اشعار جن میں لفظ اردو کا استمعال ہوا ہے

اردو ہے جس کا نام ہم جانتے ہیں داغ
سارے جہاں میں دھوم ہماری زبان کی ہے
..
نہیں کھیل اے داغ یاروں سے کہہ دو
کہ آتی ہے اردو زباں آتے آتے
…..
گیسوئے اردو ابھی منّت پذیرِ شانہ ہے
شمع یہ سودائیِ دل سوزئ پروانہ ہے

اہلِ ادب غنیمت جانیں قمرؔ کی ہستی
اک شمع جل رہی ہے اردو کی انجمن کی

( اُستاد قمرؔ جلالوی )
……

اردو کو اک رسالۂ الہام دوں ولی
لوگوں کو دورِ ہادیٔ عالم عطا کروں

( محمد ولی رازی )
….

خدا رکھے زباں ہم نے سنی ہے میر و مرزا کی
کہیں کس منہ سے ہم اے مصحفی اردو ہماری ہے

(غلام ہمدانی مصحفی)
….

تھا عرش پہ اک روز دماغِ اردو
پامالِ خزاں آج ہے باغِ اردو

غفلت تو ذرا قوم کی دیکھو کاظم
وہ سوتی ہے بجھتا ہے چراغِ اردو

( کاظم بنارسی )
….

مٹ جائیں گے مگر ہم مٹنے نہ دیں گے اس کو
ہے جا ن و دل سے پیاری ہم کو زباں ہماری

(اختر شیرانی)
….

اردو ہے میرا نام میں خسرو کی پہیلی
میں میر کی ہمراز ہوں غالب کی سہیلی

( اقبال اشعر )
….

ہر شخص کو زبانِ فرنگی کے باٹ سے
جو شخص تولتا ہے سو ہے وہ بھی آدمی

افسر کو آج تک یہ خبر ہی نہیں ہوئی
اُردو جو بولتا ہے سو ہے وہ بھی آدمی

(انور مسعود)
….

پوچھئے حضرتِ حالی سے وقارِ اردو
خیمہ زن باغ میں شبلی کے بہار اردو

سرسے کیفی کے نہ اترے گا خمارِ اردو
دل حسینی بھی ازل سے ہے نثار اردو

خوشہ چیں ہیں اسی گلشن کے منیف اور سہیل
سیکڑوں زندۂ جاوید ہیں اردو کی طفیل

( ڈاکٹر دل حسینی )(مئو،یوپی)

سب میرے چاہنے والے ہیں، میرا کوئی نہیں
میں بھی اِس ملک میں اُردُو کی طرح رہتا ہوں

( حسن کاظمی )
…..

یارانِ خوش مذاق نے اللہ کی پناہ
اردو کو بے قصور مسلمان کر دیا

(منور رانا )
…..

وہ اردو کیا ہے، یہ ہندی زباں ہے
کہ جس کا قائل اب سارا جہاں ہے

(مراد شاہ)

کچھ لوگوں کے خیال میں یہ وہ پہلا اردو شعر ہے جس میں لفظ اردو بطور اردو زبان کے آیا ہے۔ یاد رہے کہ مراد شاہ اور مصحفی کا دور تقریباً ایک ہی ہے۔
….

وہ گُلِ رنگیں ترا رخصت مثالِ بُو ہوا
آہ! خالی داغؔ سے کاشانۂ اُردو ہوا

(اقبال)

یا باہم پیار کے جلسے تھے، دستورِ محبت قائم تھا
یا بحث میں اُردو ہندی ہے یا قربانی یا جھٹکا ہے

(اقبال)

کس قدر نرم سی نازک سی ہے اردو کی طرح
صرف محسوس کیا کر اسے خوشبو کی طرح

( منصور آفاق )
….

سیکڑوں اور بھی دنیا میں زبانیں ہیں مگر
جس پہ مرتی ہے فصاحت وہ زباں ہے اردو

(نا معلوم)
….

تُو جانتا ہے ساری زبانیں تو کیا کرُوں
اُردو میری زَبان ہے اُردو میں بات کر

(نا معلوم)
…….

کہہ دو کہ نہ شکوہ لب مغموم سے نکلے
اُردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے

( رئیس امروہی )
….

فضا کیسی بھی ہو وہ رنگ اپنا گھول لیتا ہے
سلیقے سے زمانے میں جو اردو بول لیتا ہے

( سلیمؔ صدیقی )
….

سلیقے سے ہواؤں میں جو خوشبو گھول سکتے ہیں
ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اردو بول سکتے ہیں

(نامعلوم)
….

مرے کانوں میں مصری گھولتا ہے
کوئی بچہ جب اردو بولتا ہے

(مشتاق دربھنگوی)
….

ناز و انداز میں شائستہ سا وہ حسنِ نفیس
ہُو بہُو جانِ غزل ہے مری اردو کی طرح

( عطا تراب )
….

نسیمِ دہلوی، ہم موجدِ بابِ فصاحت ہیں
کوئی اردو کو کیا سمجھے کہ جیسا ہم سمجھتے ہیں

(اصغر علی خان نسیم دہلوی)
….

بچّو، یہ سبق آپ سے کل بھی میں سنوں گا
وہ آنکھ ہے نرگس کی جو ہرگز نہیں سوتی

عنقا ہے وہ طائر کہ دکھائی نہیں دیتا
اردو وہ زباں ہے کہ جو نافذ نہیں ہوتی

(انور مسعود)

….

اصفر بجا ہے جادوئے بنگال بھی مگر
اُردو زباں کے فیض سے جادو بیاں ہوں میں

(اصغر بنگالی)
….

گو لاکھ ہو رنگت پھولوں میں خوشبو جو نہیں تو کچھ بھی نہیں
اس ملک میں چاہے ہُن برسے اردو جو نہیں تو کچھ بھی نہیں

(جسٹس آنند نرائن مُلّا)
….

وہ دشمنِ اُردو ہیں وہ ہیں دشمنِ مِلّت
کرتے ہیں جو اُردو کی سلاست کو سبوتاژ

(اکبر لاہوری)
….

مِلا اردو کو اس کا حق نہ جمہوری نظام آیا
ہوئے پورے نہ جو وعدے کیے تھے ہم نے قائد سے

(سید قاسم جلال)
….

کانوں میں رس جو گھول دے اردو ہے وہ زباں
اردو فروغ پارہی بولو میاں !کہاں

خدمت میں رات دن ہے لگی کون انجمن
بزمِ سخن وراں ہے وہ،بزمِ سخن وراں

( منظور احمد )
….

اپنے محبوب کی خاطر تھا خدا کو منظور
ورنہ قرآن بھی اترتا زبانِ اردو

(اکبر الہ آبادی)
….

شہد و شکر سے شیریں اردو زبان ہماری
ہوتی ہے جس کی بولی میٹھی زبان ہماری

(الطاف حسین حالی)

وہ عطردان سا لہجہ مرے بزرگوں کا
رَچی بسی ہوئ اُردو زباں کی خوشبُو.

میری گھٹی میں پڑی تھی ہو کے حل اردو زباں
جو بھی میں کہتا گیا حسنِ بیاں بنتا گیا

(فراق گورکھپوری)
….

بعد نفرت پھر محبت کو زباں درکار ہے
پھر عزیزِ جاں وہی اردو زباں ہونے لگی

(یعقوب عامر)
….

بات کرنے کا حسیں طور طریقہ سیکھا
ہم نے اردو کے بہانے سے سلیقہ سیکھا

(منیش شکلا)
….

جو یہ کہے کہ ریختہ کیونکے ہو رشکِ فارسی
گفتۂ غالب ایک بار پڑھ کے اسے سنا کہ یوں

(مرزا غالب)

….

گفتگو ریختے میں ہم سے نہ کر
یہ ہماری زبان ہے پیارے

(میر تقی میر)

اردو زباں

یہ کیسا عشق ہے اردو زباں کا،
مزا گھلتا ہے لفظوں کا زباں پر
کہ جیسے پان میں مہنگا قمام گھلتا ہے
یہ کیسا عشق ہے اردو زباں کا۔۔۔۔
نشہ آتا ہے اردو بولنے میں
گلوری کی طرح ہیں منہ لگی سب اصطلاحیں
لطف دیتی ہے، حلق چھوتی ہے اردو تو، حلق سے جیسے مے کا گھونٹ اترتا ہے
بڑی ارسٹوکریسی ہے زباں میں
فقیری میں نوابی کا مزا دیتی ہے اردو
اگرچہ معنی کم ہوتے ہے اردو میں
الفاظ کی افراط ہوتی ہے
مگر پھر بھی، بلند آواز پڑھیے تو بہت ہی معتبر لگتی ہیں باتیں
کہیں کچھ دور سے کانوں میں پڑتی ہے اگر اردو
تو لگتا ہے کہ دن جاڑوں کے ہیں کھڑکی کھلی ہے، دھوپ اندر آ رہی ہے
عجب ہے یہ زباں، اردو
کبھی کہیں سفر کرتے اگر کوئی مسافر شعر پڑھ دے میرؔ، غالبؔ کا
وہ چاہے اجنبی ہو، یہی لگتا ہے وہ میرے وطن کا ہے
بڑی شائستہ لہجے میں کسی سے اردو سن کر
کیا نہیں لگتا کہ ایک تہذیب کی آواز ہے, اردو
( گلزار )
….

غریبِ شہر نے رکھی ہے آبرو ورنہ
امیرِ شہر تو اردو زبان بھول گیا

(ہاشم رضا جلالپوری)
….

چار صدیاں پہلے آیا اک انوکھا انقلاب
محفلِ فطرت میں اک ہنگامہ ہر سو ہو گیا

چاندنی، شبنم، شفق، نکہت، تجلی، کہکشاں
جب ہوئے یکجا تو ان کا نام اردو ہو گیا

( لتا حیا )
….

سینکڑوں اور بھی دنیا میں زبانیں ہیں مگر
جس پہ مرتی ہے فصاحت وہ زباں ہے اُردو

موج کوثر کی طرح نرم و رواِں ہے اردو
طبع دشمن پہ مگر پھر بھی گراں ہے اردو
….

ریختہ کاہے کو تھا اس رتبۂ اعلیٰ میں میرؔ
جو زمیں نکلی، اسے تا آسماں میں لے گیا

( میر تقی میرؔ )
….

ریختہ رتبے کو پہنچایا ہوا اس کا ہے
معتقد کون نہیں میرؔ کی استادی کا
….

کرتا ہے آبیاری لہو سے ادیب جو
وہ دل ہے ، جسم و جان ہے اردو زبان کا

آئیں رکاوٹیں جو ترقی میں اس کی کچھ
سمجھو یہ امتحان ہے اردو زبان کا

پائے گا جلد منزلِ مقصود بالیقیں
جاری جو کاروان ہے اردو زبان کا

عزت سخنورانِ ادب کی اسی سے ہے
شاعرؔ بھی ترجمان ہے اردو زبان کا

( شاعر علی شاعر )
….

یارب رہے سلامت اردو زباں ہماری
ہر لفظ پر ہے جس کے قربان جاں ہماری

مصری سی تولتا ہے ، شکر سی گھولتا ہے
جو کوئی بولتا ہے میٹھی زباں ہماری

ہندو ہو پارسی ہو عیسائی ہو کہ مسلم
ہر ایک کی زباں ہے اردو زباں ہماری

دنیا کی بولیوں سے مطلب نہیں ہمیں کچھ
اردو ہے دل ہمارا ، اردو ہے جاں ہماری

دنیا کی کل زبانیں بوڑھی سی ہو چکی ہیں
لیکن ابھی جواں ہے اردو زباں ہماری

اپنی زبان سے ہے عزت جہاں میں اپنی
گر ہو زباں نہ اپنی عزت کہاں ہماری

اردو کی گود میں ہم پل کر بڑے ہوئے ہیں
سو جاں سے ہم کو پیاری اردو زباں ہماری

آزاد و میر و غالب آئیں گے یاد برسوں
کرتی ہے ناز جن پر اردو زباں ہماری

افریقہ ہو عرب ہو امریکہ ہو کہ یورپ
پہنچی کہاں نہیں ہے اردو زباں ہماری

مٹ جائیں گے مگر ہم مٹنے نہ دیں گے اس کو
ہے جا ن و دل سے پیاری ہم کو زباں ہماری

(اختر شیرانی)
….

اردو کو آپ تھوپ رہے ہیں جو قوم پر
اردو نوازیوں کے زمانے گزر گئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

قوم کیسی کس کو اب اردو زباں کی فکر ہے
غم غلط کرنا ہے بس اور آب و ناں کی فکر ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کہا جو میں نے کہ ان کی ادا انوکھی ہے
کہا بتوں نے کہ اردو میاں کی چوکھی ہے
….

واللہ کیا زباں ہے اردو زباں ہماری
فطرت کی ترجماں ہے اردو زباں ہماری

آبا کی داستاں ہے اردو زباں ہماری
مظلوم کی فغاں ہے اردو زباں ہماری

ہندو بھی بولتے ہیں مسلم بھی بولتے ہیں
دو جسم ایک جاں ہے اردو زباں ہماری

تعمیر کی ہے اس کی خود کو مٹا مٹا کر
اسلاف کا نشاں ہے اردو زباں ہماری

میٹھا اک ایک جملہ پر کیف ہر مقالہ
الحق شکر فشاں ہے اردو زباں ہماری

الفاظ چاند تارے بن کر چمک رہے ہیں
رفعت میں آسماں ہے اردو زباں ہماری

غالبؔ نسیمؔ کیفیؔ چکبستؔ ذوقؔ سرشارؔ
ہر شخص کی زباں ہے اردو زباں ہماری

اک اک کتاب اس کی پھولا پھلا چمن ہے
گلزار بے خزاں ہے اردو زباں ہماری

منشی پریمؔ اس پر ہوتے نہ کیوں تصدق
مانی ہوئی زباں ہے اردو زباں ہماری

ہر آدمی کے دل میں گھر کر رہی ہے شاطرؔ
محبوب مہرباں ہے اردو زباں ہماری

(شاطر حکیمی)

موضوعات