کا محاسبہ کرکے دیکھ سکتے ہیں کہ ہم کس قدر کمزور ہوچکے ہیں ۔
کام کو درمیان میں ہی چھوڑدینا:
ایک اور چیز جو ہمارے معاشرے میں بہت زیادہ پروان چڑھ رہی ہے وہ یہ کہ یہاں ’’بھگوڑے‘‘ بہت زیادہ ہیں۔ہر شخص اپنی ذمہ داریوں اور فرائض سے بھاگ رہا ہے ،حالانکہ اگر ایک انسان کسی جگہ نوکری کررہا ہے تو وہاں سے نکلنا کچھ بھی مشکل نہیں ،وہ صرف دو منٹ میں استعفیٰ دے کر وہاں سے جاسکتا ہے مگر اخلاقیات کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے عہد و پیمان کو پورا کرے اوراحساسِ ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے اس ادارے کے قانون کی پابندی کرتے ہوئے وہاں سے جائے۔
خلوص کی قلتـ:
ہمار ے معاشرے میں اشیاء سے لے کر انسانوں تک ہر جگہ خلوص کی کمی ہے۔بھائی صرف مفاد کے وقت بھائی ہے ویسے نہیں ۔میں نے بڑے بڑے لوگوں کو دیکھا ہے کہ جب تک وہ عہدوں پر تھے ،ہر کوئی ان کی خدمت میں اپنا آپ کھپارہاہوتا ہے لیکن جب وہ اترتا ہے تو پھر اس کو کوئی پوچھتا بھی نہیں ۔
مادہ پرستی:
ایک اور زاویے سے سماج کو دیکھتے ہیں تو یہاں مادہ پرستی بہت بڑھ گئی ہے۔لوگ انسان کو پیسوں اور مادیت کے ترازو میں تولتے ہیں۔ ہر شخص یہی سوچتا ہے کہ سامنے بیٹھے شخص کے پاس پیسے کتنے ہیں ؟اس کی حیثیت کیا ہے؟یہاں عہدے اور طاقت کو سلیوٹ کئے جاتے ہیں انسانوں کو نہیں ۔جیسے شیخ سعدیؒ جب ایک دعوت میں گئے تو دربانوں نے اندر جانے نہیں دیاکہ معلوم نہیں یہ فقیرکہاں سے اٹھ کر آگیا ہے توشیخ سعدی واپس گئے اوراچھا لباس پہن کر آگئے تو فوراً سارے دروازے کھل گئے ۔وہ کھانے پر بیٹھے تو اپنے لباس کے کفوں کو شوربے میں ڈبوتے رہے ۔میزبانوں نے پوچھا: ’’یہ آپ کیا کررہے ہیں؟‘‘ انہوں نے جواب دیا :’’آپ لوگوں نے مجھے نہیں اس لباس کو دعوت میں آنے دیاہے،اب یہی کھائے گا۔‘‘
ہم لوگوں کا بھی یہی حال ہے ،اسی وجہ سے ہمیں کوئی خالص بندہ نہیں ملتا۔ اس سماج میں انسان کا دوسرے انسان پر اعتماد کم ہورہا ہے۔یہاں پیمائش مادی چیزوں کے پیمانے سے ہوتی ہے نہ کہ اخلاق وکردار سے ۔آنے والے وقتوں میں پاکستان کا مسئلہ بجلی،پانی اور گیس کا نہیں ہے بلکہ قابل بھروسا انسانوں کا فقدان ہے ۔
سوسائٹی ایک کنواں:
میں نے ایک چیز اورنوٹ کی ۔یہاں ہرانسان آپ کی ترقی اور اچھی کارکردگی پر طنز کرتاہے۔میں اس سوسائٹی کو کنواں سمجھتاہوں ۔اس میں سے جو کوئی بھی نکلنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کو کہا جاتا ہے کہ’’ تمہارا دماغ خراب ہے ۔اچھے بھلے تو کنویں میں پڑے ہو پھر کیا ضرورت ہے باہر نکلنے کی ۔ ‘‘وہ انسان پھرکوشش کرنے لگتا ہے تو اس کی ہمت کو توڑا جاتاہے ،اس کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے کہ’’ نہیں یہ تیرے بس کی بات نہیں ،تو نہیں کرسکتا۔‘‘اس سے اگلہ مرحلہ ،جب وہ اس کنویں سے اپنی محنت کے بل پر نکل آتاہے تو کنویں والے اس پر طنز و تنقید کے نشتر برسانے لگ جاتے ہیں۔
اس سوسائٹی میں پرسکون وہی ہے جو کنویں کے اندر ہے اوراگر آپ خوش قسمتی سے کنویں سے باہر نکل گئے تو آپ ’’انوکھے‘‘ ہیں اور انوکھے انسان کو یہ معاشرہ بڑی مشکل سے قبول کرتا ہے۔جیسے واصف علی واصف کا قول ہے کہ ’’سچے کو سارے جھوٹے پتھر مارتے ہیں ۔‘‘
قول کا پکا انسان،عظیم بنتا ہے
یاد رکھیں ! جس انسان نے اپنی زندگی میں بار بار اپنا وعدہ توڑا ہوتا ہے اس کے اندر قوتِ فیصلہ (Will power) نہیں ہوتا ۔وہ ایک عام انسان تو بن سکتا ہے مگر’’عظیم‘‘ نہیں بن سکتا۔عظیم وہی ہوتا ہے جوبرس ہا برس جیل کاٹنے کے بعد بھی وہی نظریہ رکھے جو جیل جانے سے پہلے تھا ۔وہ جس جرم کی پاداش میں جیل گیا ، جب باہر نکلا تو اس نظریے کو مزید تقویت مل چکی تھی ، اور پھر ایک وقت ایسا آیا کہ امریکی صدر باراک اوبامابھی جیل کے اس بیرک میں گیا جہاں نیلسن منڈیلانے زندگی کے ستائیس سال گزارے تھے ۔امریکی صدر وہاں اپنے تاثرات میں لکھتا ہے : میں اس ’’کمٹمنٹ‘‘ کو سلام کرتاہوں جس کے ساتھ نیلسن منڈیلا نے ستائیس برس جیل کاٹی۔‘‘
مقام بنانے کے زیادہ مواقع
جس معاشرے میں اتنا بڑا قحط الرجال ہو تو وہاں جگہ بنانے کے مواقع بھی زیادہ ہوتے ہیں ۔یہاں ’’تھوڑا اچھا‘‘بھی بہت اچھا ہے۔اگر آپ کمنٹڈ(Commented) ہیں ، اگر تھوڑے سے خوش اخلاق ہیں،اگر آپ میں واقعی قربانی کا جذبہ ہے تو آپ 98فی صد لوگوں سے الگ ہیں۔یہاں آپ اپنی ایمانداری سے ایک منفرد مقام بناسکتے ہیں۔آپ اپنے سچے پن اور وعدے کو ایفا ء کرکے خود کو نمایاں بناسکتے ہیں ۔ کسی بھی کاروبار و روزگار میں لالچ کو چھوڑکر اور خوفِ خداپیدا کرکے مال و دولت میں اضافہ کرسکتے ہیں۔مادہ پرستی کے بجائے اخلاص و انسانیت کو ترجیح دے کر بہترین انسان بن سکتے ہیں۔خدمت کو اپنا شعار بناکر اپنے رزق و عمر میں برکت پیدا کرسکتے ہیں ۔اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ،بانٹنے کی صفت پیدا کرکے نعمتوں کی فراوانی حاصل کرسکتے ہیں۔امیری ، غریبی کا فرق نکال کراور ہر انسان سے پیار و محبت کرکے ’’ہر دلعزیز‘‘ شخصیت بن سکتے ہیں۔جس کے بعد اس گلے کی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی کہ
’’معاشرہ برا ہے اور یہاں آگے بڑھنے کے مواقع ہی نہیں ہیں۔‘‘
گھٹاٹوپ اندھیرے میں ایک معمولی’’ دِیا‘‘بھی نمایاں مقام رکھتا ہے ،بس ’’دِیا‘‘ بننے کی دیر ہے ۔

موضوعات

تبصرے کیجئے

Click here to post a comment

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.