غم نے تڑپایا ہمارے شہر میں

غم نے تڑپایا ہمارے شہر میں
آگئے اٹھ کر تمھارے شہر میں

رات دیواروں سے لگ کے روتے ہیں
میرے جیسے غم کے مارے شہر میں

بام پر ہم نے سنائے رات بھر
قصے بچپن کے وہ سارے شہر میں

ابتدائے عشق ہے اور دوستوں !
ہیں نقابوں میں اشارے شہر میں

یاد بچپن کی دلاتے ہیں اویس
اڑ رہے ہیں جو غبارے شہر میں

اویس قرنی

موضوعات